یوکرین میں پھنسے پاکستانی طلبہ و طالبات اور حکومت کا رویہ


یوکرین میں پھنسے پاکستانی بے یارومددگار ہیں۔ ہمارے ایک سابق شاگرد طلال ڈار کے بھائی طلحہ آصف کا انٹرویو ایک چینل پر چل رہا ہے، جس میں وہ کہتے ہیں کہ وہ بڑی مشکل سے یوکرین سے اپنی مدد آپ کے تحت بذریعہ ٹرین پولینڈ پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ دنیا بھر کے سفارت خانے متحرک ہیں اور اپنے شہریوں کو جنگ زدہ علاقوں سے بحفاظت نکالنے کے لیے کوشاں ہیں مگر پاکستانی سفارت خانے کا عملہ ہی غائب ہے۔ بے سہارا طلبہ و طالبات ادھر رو رہے ہیں اور ان کے والدین اور رشتہ دار یہاں دہائی دے رہے ہیں۔ طالبات تک کے ساتھ انتہائی برا سلوک کیا جا رہا ہے۔ ایک طالبہ روتے ہوئے بتا رہی تھی کہ سفارت خانے نے جس اکلوتی بس کا انتظام کیا تھا اس نے بھی ہمیں پولینڈ کی سر حد سے تیس کلو میٹر دور بے یارومددگار چھوڑ دیا۔

دو سال قبل ووہان میں پھنسے پاکستانی طلبہ و طالبات، جن کی تعداد پانچ سو سے زائد تھی، کو بھی پاکستانی حکومت واپس لانے میں بری طرح ناکام ہوئی تھی۔ اس وقت ان طلبہ و طالبات میں میری بھی ایک بھتیجی پھنسی تھی۔ اس نے بتایا تھا کہ انڈین سفارت خانہ اپنے شہریوں کو فوراً وہاں سے نکالنے میں کامیاب ہو گیا تھا مگر پاکستانی حکومت نے اپنے طلبہ و طالبات کو مرنے کے لیے موت کے منہ میں چھوڑ دیا تھا۔ بھتیجی نے بتایا تھا کہ اس وقت انڈین سفارت خانے نے ہم سے بھی رابطہ کیا تھا کہ ہم آپ کو براستہ انڈیا پاکستان پہنچا دیتے ہیں مگر ہم نے ان کی یہ پیشکش شکریے کے ساتھ مسترد کردی تھی کیونکہ ہماری غیرت انڈیا کی مدد لینا گوارا نہیں کر رہی تھی۔

بھتیجی نے دکھ بھرے لہجے میں کہا کہ جن طلبہ و طالبات کو انڈیا نے بحفاظت اپنے ملک پہنچایا تھا ان میں مقبوضہ کشمیر کے بھی بہت سے طلبہ و طالبات تھے۔ جن میں بیشتر مسلمان تھے۔ مقبوضہ کشمیر کے طلبہ و طالبات نے ہمیں طعنہ دیا کہ آپ کی حکومت ووہان میں پھنسے اپنے پانچ سو طلبہ و طالبات کی حفاظت تو کر نہیں سکتی مگر انڈیا سے مقبوضہ کشمیر بھی مانگ رہی ہے جس کی آبادی لگ بھگ ایک کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔ بھتیجی نے کہا کہ ہمارے پاس مقبوضہ کشمیر کے مسلمان طلبہ و طالبات کے ان طعنوں کا کوئی جواب نہیں تھا۔

اگر ان بے یارومددگار طلبہ و طالبات میں وزیراعظم کی بہن علیمہ خان یا کسی فوجی افسر کا کوئی نور نظر پھنسا ہوتا تو بھی اس حکومت کا رویہ یہی ہوتا؟ علیمہ خان کو برف سے نکالنے کے لیے فوراً ہوائی جہاز پہنچ جاتا ہے مگر یوکرین کے بے نوا طلبہ و طالبات کے لیے کوئی نہیں پہنچتا۔ وزیراعظم روس کے بے وقت اور غیر ضروری دورے کے دوران روسی صدر سے کم از کم اتنی یقین دہانی تو حاصل کر سکتے تھے کہ وہ یوکرین میں پھنسے پاکستانیوں کے انخلا کا بحفاظت بندوبست کریں گے۔

مگر وزیراعظم کو اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ اور نوٹ چاہئیں، اور کچھ نہیں۔ پاکستانی حکومت اور اس کے شعلہ نوا ترجمان آج کہاں ہیں جو ذرا ذرا سی بات پر تو شعلہ نوائی کرتے رہتے ہیں مگر اتنے اہم اور سنگین مسئلے پر چپ سادھے بیٹھے ہیں؟ ہمارے وزیراعظم کو افغانستان میں تو انسانی المیہ جنم لیتا دکھائی دیتا ہے مگر یوکرین میں پھنسے پاکستانی طلبہ و طالبات کا المیہ کیوں نظر نہیں آتا۔ میرے ایک کزن جو جرمنی میں ہیں، بتا رہے تھے کہ ان کی دو پاکستانی شاگرد یوکرین میں پھنسی ہیں جو وہاں ایم بی بی ایس کر رہی ہیں۔

اب تو ان کے ساتھ رابطہ بھی منقطع ہو گیا ہے۔ ان کے گھر والوں پر یہاں قیامت گزر رہی ہے مگر حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ پولینڈ کی سرحد پر پھنسی پاکستانی طالبہ معصومہ کی داستان بھی سنیں جو بتاتی ہیں کہ ان کے ساتھ سو سے زائد طلبا موجود ہیں اور انہوں نے تین دن سے کھانا تک نہیں کھایا۔ درجۂ حرارت منفی دو ہے۔ بھوک سے نہ بھی مرے تو سردی سے مر جائیں گے۔ وہ بتاتی ہیں کہ یوکرینی فورسز بھی ان کو مار رہی ہیں کہ یہاں سے چلے جائیں۔

ہم ریاست مدینہ جدید کے امیر المومنین سے پوچھتے ہیں کہ پاکستان کے علاوہ یوکرین میں پھنسے کسی اور ملک کے شہری بھی اس قدر بدترین صورت حال سے گزر رہے ہیں؟ مہذب اور جی دار حکومتیں اپنے ایک ایک شہری کی جان کی حفاظت کے لیے تمام وسائل بروئے کار لے آتی ہیں مگر یوکرین میں ہم نے سیکڑوں طلبہ و طالبات کو جنگ، سخت سردی اور بھوک کے شکنجوں اور پنجوں میں مرنے کے لیے چھوڑ دیا ہے

Facebook Comments HS