ملتان کے مخدوم


ملتان کے وسیب ہوٹل پہ بیٹھا تھا کہ ایک پچاس پچپن سالہ شخص سے باتوں باتوں میں مخدوم سجاد حسین قریشی کے جد امجد کے بارے میں پوچھ لیا، اللہ ورایا نام کا شخص پہلے تو مجھے گھورتا رہا پھر کہنے لگا کہ ”میں زیادہ تو نہیں جانتا مگر میرے والد مرحوم کہتے تھے کہ مخدوم سجاد حسین قریشی انگریز سرکار کے وفادار تھے“ آنکھ مار کے کہنے لگا ”مالشیے تھے انگریز کے“

میرے ابا بتاتے تھے کہ انگریز جب ہندستان پاکستان کی تقسیم کے بعد جانے لگے تو مخدوم سجاد حسین قریشی کو ان کی وفاداری کے انعام کے طور پر پنجاب کی تین بڑی درگاہیں حوالے کر گئے جن میں مخدوم بہا الدین زکریا ملتانی، شاہ رکن عالم اور بی بی پاکدامن کے مزارات کا انتظام ان کے حوالے کر دیا، اب ان کے خاندان کے بڑے بزرگ کون تھے کہاں سے آئے اور واقعی مخدوم بہا الدین زکریا ملتانی کی اولاد میں سے ہیں یا نہیں یہ تو واللہ اعلم ”اللہ ورایا پھر پوچھنے لگا کہ آپ یہ کیوں پوچھ رہے ہیں، تب میں نے بھی کہہ دیا کہ ایسے ہی اپنی معلومات میں اضافے کے لیے ۔

حضرت بہا الدین زکریا ملتانی جن کے ساتھ سابقہ و موجودہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خاندان کی نسبت جوڑی جاتی ہے سلسلہ سہروردیہ سے تعلق رکھتے ہیں پورا نام شیخ الکبیر شیخ الاسلام مخدوم بہا الدین ابو محمد زکریا الاسدی الہاشمی ہے، 21 دسمبر 1183 عیسوی بمطابق 578 ہجری میں کوٹ کروڑ ( کروڑ لعل عیسن) ضلع لیہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے جانشینوں میں دوسروں کے علاوہ حضرت لعل شہباز قلندر، حضرت فخرالدین عراقی، مولانا جلال الدین بلخی رومی حضرت جلال الدین سرخ بخاری کے نام مشہور ہیں۔ مخدوم بہا الدین کے سات بیٹے تھے جنہوں نے بطور صوفیاء کرام شہرت پائی جن میں مخدوم صدر الدین عارف کے بیٹے شیخ عبد الفتاح رکن الدین نے شاہ رکن عالم کے نام سے شہرت پائی اور ان کا مزار بھی مخدوم بہا الدین زکریا ملتانی کے ساتھ ہی موجود ہے۔

ملتان سے ہی تعلق رکھنے والے ایک عظیم صوفی و بزرگ حضرت ابوالحسن جمال الدین المعروف موسیٰ پاک شہید کے نام سے مشہور ہیں اور آپ غوث پاک کی اولاد میں سے ہیں اور حضرت غوث پاک ہی ملتان میں سلسلہ سادات گیلانیہ و سلسلہ عالیہ قادریہ کے مورث اعلیٰ ہیں۔ حضرت غوث پاک بندگی اپنے جد امجد کے تبرکات اور کتب سمیت اوچ شریف میں متمکن ہوئے، جبکہ حضرت موسیٰ پاک شہید ان کے گیارہویں پشت میں سے ہیں۔ آپ کی ولادت اوچ شریف میں ہی 952 میں ہوئی۔ حضرت موسیٰ پاک شہید کی عظمت کی اتنی تعریف ہی کافی ہے کہ آپ ہندوستان کے جلیل القدر محدث شاہ عبدالحق محدث دہلوی کے مرشد تھے

ملتان کے انتہائی معتبر و معزز سیاسی و روحانی خانوادے کے سید یوسف رضا گیلانی درگاہ حضرت موسیٰ پاک شہید کے سجادہ نشین ہیں جبکہ مخدوم شاہ محمود قریشی حضرت بہا الدین زکریا ملتانی کی درگاہ کے سجادہ نشیں ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی بھی بلدیاتی سیاست سے قومی سیاست میں آئے اور وزرات عظمیٰ کے منصب تک پہنچے جبکہ شاہ محمود قریشی بھی بلدیاتی سیاست سے قومی سیاست میں اور وزرات خارجہ کے منصب پہ فائز ہیں گو کہ وزرات عظمیٰ کی خواہش بے چین کیے رکھتی ہے مگر ان کا یہ خوب اب تک شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا ہے۔

مخدوم یوسف رضا گیلانی 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں ملتان سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہو کر محمد خان جونیجو مرحوم کی حکومت میں مختلف وزارتوں پہ فائز رہے پھر 1988 میں انہوں نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور آج تک پیپلز پارٹی کے ساتھ ڈٹ کر وفا بھی نبھا رہے ہیں، پیپلز پارٹی کے ساتھ وفاداری کی قیمت انہوں نے جیل کاٹ کر اور نا اہلیت کا تمغہ سینے پہ سجا کر چکائی ہے، دوسری طرف شاہ محمود قریشی صاحب ہیں پہلے مسلم لیگ نون میں شامل ہوئے پھر پیپلز پارٹی میں وزارت خارجہ کے منصب پہ رہے اس دوران بھی وزرات عظمیٰ نہ ملنے کے قلق نے انہیں پیپلز پارٹی چھوڑنے اور تحریک انصاف میں شمولیت پہ مجبور کیا تو آج تحریک انصاف میں ہوتے ہوئے بھی وزرات عظمیٰ کی خواہش انہیں چین نہیں لینے دے رہی۔

مخدوم شاہ محمود قریشی صاحب کو سید یوسف رضا گیلانی صاحب سے خاصی پرخاش بھی رہی ہے وہ شاید سمجھتے ہیں کہ مخدوم یوسف رضا گیلانی نے ان کے وزارت عظمیٰ کے حق پہ ڈاکا ڈالا تھا، حالانکہ گیلانی صاحب کی وزارت عظمیٰ پہ نامزدگی خالصتاً پیپلز پارٹی کی مرکزی عاملہ اور قیادت کا فیصلہ تھا مگر شاہ محمود قریشی صاحب کی حرکات اور ان کے کردار نے ثابت کیا کہ صدر آصف علی زرداری اور پارٹی قیادت کا فیصلہ درست تھا۔

کچھ عرصہ قبل مسلم لیگ نون کے رہنماء خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں شاہ محمود قریشی صاحب کے خلاف انتہائی سخت مگر تاریخی حقائق پہ مبنی تقریر میں فرمایا تھا کہ ”قریشی خاندان حضرت بہا الدین زکریا ملتانی کی اولاد نہیں ہے بلکہ انگریزوں کی خدمات کے عیوض ان کے نوازے ہوئے لوگ ہیں جو صرف ان درگاہوں کے چندوں، فطرانوں، مریدین کی زکوۃ پہ پلتے ہیں اور کئی دہائیوں سے درگاہوں پہ مریدین کی بھینٹ پر عیاشیاں کرتے ہیں“ خواجہ آصف نے جو انتہائی جارحانہ اور سخت الفاظ مخدوم شاہ محمود قریشی کے لیے استعمال کیے تھے ان کا جواب مخدوم صاحب نہ دے سکے تھے۔

اس کے بعد شاہ محمود قریشی اکثر مختلف مواقع پر پیپلز پارٹی کی قیادت آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے خلاف بھی ہرزہ سرائی کرتے رہے ہیں جس کا بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے انتہائی سخت اور جارحانہ الفاظ میں انہیں جواب بھی ملتا رہا ہے۔ اس بار انہوں نے سینیٹ میں اسٹیٹ بینک بل کی منظوری کے موقع پہ جو زبان سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سید یوسف رضا گیلانی کے خلاف استعمال کی یہ شاہ محمود صاحب کی اسی خلش کا شاخسانہ ہے جو وہ کئی سالوں سے دل میں دبائے بیٹھے تھے، شاہ محمود قریشی حضرت بہا الدین زکریا ملتانی کے اولاد میں سے ہیں یا نہیں یہ تو اللہ رب العزت کی ذات ہی جانتی ہے مگر ان کے کردار و اعمال نے ہمیشہ اس کی نفی کی ہے۔

سید یوسف رضا گیلانی اور شاہ محمود قریشی میں اگر موازنہ کیا جائے تو یوسف رضا گیلانی وفا کا پیکر ہیں جبکہ شاہ محمود قریشی بے وفائی احسان فراموشی کی تصویر، یوسف رضا گیلانی انتہائی شریف النفس اور نفیس با اخلاق شخصیت کے حامل انسان ہیں تو شاہ محمود قریشی زبان دراز، غیر سنجیدہ، متکبرانہ خصلت کے حامل شخصیت ہیں۔

ملتان جیسی اولیاء اللہ کی سرزمین پہ مدفون ایک عظیم المرتبہ روحانی شخصیت صوفی بزرگ حضرت بہا الدین زکریا ملتانی، شاہ رکن عالم اور بی بی پاکدامن کے گدی نشین سے ان کے عقیدت مند اور ملتان کی عوام اور ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں کی قیادت و کارکنان نے ایک دوسرے صوفی بزرگ اولیاء اللہ کی اولاد اور شریف النفس شخصیت کے بارے میں گھٹیا طرز تکلم کو سخت ناپسند کیا ہے امید کرتے ہیں کہ شاہ محمود قریشی اپنی زبان درازی سے مزید کسی کی دل آزاری کا سبب نہیں بنیں گے اور نہ ہی اپنے پیرانہ کردار اور بزرگان کی تقدس کو پامال کریں گے۔

Facebook Comments HS