مہذب دنیا کی غیر مہذب جنگیں اور سسکتی انسانیت
بیسویں صدی تاریخ انسانی کی تباہ کن صدی بن کر گزری۔ اس صدی نے انسانیت کو دو عالمی جنگوں کے زخم لگائے، ایسے زخم کہ ان سے آج بھی خون رس رہا ہے۔ کروڑوں زندگیوں کی قربانی دے کر انسانوں نے اپنے لئے کچھ اصول وضع کیے۔ لیگ آف نیشنز اور بعد ازاں اس کے بطن سے اقوام متحدہ اور اس کے کئی ذیلی ادارے وجود میں آئے۔ بین الاقوامی قوانین بنے تاکہ دنیا کو طاقت اور جبر کے مزاج سے نکال کر اصول و ضوابط اور آئین اور قانون کا پابند بنایا جائے۔
نو آبادیاتی نظام کا خاتمہ کر دیا گیا اور ملکوں پر براہ راست قبضے کو عالمی سطح پر غیر قانونی فعل گردانا گیا۔ سلطنتوں کا خاتمہ ہوا اور قومی ریاستیں وجود میں آئیں۔ ذرائع ابلاغ کی ترویج کی گئی اور دنیا کو تہذیب، رواداری، برداشت اور شخصی آزادی کی نئی جہتوں سے متعارف کروایا گیا۔ لیکن طاقت و غرور اور اقتدار کی قوت کا نشہ جو انسان کی سرشت میں سرایت کر چکا تھا اس کے اظہار کے راستے بند نہ ہوئے۔ اقوام متحدہ جس نے عالمی سطح پر طاقتور ممالک کے ظلم و جبر کو روکنا تھا، اسے ویٹو کے نام سے پانچ بڑی طاقتوں کے ہاتھ کی چھڑی بنا دیا گیا۔
وہ اپنی مرضی اور خواہشات کے مطابق اس چھڑی کو جب چاہیں، جدھر چاہیں، جہاں چاہیں گھمائیں۔ امریکا نے عراق پر کیمیائی ہتھیار رکھنے کا بہانہ بنا کر حملہ کرنا ہو یا افغانستان جیسے پسماندہ ملک کو برباد کرنا ہو، لیبیا کو زخموں سے چور کرنا ہو یا شام پر زندگی کی شام مسلط کرنی ہو، کسی بین الاقوامی قانون یا اصول کی کہیں کوئی پاسداری نہیں کی گئی۔
آج اسی ڈگر پر چلتے ہوئے روس یوکرائن کی خودمختاری اور قومی سلامتی اپنے پاؤں تلے روند رہا ہے اور یوکرین کے بے بس عام شہری برستے بموں کے بیچ مظلومیت کی تصویر بنے اقوام عالم کی طرف دیکھ رہے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ یہ جنگ ہم پر کیوں مسلط کی گئی۔ وہ امریکہ جس کی شہ پا کر یوکرین کی حکومت نے نیٹو اتحاد میں شامل ہونے کا اعلان کیا اور روس کو اپنا مخالف بنایا، آج ہرجائی بنا ہوا یوکرین کے صدر کو اپنا ملک چھوڑ کر امریکی پناہ میں آنے کی دعوت دے رہا ہے۔ تمام نیٹو ممالک چشم تماشا بنے ہوئے ہیں اور یوکرین کا صدر کہہ رہا ہے کہ مجھے تمہاری طرف سے روس پر پابندیاں نہیں بلکہ اپنے دفاع کے لیے ہتھیار چاہیں جس کا تم وعدہ کر رہے تھے۔
امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روسی حملے کی مذمت میں قرارداد پیش کر کے کفارہ ادا کرنے کی کوشش کی جسے روس نے اپنی طاقت استعمال کرتے ہوئے ویٹو کر دیا ہے۔ یعنی کل تک جس طاقت کو امریکہ ویتنام، افغانستان، عراق، لیبیا، شام، ایران اور دیگر کمزور اور ترقی پذیر ممالک پر اپنے استبدادی عزائم کو پورا کرنے کے لیے استعمال کر رہا تھا، آج روس کر رہا ہے۔ فرق بس یہ ہے کہ جب امریکہ نیو ورلڈ آرڈر کے تحت دنیا کو اپنی مٹھی میں کرنے اور دیگر ممالک کے وسائل پر قبضہ رکھنے کے لیے جنگ مسلط کر رہا تھا، اس وقت روس اپنے سرد جنگ کے زخم سی رہا تھا، آج مدمقابل ہے۔
افغانستان میں امریکہ کی شکست سے عالمی سطح پر امریکی دبدبے کو ٹھیس پہنچی۔ جیسے ہی یوکرائن نے نیٹو اتحاد میں شامل ہونے کا عندیہ دیا، روس نے اسے خبردار کیا کہ روس اپنے صحن میں نیٹو کا توپ خانہ نصب نہیں ہونے دے گا۔ اس سے پہلے امریکہ مشرقی یورپ میں روس کے قریبی ممالک پولینڈ، اسٹونیا، لتھوینیا اور چیک ریپبلک میں اپنے دستے تعینات کر چکا تھا بدلے میں روس نے کریمیا پر قبضہ کر لیا۔ اب یوکرین کا محاذ جاری ہے اور روسی افواج کسی بھی وقت دارالحکومت پر قبضہ کر سکتی ہیں۔ امریکہ اور نیٹو کے ارکان وسطی یورپی ممالک کے شہری دہائیوں سے اپنی زندگیوں کو خوشگوار انداز میں گزار رہے ہیں۔ روسی شہری بھی زندگی کا لطف اٹھا رہے ہیں۔ لیکن ان کی آپسی جنگ کا ایندھن یوکرین کے شہری بن رہے ہیں، اور خطے کے دیگر کمزور ممالک دم سادھے دیکھ رہے ہیں کہ اس بڑھتی بربادی کا انجام کیا ہو گا۔
ہر ملک اپنے مخالف ملک کے ہمسائے میں یا اس کے اندر سے اپنی پراکسی ڈھونڈ کر اس کے ذریعہ جنگ مسلط کر رہا ہے۔ عراق، شام اور یمن اسی طور جنگ کا ایندھن بنے۔ پاکستان افغانستان میں قائم نام نہاد جمہوری حکومتوں کے ساتھ مسلسل مسائل کا شکار رہا، کیونکہ ان حکومتوں نے بھارت کے پاکستان مخالف عزائم کو افغانستان میں پروان چڑھنے میں مدد دی۔ افغانستان میں موجود بڑی تعداد میں قائم بھارتی قونصل خانوں کے ذریعے پاکستان مخالف سرگرمیاں جاری رکھیں گئیں۔
جس کے نتیجے میں پاکستان کو اپنے مشرقی بارڈر کی طرح مغربی بارڈر کی طرف بھی دفاعی معاملات دیکھنا پڑے۔ بھارتی وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی اجیت دو دل نے باقاعدہ دو دل ڈاکٹرائن متعارف کروائی، جس کا انہوں نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں برملا اعتراف کیا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی کی جس طرح حمایت کرتا ہے، ہم پاکستان کو اس کے اپنے صوبہ بلوچستان میں الجھا دیں گے۔ حالانکہ بلوچستان پاکستان کا باقاعدہ حصہ ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پاکستان اور بھارت کے بیچ ایک متنازع خطہ ہے۔ کشمیریوں کی اپنی آزادی اور حق خودارادیت کی تحریک مسلمہ عالمی قوانین کے مطابق جائز ہے۔ لیکن بھارت نے بلوچستان میں چند باغی عناصر کی مدد سے دہشت گردی کی مسلسل کارروائیاں کیں۔ پاکستانی جیل میں قید بھارت کا حاضر سروس کرنل ”کلبھوشن یادیو“ بھارت کی پاکستان میں دراندازی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
پراکسی جنگ مسلط کرنے اور چھوٹے ممالک کی قومی سلامتی اور خود مختاری کو نشانہ بنا کر بڑی طاقتیں ہر دو طرح سے فوائد سمیٹتی ہیں۔ ایک تو کمزور ممالک کے وسائل پر براہ راست قابض ہو کر اور دوسرا دیگر ممالک کو ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل کر کے۔ ہر ملک اپنی سلامتی کی فکر میں جدید ہتھیاروں سے خود کو لیس کرنا شروع کر دیتا ہے اور اپنے محدود معاشی وسائل کا ایک بڑا حصہ ہتھیاروں کی خریداری پر خرچ کر دیتا ہے۔ یوں طاقتور ممالک اپنی اسلحہ ساز کمپنیوں کے ذریعے کمزور اور غریب ممالک کا وہ سرمایہ جو انہوں نے اپنی عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنا ہوتا ہے، اسے اپنے خزانوں میں شامل کر لیتے ہیں۔
دنیا کے تمام ممالک کا دفاعی بجٹ بڑھ کر کھربوں ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ زندگی کی بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں لگا تار بڑھ رہی ہیں۔ انسانیت مسلسل بھوک افلاس اور بیماریوں کے ساتھ اب جنگ کی تباہ کاریوں کا بھی سامنا کر رہی ہے۔ شاید بڑی طاقتوں کے نزدیک دنیا کو مزید مہذب بنانے کے لیے اسے راکھ کے ڈھیر میں بدلنا ضروری ہے۔


