جہاریت کنندگان

سوش، حرب، یدھ، وار، جنگ! یہ تین حرفی لفظ کہنے میں تو بہت آسان ہے لیکن یقین مانیے اس کی حولناکیاں نا قابل بیان ہیں۔ ترک لغت کے مطابق ہماری قومی زبان اردو کے معنیٰ فوج کے ہیں، جبکہ پاکستان کے مقبول ترین اشاعتی ادارے کا نام جنگ ہے اور تاریخی اعتبار سے بھی ہمارا وطن ایک عسکری ریاست کے طور پر بین الاقوامی شہرت کا حامل ہے لیکن آج بھی 90 سے 95 فیصد پاکستانی عوام جنگ مخالف رجحانات رکھتے ہیں۔ یوکرین سوویت یونین میں روس کے بعد سب سے بڑی جمہوریہ تھا۔
یہ رشیا کا سب سے اہم تجارتی حلیف تھا۔ یوکرین کئی طرح سے سوویت یونین کی زرعی پیداوار کا مرکز بھی رہا۔ انسداد انقلاب کے بعد جب سوویت یونین، رشیا اور یوکرین میں حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تو یوکرین ایک آزاد مملکت کے طور پر سامنے آیا۔ پچھلے تیس برس سے گویا 1991 کے بعد سے ہی امریکہ قومی سالمیت، جمہوریت اور غیر سرکاری تنظیموں کے نام پر یوکرین میں اربوں ڈالر خرچ کرتا رہا ہے۔ بالآخر 2013 میں جب رشیا سوچی اولمپکس کی گہما گہمی میں مصروف تھا تو اسی دوران یوکرین کے دارالحکومت کیو میں ہزاروں شہریوں نے میدان اسکوائر میں اپنی غیر جانبدار حکومت کے خلاف مظاہرے کیے جو نیٹو میں شمولیت کے حق میں نہیں تھی۔
چنانچہ چار ماہ کے احتجاج کے بعد حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان نشست منعقد کی گئی، اس نشست میں روسی، جرمن، فرانسیسی اور امریکی بھی مبصرین کے طور پر شریک ہوئے اور ایک معاہدہ طے پایا جس میں پولیس کی پیشقدمی روکنے اور قبل از وقت انتخابات کروانے کی شرائط منظور کر لی گئیں۔ اس کے علاوہ علاقائی خودمختاری بھی دے دی گئی اور یہ معاہدہ 21 فروری 2014 کو طے پایا۔ مورخہ 22 فروری 2014 کو بلوائیوں نے یوکرین کی پارلیمنٹ پر دھاوا بول دیا اور اسمبلی تحلیل کر دی گئی۔
صدر مملکت کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی جو بمشکل اپنی جان بچانے میں کامیاب ہو سکے۔ بلوائیوں نے یوکرین میں ایک نئی نازی قیادت کی بنیاد ڈال دی تھی۔ جبکہ یوکرین کا تمام مشرقی حصہ روسی زبان بولنے والوں کا مسکن ہے اور تاریخی طور پر یہ علاقہ روس ہی کا حصہ رہا ہے۔ یعنی 1625 تک کیو شہر روس کا دارالحکومت رہا ہے گویا یہ ریاست تاریخی طور پے ہمیشہ سے رشیا کا حصہ رہی ہے جبکہ یوکرین کی 95 فیصد آبادی بھی رشیا کی ہم مذہب یعنی گریک آرتھوڈاکس کرسچن ہے۔
نئی قیادت نے روسی زبان پر پابندی لگا دی اور واضح اشارہ دیا کہ وہ جلد نیٹو الائنس کا حصہ بن جائیں گے۔ اس موقع پر امریکی قیادت کا خیال تھا کہ ہم نے رشیا کو گردن سے دبوچ لیا ہے۔ یہاں یہ بات بتانا بھی ضروری ہے کہ 2013۔ 14 کے احتجاج کے دوران سینیٹر جان ملکین اور ہیلری کلنٹن کے ترجمان گویا امریکہ کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے نمائندے بلوائیوں کا حوصلہ بڑھانے اور ان میں خوراک کے پیکٹ تقسیم کرنے کے لئے میدان اسکوائر میں موجود تھے اور جس دن یوکرینی پارلیمنٹ پر حملہ کر کے حکومت کو برطرف کیا گیا تو امریکیوں کی جانب سے اس دن کو یوکرینی جمہوریت کا عظیم ترین دن قرار دیا گیا تھا۔
یہ ایسا موقع تھا کہ جب صدر پیوٹن نے کرائمیا میں رشیا سے الحاق کے حوالے سے ریفرینڈم کروانے کا اعلان کیا جہاں کی صد فیصد آبادی روسی زبان بولتی ہے اور تمدن کے اعتبار سے بھی روس کے قریب تر ہے۔ یہ ریفرنڈم جون 2014 میں کروایا گیا جس میں 95 فیصد لوگوں نے رشیا سے الحاق کی حمایت کر دی۔ کرائمیا جو صدیوں روس کا حصہ رہا ہے اسے 1954 میں صدر نکاتا نے یوکرین کے حوالے کر دیا تھا جب رشیا اور یوکرین ایک ہی ملک سوویت یونین کا حصہ تھے۔
جب صدر پیوٹن نے کریمیا کے الحاق کا ریفرنڈم کروایا تو امریکہ نے روس پر الزام لگایا کہ وہ یوکرین پر قبضہ کر رہا ہے۔ اس تناظر میں تصویر کا دوسرا رخ دیکھنا بھی نہایت اہم ہے یعنی کرائمیا کی دفاعی اہمیت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا جہاں بحر اسود کے کنارے رشیا کا سب سے بڑا عسکری بحری اڈہ موجود ہے۔ تاہم سوویت یونین کے انہدام کے موقع پر آزاد یوکرین اور روس کے مابین ایک معاہدے کے تحت یہ بات طے پائی تھی کہ کریمیا میں قائم روس کا سب سے بڑا عسکری مرکز روس کی تحویل میں ہی رہے گا۔
جب امریکہ نواز فاشسٹ قیادت نے یوکرین کی حکومت سنبھالی تو پیوٹن کو یہ خطرہ لاحق ہو گیا کہ رشیا کا بنیادی اور سب سے بڑا عسکری مرکز نیٹو کی تحویل میں چلا جائے گا جہاں جوہری مزائل نسب کر دیے جائیں گے جن کا رخ سیدھا روس کی جانب ہو گا۔ یہ وہ موقع تھا کہ جب روسی قیادت نے کریمیا میں ریفرنڈم کا انعقاد کروایا اسی وقت سے امریکی ذرائع ابلاغ اور اس کے حواری صدر پیوٹن اور رشیا کو جارحیت کنندگان کے طور پر پیش کیے ہیں۔
پچھلے کچھ عرصے سے روسی قیادت یہ محسوس کر رہی تھی کہ یوکرین کا وہی میدانی علاقہ جس جانب سے ہٹلر نے جون 1941 میں روس پر چڑھائی کی تھی اب اسی جانب سے نیٹو کی پیش قدمی کسی طور قبول نہیں کی جا سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ آج رشیا اور امریکہ ایک عسکری خلفشار کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ یہاں یہ تاریخی حقائق رکھنا اس لئے بھی ضروری ہیں کہ پاکستانیوں کو اس قسم کی معلومات فراہم نہیں کی جاتی اور صدر پیوٹن کو جارحیت کنندہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جبکہ یوکرین کے معاملے میں روس اور صدر پیوٹن مغربی سامراج کی جارحیت کا شکار نظر آتے ہیں۔

