چینی کے مہنگے دام، بروکروں اور مل مالکان کا گٹھ جوڑ

پاکستان ایک زرعی ملک کے طور پر پہچان رکھتا ہے جہاں گندم، کپاس، چاول، گنے، سبزیاں، پھل اور دیگر کئی قسم کی فصلیں اپنی منفرد پہچان رکھتی ہیں۔ ضلع رحیم یار خان کی کپاس دنیا بھر میں مشہور تھی اور ایک وقت تھا کہ یہ ضلع کاٹن بیلٹ کے نام سے مشہور تھا تاہم گزشتہ سالوں میں یہاں شوگر ملوں کے قیام کے بعد کاشتکار گنے کی فصل کی کاشت زیادہ کرنے لگ گئے ہیں۔ اس وقت ضلع رحیم یار خان میں چھ شوگر ملز ہیں جن میں 5 شوگر ملیں، جمال دین والی شوگر ملز ( 1 ) ، جمال دین والی شوگر ملز ( 2 ) ، حمزہ شوگر ملز، اتحاد شوگر ملز اور آر وائے کے شوگر ملز تو چل رہی ہیں جبکہ چھٹی چودھری شوگر ملز نان فنکشنل ہے۔ موجودہ حکومت کا دعویٰ رہا ہے کہ وہ مصنوعی مہنگائی اور منافع خوروں کے خلاف بھر پور ایکشن لے گی لیکن اس کے باوجود چینی کی قیمتیں کنٹرول نہیں ہو پاتیں اور نہ ہی منافع خور مافیا کنٹرول میں آتا ہے۔
عمومی طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ یہاں چونکہ چینی بنانے کی ملیں ہیں تو یہاں چینی کی قیمتیں بھی حکومتی مقررہ نرخوں پر ہونی چاہئیں جبکہ حقائق اس کے بر عکس رہے ہیں۔ حکومتی دعووں اور کوششوں کے باوجود ہر شوگر ملوں کے کرشنگ سیزن کے بعد چینی کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ عام تاثر یہی لیا جاتا ہے کہ حکومت کی پالیسیاں اس مہنگائی کا سبب ہیں جبکہ اس چینی کے مہنگے ہونے میں کئی اسباب ہیں۔ مارکیٹوں اور دیگر ذرائع سے لی جانے والی معلومات کے مطابق نوے فی صد سے زیادہ شوگر ملوں کے مالکان جن کی تعداد 34 کے قریب بنتی ہے آپس میں رشتے دار ہیں اور ہر حکومت میں یہی لوگ شامل رہتے ہیں۔ یہ مالکان آپس میں مل کر چینی کی قیمتیں آگے پیچھے کرتے ہیں جس کی وجہ سے حکومت بے بس نظر آتی ہے۔
گزشتہ سال آنے والے چینی بحران میں جہاں ضلع بھر میں چینی نایاب ہو گئی تھی اور چینی کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کر رہی تھیں۔ ضلعی حکومت کے مطابق اس وقت فی کلو چینی کی قیمت 90 روپے ہے اور کہیں بھی کسی قسم کی گراں فروشی نہیں ہو رہی۔ گزشتہ سال یہی چینی 150 روپے فی کلو گرام ضلع بھر میں فروخت ہوتی رہی۔ مقامی ریٹیلر دکان دار ریاض احمد کے مطابق اس وقت چینی کا 50 کلو گرام والا تھیلا 4200 روپے میں مل رہا ہے جبکہ یہی تھیلا گزشتہ سال 7000 روپے میں ملا کرتا تھا اور اس وقت وہ 90 روپے فی کلو گرام چینی فروخت کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ قیمتیں عارضی ہیں اور آنے والے کچھ ماہ بعد یہ قیمتیں اسی طرح زیادہ ہوں گی جس طرح گزشتہ سال ہوئیں تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو ماہ سے قیمتیں تو ٹھیک ہیں لیکن ایسا صرف سال کے پہلے مہینوں میں ہوتا ہے اور پھر یہ قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ڈیلر سے ان کو چینی مہنگی ملے گی تو وہ کیسے سستی بیچ سکتے ہیں۔ معروف بزنس مین و شوگر ڈیلر عاطف غفار سے جب اس سلسلہ میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ حکومت مل مالکان کے آگے بے بس ہے اور اس کا سادہ سا حل چھوٹے پیمانے پر چھوٹے یونٹ لگا کر چینی کی پیداوار کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جس طرح انڈیا کی حکومت نے چھوٹے مل یونٹس لگانے کی اجازت ہے اسی طرح حکومت پاکستان بھی اجازت دے تو یہ مہنگی چینی کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مل مالکان نے ہی بروکروں کو بطور فرنٹ میں رکھا ہوتا ہے جن کی تعداد مل مالکان سے بھی کم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کو شوگر مل مالکان مل کر بے بس کرتے ہیں اور ان کے آلہ کار بروکر ہوتے ہیں۔ اگر گورنمنٹ زیادہ سختی کرے تو یہ مالکان کورٹ سے سٹے آرڈر لے آتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مقامی انتظامیہ بھی مل مالکان کو سپورٹ کرتی ہے اور یہ سب گزشتہ تین سالوں سے ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کے تحت عمل نہیں ہوتا اور اس وجہ سے بھی چینی مہنگی ہو جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں 55 لاکھ ٹن چینی کی ضرورت ہے جو کہ آج سے ایک ہفتہ پہلے ملوں میں تیار کی جا چکی اور اس وقت ملوں میں تیار ہونے والی چینی سر پلس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سال ہم سر پلس میں گئے ہیں جبکہ گزشتہ سالوں میں چینی مطلوبہ پیداوار سے کم رہی ہے۔
چینی کے کاروبار سے منسلک معروف ڈیلر خواجہ عاطف بشیر سے جب اس سلسلہ میں رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ چینی کی خریداری ڈائریکٹ ملوں سے نہیں ہوتی اور بروکروں کے ذریعے سے یہ خریداری کی جاتی ہے۔ یہ بروکر بڑے شہروں ملتان، لاہور، فیصل آباد، سرگودھا اور دیگر بڑے شہروں میں ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا بروکر شوگر ملوں سے ڈائریکٹ خریداری کرتے ہیں اور وہ ان بروکروں کو اپنی ڈیمانڈ کے مطابق آرڈر دے کے خریداری کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ انہیں جس بروکر سے صحیح ریٹ ملے وہ اسی سے خریداری کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکس مل ریٹ 81 روپے فی کلو گرام پر چینی مل رہی ہے اور آسانی سے دستیاب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شوگر ملوں کی مانیٹرنگ ڈسٹرکٹ آفیسر انڈسٹری کی جانب سے کی جاتی ہے اور چینی کی قیمتیں بھی وہی دیکھتے ہیں۔ اس سلسلہ میں ڈسٹرکٹ آفیسر انڈسٹری غازی خان سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس وقت چینی کنٹرول ریٹ پر دستیاب ہے اور 90 روپے فی کلو کے حساب سے لی جا سکتی ہے۔ اگر کوئی دکاندار مقررہ ریٹ سے زائد فروخت کے رہا ہو تو شہریوں کو چاہیے کہ ڈی آفس کے کنٹرول روم میں کال کر کے اطلاع دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلعی حکومت شکایات پر فوری ایکشن لیتی ہے اور گراں فروشی کی اجازت نہیں ہے۔

