کیا اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد چائے کی پیالی میں طوفان ثابت ہونے جا رہی


گزشتہ تقریباً دو ہفتوں سے پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر سب سے گرم موضوع اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک لانا رہا ہے۔ اس تحریک کو لے کر کم وبیش اپوزیشن کی تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین ایک دوسرے کے ساتھ کئی کئی نشستیں کر چکے ہیں۔ زرداری صاحب نے لاہور میں ڈیرے ڈالے اور نون لیگی رہنماؤں سمیت دیگر جماعتوں سے ملاقاتیں کیں۔ دوسری طرف شہباز شریف صاحب کئی سال کے بعد بظاہر چودھری شجاعت حسین صاحب کی تیمارداری کے لئے گئے، لیکن اصل مطمح نظر ان کا بھی چوہدری برادران اور ”ق لیگ“ کو حکومتی اتحاد سے نکال کر اپوزیشن جماعتوں کی حمایت میں کھڑا کرنا تھا۔

اسی طرح چودھری برادران بھی زرداری صاحب سے ملے۔ قومی اسمبلی میں متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑ کر ایک سیٹ رکھنے والی جماعت اسلامی کی قیادت سے بھی زرداری صاحب نے ملاقات کو ضروری سمجھا۔ اسی دوران پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی تقریباً تمام سیاسی قائدین سے بھی ملاقاتیں کیں۔ جہانگیر ترین صاحب جنہیں نون لیگ سمیت عمران خان کے دیگر سیاسی مخالفین عمران خان کی اے ٹی ایم ہونے کا طعنہ دیتے نہ تھکتے تھے، ان کی سیاسی اہمیت بھی بہت زیادہ بڑھ گئی، کیونکہ اس وقت وہ بھی تحریک انصاف کے کچھ باغی ارکان کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ تحریک عدم اعتماد کو لے کر اپوزیشن جماعتیں اور میڈیا میں حکومت کے ناقدین سب ایک پیج پر تھے کہ حکومت کا اب کی بار بچنا ممکن نہیں۔ یقیناً مارچ میں حکومت کو گھر بھیج دیا جائے گا۔

اسی دوران وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کے دورہ روس کا بھی اعلان کر دیا گیا۔ روس کی اس وقت یوکرین کے ساتھ سخت کشیدگی جاری تھی۔ تاہم ابھی جنگ شروع نہ ہوئی تھی۔ ایسے حالات میں پاکستانی وزیر اعظم کا دورہ روس بہت اہمیت کا حامل تھا۔ پاکستان اس دورے کے ذریعے دنیا کو باور کروا رہا تھا کہ آئندہ پاکستانی خارجہ پالیسی کا محور کیا ہو گا۔ یہ اہم موقع تھا اور اسے ہمارے میڈیا پر موضوع بحث بننا چاہیے تھا۔ لیکن اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے تحریک عدم اعتماد کا شور اتنا زیادہ تھا کہ دوسری کوئی بات کان پڑی سنائی نہ دیتی تھی۔

تحریک عدم اعتماد کو حد سے زیادہ ہوا دے کر اپوزیشن نے خود حکومت کا کام آسان کر دیا۔ حکومت بڑے آرام سے وزیراعظم پاکستان کے دورہ روس کے معاملات روسی محکمہ خارجہ کے ساتھ طے کرتی رہی۔ اپوزیشن کی عدم اعتماد کی خبریں پھیلانے کا مقصد بظاہر یہ تھا کہ روسی صدر کے ساتھ ملاقات کے دوران وزیراعظم پاکستان اتنے پر اعتماد نہ رہیں اور دوسری طرف روسی صدر بھی انہیں زیادہ اہمیت نہ دیں، اس لئے کہ وہ ایک ڈولتی ہوئی حکومت کے سربراہ ہیں۔ تاہم ایسا کچھ دیکھنے میں نہ آیا۔ پاکستان میں حکومت اور اپوزیشن کی نمبر گیم کی بحث چلتی رہی یہاں تک کہ عمران خان اپنے وفد کے ہمراہ روسی سر زمین پر اترے اور پراعتماد رہے۔ اس دوران روس کی طرف سے عین اس روز یوکرین پر تین اطراف سے بڑا حملہ کر دیا گیا جب وزیراعظم پاکستان کا روس میں پہلا دن تھا۔

پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر ہماری بحث کا موضوع وزیراعظم پاکستان کا دورہ روس اور اس کے نتائج بن گیا۔ بحث کی وہ دھماچوکڑی مچی یوں لگا کہ امریکی اور روسی بلاک ہمارے ملک میں ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہیں۔ وہ اہم دورہ جس کے بین الاقوامی تعلقات اور سیاسی و معاشی پہلوؤں کو پہلے بحث میں آنا چاہیے تھا تحریک عدم اعتماد کی گرم خبروں کی نظر ہو گیا۔ وزیر اعظم اپنے شیڈول کے مطابق دورہ روس مکمل کر کے واپس آچکے۔

روس اور یوکرین کی جنگ ابھی جاری ہے۔ اس کے پاکستان سمیت پوری دنیا کی منڈیوں پر اثرات شروع ہو چکے ہیں۔ خام تیل کی قیمتیں عالمی منڈی میں سو ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں۔ پاکستان میں بھی مہنگائی کا ایک نیا طوفان آنے کو تیار ہے۔ پہلے سے مہنگائی کی چکی میں پس رہے عوام کے لیے کوئی اچھی خبر کی توقع نہیں ہے۔ اپوزیشن اگر وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد میں کسی طرح سے کامیاب ہو بھی جاتی ہے تو اس کے بعد کیا ہو گا۔ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔

کیا مشکلات میں گھری ہوئی پاکستانی قوم کو کہیں سے کوئی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا میسر ہو گا؟ اپوزیشن کے پاس وہ کون سی جادو کی چھڑی ہے کہ جس کے ذریعے وہ نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی منظر نامے پر چھائی بے یقینی کی صورتحال سے عوامی فلاح کی کوئی راہ کشید کرسکے گی۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں پر آ کر اپوزیشن رہنماؤں کی تمام خواہشات پر دھند پڑنے لگی ہے۔ وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کے کامیاب ہونے کے لئے اپوزیشن جماعتوں کے پاس مطلوبہ اراکین کی تعداد پوری نہیں ہے۔ حکومتی اتحادی اگر حکومت سے الگ ہو بھی جائیں تو اپوزیشن کے پاس ایسا کیا خاص ہو گا جو کہ موجودہ حکومت اپنے اتحادیوں کو نہ دے سکی۔ ”ق لیگ“ اپنے چند نمائندوں کے ذریعے بھی وفاقی اور پنجاب کی صوبائی حکومت میں وسیع تر حصہ وصول کر رہی ہے۔ پنجاب کے وہ اضلاع جہاں

”ق لیگ“ کی نمائندگی ہے، پر عملاً ”ق لیگ“ کی حکومت ہے۔ پنجاب اسمبلی میں سپیکر کا عہدہ اس کے پاس ہے جو کہ وزارت اعلی کے بعد سب سے بڑا منصب ہے۔ اس کے علاوہ قومی اسمبلی میں بھی دو وفاقی وزارتیں اس کے پاس ہیں۔ پنجاب کی وزارت اعلیٰ چوہدری پرویز الہی کی خواہش ہو سکتی ہے اور پیپلز پارٹی انہیں یا آفر بھی کرچکی ہے، تاہم ”ن لیگ“ کو یہ کسی طور پر منظور نہ ہو گا کہ عثمان بزدار کی جگہ نسبتاً زیادہ سیاسی طور پر متحرک شخص پنجاب کا وزیراعلی بن جائے۔

کیونکہ پرویز الہی صاحب نے وزارت اعلیٰ پورے پارلیمانی دورانیہ کے لئے مانگی ہے، وہ اسمبلی کی بقیہ مدت یعنی ڈیڑھ سال تک وزیراعلی رہنا چاہتے ہیں۔ نون لیگ ہرگز یہ نہیں چاہے گی کیونکہ انہیں خبر ہے کہ اس سے ”ق لیگ“ کو پنجاب میں متحرک اور مضبوط ہونے کا موقع مل جائے گا۔ ”ن لیگ“ پنجاب کو اپنا مضبوط سیاسی قلعہ سمجھتی ہے اور بلاشبہ وہ اب بھی پنجاب کی ایک بڑی سیاسی جماعت ہے۔ لہذا نون لیگ ہرگز اپنے مضبوط سیاسی قلعے میں اپنے ہاتھ سے شگاف نہیں ڈالے گی۔

دوسری طرف جہانگیر ترین صاحب بھی سیاسی ملاقاتوں کے بعد بغرض علاج لندن روانہ ہو چکے ہیں۔ لہذا ان کی غیر موجودگی میں ان کا سیاسی گروپ شاید ہی اپوزیشن کی کوئی مدد کر سکے۔ کیونکہ آئینی نقطہ نظر سے تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے منتخب اراکین اگر اپنی جماعت کے خلاف ووٹ دیں گے تو سپیکر ان کو بذریعہ الیکشن کمیشن نا اہل کر سکتا ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف عدم اعتماد کی آپشن بھی زیر غور رہی ہے لیکن اس کے لیے وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد اور پھر وزیر اعظم کے انتخاب کے سے پہلے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا چناؤ لازمی ہے۔

یہ ایک لمبی آئینی اور قانونی کارروائی بن جائے گی۔ علاوہ ازیں بلاول بھٹو کراچی سے مرکزی حکومت کے خلاف اپنا لانگ مارچ شروع کر چکے ہیں اور یہ لانگ مارچ سندھ کے مختلف شہروں سے ہوتا ہوا پنجاب اور پھر اسلام آباد وارد ہو گا۔ 9 مارچ کو اسلام آباد میں بلاول بھٹو کا لانگ مارچ آئے گا۔ کم ازکم اس دوران تو اپوزیشن وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے سے رہی۔ مقتدر حلقوں کی جانب سے بھی اپوزیشن جماعتوں کو کوئی گرین سگنل نہیں ملا ہے۔

کیونکہ وزیراعظم کے ہٹنے سے ملک سیاسی بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد کیا کرنا ہے، سیاسی جماعتوں سمیت کسی کے پاس کوئی جامع منصوبہ بندی نہیں ہے۔ مستقبل کے لائحہ عمل کے لئے بھی سیاسی جماعتیں یکسو نہیں ہیں۔ اس سارے منظر نامے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کو گھر بھیجنا اپوزیشن کے لیے کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اپوزیشن جماعتوں اور ان کے حلیف میڈیا کے عناصر نے تحریک عدم اعتماد کے غبارے میں اتنی ہوا بھر دی ہے کہ اس سے پیچھے ہٹنا اپوزیشن کی سیاسی کمزوری کو مزید عیاں کر دے گا۔ لیکن اب اس غبارے سے ہوا نکلنا شروع ہو چکی ہے، تاہم دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں کس طرح اپنی سیاسی پوزیشن برقرار رکھ سکیں گی۔

Facebook Comments HS