سیاستدانوں کی آنیوں جانیوں سے لاتعلق عوام


پی ایس ایل کے لئے ”لاہور قلندر“ نامی ٹیم کا قیام عمل میں لانے والے فواد اور عاطف رانا میرے دوست نہیں بلکہ چھوٹے بھائیوں جیسے ہیں۔ ان کی خواہش تھی کہ جماندرو لہوریا ہوتے ہوئے میں بھی ان کی لگن کا ہم سفر رہوں۔ نیک تمناؤں کے پرخلوص اظہار کے سوا مگر کسی اور نوعیت کی سرپرستی فراہم کرنے کے میں قابل ہی نہیں تھا۔ سکول کے دنوں ہی سے کھیل کود سے گریز کرتے ہوئے کتابی کیڑا بن چکا ہوں۔ آج تک یہ بھی سمجھ نہیں پایا کہ کوئی بلے باز ایل بی ڈبلیو کی وجہ سے کیوں اور کیسے آؤٹ قرار دیا جاتا ہے۔

کرکٹ کے کھیل سے کامل عدم دلچسپی اور ناواقفیت کے باوجود اتوار کی شام لاہور سے گھر لوٹتے ہی فوراً اپنے کمرے میں لگا ٹی وی آن کر دیا۔ لاہور قلندر اپنی بیٹنگ کے آخری اوورز میں چوکوں چھکوں کا سیلاب برپا کر رہی تھی۔ اس سے بھرپور لطف اٹھایا اور میچ کو آخری لمحات تک پوری توجہ سے دیکھا۔

کئی برس کی پرکٹھن جدوجہد کے بعد ”لاہور قلندر“ اب بالآخر چمپئن ٹرافی کی حق دار ثابت ہو چکی ہے۔ اس مقام تک پہنچنے کے لئے مذکورہ ٹیم کے کھلاڑیوں اور منتظمین نے مشکلات کے جو پہاڑ سرکئے ہیں ان میں سے چند کی تفصیلات سے ذاتی طور پر آگاہ ہوتے ہوئے بھی میں فقط مبارک اور شاباش کے الفاظ ہی ادا کر سکتا ہوں۔ میرے قنوطی پن سے بخوبی آگاہ ہوتے ہوئے رانا برادران ”تھوڑے کو بہت“ مانتے ہوئے میرے ان جذبات کو یقینامحبت سے قبول کریں گے۔ دہری مبارک باد کے مستحق وہ اس لئے بھی ہیں کہ طویل وقفے کے بعد میں نے لاہورمیں پی ایس ایل کی بابت گرم جوشی کو حقیقی معنوں میں موجزن دیکھا۔ قذافی سٹیڈیم کی رونق اور گہماگہمی بھرپور انداز میں لوٹ آئی ہے اور ”لاہور قلندر“ نے میرے آبائی شہر میں بے تحاشا دلوں کوگرماتے ہوئے انہیں بالآخر فخروانبساط بھی فراہم کر دیا ہے۔

پی ایس ایل کی بدولت ابھری گرم جوشی کے تناظر میں اپنے مختصر قیام لاہور کے دوران ذات کے اس رپورٹر نے مگر سیاسی معاملات کی بابت سردمہری کو حیران کن محسوس کیا۔ اپنے قیام کے دوران میں نے بیشتروقت فقط اپنی فیملی کے ساتھ صرف کیا۔ اتوار کی دوپہر البتہ نکاح کی ایک تقریب میں شریک ہوا۔ وہاں مدعو ہوئے افراد لاہوری مزاج کے بھرپور نمائندے تھے۔ دس برس تک ٹی وی پروگراموں کی میزبانی کی وجہ سے کئی اجنبی افراد سماجی تقریبات کے دوران مجھ سے ازخود گپ شپ کا آغاز کرتے ہیں۔ سیلفی وغیرہ ہو جائے تو نہایت اشتیاق سے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ سیاسی محاذ پر کیا ہو رہا ہے۔ اتوار کی دوپہر 30 کے قریب اجنبیوں سے ملاقات ہوئی۔ ان میں سے کسی ایک نے بھی لیکن یہ معلوم کرنے میں دلچسپی نہیں دکھائی کہ اپوزیشن جماعتیں عمران حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد واقعتاً لارہی ہیں یا نہیں۔ اگر تحریک عدم اعتماد واقعتاً پیش ہونا ہے تو اس کا ممکنہ انجام کیا ہو سکتا ہے۔

سیاسی معاملات کی بدولت لاہور جیسے باتونی شہر میں ایسی لاتعلقی مجھے حیران کن محسوس ہونا لازمی تھا۔ اس کے ہوتے ہوئے روایتی اور سوشل میڈیا پر ان دنوں حاوی ہوئی بحث اور سوالات بھی ہمارے عام متوسط طبقے کے نمائندہ افراد کے لئے قطعاً لاتعلق محسوس ہوئے۔ اسلام آباد لوٹتے ہوئے میں سکھیکی کے مقام پر چائے وغیرہ کے لئے رکا۔ وہاں بھی دس کے قریب افراد نے محض میرے ساتھ سیلفی بنائی اور روایتی خیروعافیت کی دعا مانگنے کے بعد رخصت ہو گئے۔

سیاسی معاملات کے بارے میں جس لاتعلقی کا مشاہدہ کیا اس کی بابت کئی گھنٹے سوچتا رہا ہوں۔ مجھے گماں ہے کہ عوام کی اجتماعی نظر آنے والی مذکورہ لاتعلقی کا حقیقی سبب یہ ہے کہ ہماری اپوزیشن جماعتیں اپنی قیادتوں کی ”آنیوں جانیوں“ اور ایک دوسرے سے تنہائی میں ہوئی ملاقاتوں کی بدولت لوگوں کو یہ پیغام دے رہی ہیں کہ وطن عزیز میں سیاسی منظر نامہ تشکیل دینے کے حوالے سے وہ کسی قوت کے حامل نہیں۔ حکومتیں بنانے اور انہیں ہٹانے کا اختیار میرے اور آپ جیسے پاکستانی کو ہرگز میسر نہیں ہے۔ ہمارے ووٹوں کی بدولت جو افراد قومی اسمبلی میں پہنچے ہیں وہ محض اقتدار کا کھیل رچانے میں مصروف ہیں۔ دور حاضر میں گویا ایک نئی طرز کی محلاتی سازشیں ہو رہی ہیں۔ عام آدمی کا ان سے کوئی لینا دینا نہیں۔

ملکی تاریخ کا بغور مطالعہ کریں تو ایسی محلاتی سازشیں ہمارے ہاں 1950 ء کی دہائی میں متعارف ہوئی تھیں۔ لیاقت علی خان کے 1951 ء میں قتل کے بعد برطانوی سامراج کا سدھایا ملک غلام محمد ہمارا گورنر جنرل ہوا۔ برطانیہ ہی کے ایک اور سیاسی جوڑ توڑ کے حوالے سے تربیت یافتہ کارندے میجر جنرل اسکندر مرزا نے اسے وزیر اعظم لگانے اور ہٹانے والے اختیارات کا بھرپور استعمال سکھایا۔ پاک فوج کے پہلے دیسی سربراہ جنرل ایوب خان اس ضمن میں معاونت فراہم کرنے کے باوجود نہایت ہوشیاری سے ”دیدہ ور“ کی صورت نمودار ہونے کی تیارکرتے رہے۔ بالآخر اکتوبر 1958 ء ہوا او ر 1668 ء تک ہم بے بس و اختیار ہوئے ایوب خان اور اس کے مصاحبین کے بنائے راستے پر سرجھکائے چلتے رہے۔

مجھ جیسے سادہ لوح یہ فرض کیے بیٹھے تھے کہ 2000 ء سے شروع ہونے والی ”نئی صدی“ میں 1950 ء کی دہائی والی تاریخ نہیں دہرائی جائے گی۔ ہم جیسے خام خیالوں کو درست ثابت کرنے کے لئے ”ووٹ کو عزت دو“ والا نعرہ بھی بلند ہوا۔ وہ نعرہ مگر اب فراموش کر دیا گیا ہے۔ آصف علی زرداری، شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمن ایک دوسرے سے مسلسل ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ مذکورہ ملاقاتوں کے دوران نظر بظاہر فقط یہ طے کیا جا رہا ہے کہ تحریک انصاف سے ناراض ہوئے کتنے اراکین اب برملا بغاوت کے اظہار کو آمادہ ہوچکے ہیں۔ ان کی ”بغاوت“ تحریک عدم اعتماد والی گوٹ چلانے کے لئے کافی ہے یا نہیں۔ فرض کیا یہ گوٹ چلادی جائے اور اس کے نتیجے میں عمران خان صاحب کو شہ مات کا سامنا کرنا پڑے تو اس کے بعد کیا کرنا ہے۔ فوری انتخاب یا موجودہ پارلیمانی بندوبست ہی کو 2023 ء تک برقرار رکھناہے۔

ان سوالات کی بابت فیصلہ ہو بھی جائے تو کم از کم مجھ جیسے نام نہاد صحافی کو ہرگز خبر نہیں کہ مہنگائی کا طوفان روکنے کے لئے عمران خان صاحب کو وزارت عظمیٰ کے منصب سے ہٹانے کو بے چین اپوزیشن جماعتیں کون سی حکمت عملی تیار کیے ہوئے ہیں۔ آئی ایم ایف کے ساتھ 2019 ء میں ڈاکٹر حفیظ شیخ نے جو بندوبست طے کیا تھا اسے برقرار رکھنا ہے یا نہیں۔ اسے برقرار رکھتے ہوئے مہنگائی روکنے کی راہ دریافت ہونہیں سکتی۔ مذکورہ بندوبست کو یکسر رد کر دینا بھی تاہم حکمت عملی کے حوالے سے بے تحاشا سوالات اٹھائے گا۔ ان تمام امور کے بارے میں لیکن سنجیدہ اورگرم جوش بحث ہونہیں رہی۔ ایسے عالم میں عوام کی بے پناہ اکثریت سیاستدانوں کی آنیوں جانیوں سے قطعاً لاتعلق محسوس کرتے ہوئے پی ایس ایل کے میچوں سے اپنا جی نہ بہلائے تو اور کیا کرے۔
بشکریہ نوائے وقت۔

Facebook Comments HS