روس بمقابلہ یوکرائن۔ جنگ کے چار روز بعد مذاکرات پر اتفاق رائے


اتوار کے دن روسی افواج کے حملے کے خلاف یوکرائن کی فوجوں کی کامیاب مزاحمت کے بعد روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے نیوکلیئر ہتھیاروں سے مسلح افواج کو ہوشیار رہنے کا حکم دیا ہے امریکہ کا کہنا ہے کے پیوٹن جنگ کو ناقابل قبول انداز میں بڑھا رہے ہیں دوسری جنگ عظیم کے بعد اب تک کسی بھی یورپین ریاست پر یہ سب سے بڑا حملہ ہے دفتر صدر یوکرائن کے مطابق ماسکو اور کار کیو کے مابین مذاکرات بغیر پیشگی شرائط کے بیلاروس اور یوکرائن کی سرحد پر کیے جائیں گے روسی افواج کی جانب سے یوکرائنی شہروں پر میزائلوں کی بارش کے بعد ہزاروں یوکرائنی شہری، بچے خواتین اور بوڑھے روسی حملوں سے بچنے کے لیے ہمسایہ ممالک کی جانب انتقال کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ دارالحکومت کیو کا نظام اب تک یوکرائن کے پاس ہے اور روسی افواج کے شہری املاک پر شدید حملوں کے باوجود یوکرائنی صدر نے اپنے لوگوں کو متحد کرنا شروع کر دیا ہے۔

صدر پیوٹن کے مطابق یہ ایک خاص فوجی آپریشن تھا جس کے تحت پیش آنے والی مزاحمت کے نتیجے میں نیوکلیائی ہتھیاروں سے مسلح افواج کو ہوشیار رہنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ مغربی ممالک کی بین الاقوامی تنظیم نیٹو اور اقوام متحدہ کی جانب سے عائد کردہ معاشی پابندیوں اور ان تنظیموں کی اہم قیادت کے جارحانہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے روسی صدر پیوٹن نے قومی ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں کہا ہے کہ نیٹو ممالک کی جانب سے عائد کی جانے والی اقتصادی پابندیاں غیر قانونی ہیں اور یہ اقدام غیر دوستانہ عمل ہے۔

صدر پیوٹن نے یوکرائنی اتحادی ممالک کو واضح الفاظ میں سنگین نتائج کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کے ملٹری آپریشن کے خلاف مزاحمت میں یوکرائن کی مدد کرنے والے کسی بھی ملک کو ایسی جنگی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا جو تاریخ میں کبھی کسی نے نہیں کیا ہو گا۔ اس بیان کے جواب میں فرانسیسی صدر نے اسی دن کہا کے روسی صدر اور افواج کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کے نیٹو بھی ایک نیوکلیائی اتحاد ہے۔

یوکرائن کے وزیر خارجہ دمیترو کولیبا کا کہنا ہے پیوٹن کا اپنی افواج کے لیے حکم نام دھمکی آمیز ہے مگر ہم اس سے گھبرانے والے نہیں اگر پیوٹن، یوکرائن کے خلاف نیوکلیائی ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہیں تو یہ اقوام عالم کے لیے انتہائی نقصان دہ ہو گا۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے لیے امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے کہا ہے روسی صدر جنگ کو ناقابل قبول انداز میں بڑھا رہے ہیں اور ان کے ان اقدامات کی مذمت کرنا ہوگی یوکرائنی ایجنسی کے انکشاف کے مطابق روسی افواج نے کارکیو میں نصب قدرتی گیس کی پائپ لائن تباہ کر دی ہے۔ کریملن سے گیس کی فراہمی اور انتظامی کام سر انجام دینے والی کمپنی کے مطابق روس اور یوکرائن سے ملحقہ دیگر یورپی ممالک کی ترسیل اس حملے سے متاثر نہیں ہوئی

بین الاقوامی ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی جاری کردہ رپورٹس کے مطابق یوکرائن میں فضائی حملے اور بمباری کے خطرات کے پیش نظر یوکرائنی شہریوں کو ہوٹلوں کی پارکنگ میں بستر لگا کر پناہ حاصل کرنی پڑی۔ یوکرائنی حکومت نے لوگوں کو گلیوں، بازاروں اور سڑکوں سے منتشر کرنے کے لیے انتالیس گھنٹے کا کرفیو نافذ رکھا اور ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد جن میں بچے بوڑھے اور خواتین بھی شامل ہیں ہمسایہ ممالک کی طرف منتقل ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے ہمسایہ ممالک کی طرف کوچ کر جانے والے یوکرائنی شہریوں کی تعداد چار لاکھ تک بڑھ سکتی ہے

اقوام مغرب کے یوکرائنی اتحاد میں کے جانے اقدامات کے مطابق روس کی یورپین فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے زمینی، فضائی یا سمندری حملہ کرنے کی صلاحیت کو روکنے کے انتظامات مکمل ہونے کا عندیہ دے دیا ہے۔ ہفتے کے روز امریکہ اور یورپ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کے وہ روس کے تمام بڑے مالیاتی اداروں کو عالمی منڈی میں تجارتی اور دیگر مالیاتی امور کے حوالے سے کی جانے والی ادائیگیوں کو روک دیں گے۔ جس کا مقصد ان کے جنگی کارروائیوں کے لیے مختص ذخائر کو محدود کرنا ہے۔

لڑائی کی تازہ ترین معلومات کے مطابق روسی مسلح بردار افواج اور ہتھیاروں سے لیس گاڑیوں کو یوکرائن میں گشت کرتے دیکھا گیا ہے مزید برآں فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دیتی رہی ہیں۔ جبکہ یوکرائنی صدر ولادیمور زیلنسکی نے ویڈیو پیغام کے ذریعے وضاحت کی ہے کے انہوں نے حملوں سے اپنی سر زمین کا دفاع کیا ہے۔ اور دارالحکومت پر اب بھی ان کا مکمل کنٹرول ہے۔

یوکرائن کے علاوہ جرمنی میں بھی احتجاج برخلاف جنگ جاری رہا اور لوگ اکٹھے ہو کر روسی جارحیت کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے انہوں نے یوکرائنی پرچم اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ اقوام متحدہ کی جنگی حالات میں بحالی کی خدمات فراہم کرنے والی ایک ایجنسی کے مطابق اب تک ساڑھے تین لاکھ افراد سے زائد لوگ ہجرت کی غرض سے بسوں ریلوے سٹیشن اور سرحدوں کا رخ کر چکے ہیں۔ یوکرائنی وزیر صحت نے ایک سو اٹھانوے افراد جن میں تین بچے بھی شامل ہیں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

جب کے مشیر صدر کے مطابق مزاحمتی حملوں میں ساڑھے تین ہزار روسی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں جرمنی نے جدید دفاعی اسلحہ اور زمین سے فضا میں مارے جانے والے میزائل یوکرائن کو فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی پابندیوں کے ساتھ اسلحہ اور جنگی ساز و سامان یوکرائن کی حمایت میں فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے خطے میں سرد جنگ میں اضافے کا امکان ہے

یاد رہے کے یوکرائن سوویت یونین کے تحلیل ہونے کے نتیجے میں انیس سو اکانوے میں روس سے آزاد ہو کر معرض وجود میں آیا تھا۔ ساڑھے چار کروڑ کی آبادی پر مشتمل یہ جمہوری ملک ہے جسے نیٹو اور مغربی فوجی اتحاد کے نتیجے میں روس کی مخالفت کا سامنا ہے

مترجمہ رائٹرز کی شائع کردہ رپورٹ

Facebook Comments HS