عورت مارچ اور اس کے سلوگن


آج کل ذرائع ابلاغ میں مجوزہ ”عورت مارچ“ کا بہت ذکر ہے اور اس ضمن میں ان اجتماعات کی حمایت اور مخالفت موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ زیادہ تر جس پروٹوکول کا ہمارے مذہبی , سماجی اور معاشرتی تناظر میں حوالہ دیا جاتا ہے , اس میں بھی نکاح کو عورت کی رضامندی سے مشروط اور لازم قرار دیا گیا ہے , گویا عورت جس سے چاہے گی اس سے رشتہ ازدواج قائم کرے گی , اور اس بارے میں حتمی اختیار اس کے ولی کو بھی نہیں دیا گیا۔ بنیادی طور پر ”میرا جسم میری مرضی“ اسی حق کی نشاندہی اور یاددہانی کرتا سلوگن ہے۔

حضرت خدیجہ رض اس اختیار کی روشن مثال ہیں اور رشتہ ازدواج قائم کرنے کا یہ طریقہ بھی مسلم خواتین کے لیے ایک معیار سمجھا جا سکتا ہے۔ آج بہت سی ایسی سنن ہیں , جن پر ہم عملی طور پر اجتہاد کر چکے ہیں , جن میں تعداد ازدواج بھی شامل ہے , بلکہ اب اس جدید دور میں اس چار شادیوں کے حکم پر بھی اکثریت عمل نہیں کر رہی , بلکہ اکثریت وقت کے تقاضوں کے پیش نظر ایک وقت میں ایک پر ہی اکتفا کئیے ہوئے ہے۔ خواتین کی حیثیت حقوق اور ان کے اختیار پر بھی بنیادی احکام کو چھیڑے بغیر ہمدردی سے غور کرنے کی ضرورت ہے , اور مسئلہ کا حل یہ ہرگز نہیں کہ ان خواتین کے قانونی اجتماع پر مدرسوں کے طالب علموں یعنی ”طالبان اور طالبات“ کو گاڑیوں میں بھر کر لایا جائے اور ان مدرسوں کے طلباء سے اس اجتماع پر پتھراؤ کروایا جائے , یا کچھ اداروں جن کا قانونی اور آئینی کام دراصل کچھ اور ہے وہ باقاعدہ منصوبہ بندی کریں اور سماج کی متشدد تقسیم کے مذموم مقصد سے ان مظاہروں اور اجتماعات میں باآسانی نفوذ کر کے اپنے یا اپنی ایجنٹوں کے ذریعے واضح طور پر انتہائی قابل اعتراض اور فحش قسم کے بینر لہروائے جائیں , اور خصوصی طور پر مامور میڈیا کے ذریعے ان قابل اعتراض بینرز یا پوسٹرز کو نمایاں کیا جائے تاکہ رائے عامہ اور عوام کی توجہ اس اجتماع کے اصل پیغام سے ہٹ کر فروعی , غیر متعلق , اور قابل اعتراض نعروں یا بینرز کی طرف مبذول ہو جائے , باہمی نفرت اور عدم اعتماد میں اضافہ ہو , اور اس بنیاد پر عوام کی رائے کو باآسانی گمراہ کیا جا سکے , دو سال قبل کراچی کے عورت مارچ کے اجتماع میں ایک بزرگ ویل چئیر پر بیٹھے ایک عجیب سا بینر لہرا رہے تھے , جس پر لکھا تھا کہ نکاح کی رسم کو ختم ہو جانا چاہیے اب معلوم نہیں کہ وہ کوئی ذہنی مریض تھے, یا ان کو خصوصی طور پر اس اجتماع کو سبوتاژ کرنے کے لیے مامور کیا گیا تھا, کیونکہ اس مارچ کے منتظمین کے جاری کردہ چارٹر آف ڈیمانڈ اور مطالبات کی فہرست میں ایسا کوئی مطالبہ شامل نہیں تھا, وہاں موجود اکثر ذرائع ابلاغ نے انھیں بزرگ پر فوکس کیا ہوا تھا , اور ایسی کوشش کی جا رہی تھی کہ ان کے اس مضحکہ خیز سلوگن کو اس اجتماع کے دیگر بنیادی نوعیت کے سنجیدہ مطالبات کے مقابلے میں زیادہ سے زیادہ واضح کیا جائے , اور وہ کافی حد تک اس کوشش میں کامیاب بھی رہے کیونکہ اب تک گاہے بگاہے اس اجتماع کے مخالفین ان کے اس بینر کا حوالہ دیتے نظر آتے ہیں۔

اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اس منصوبہ بند مخالفانہ مہم میں دائیں بازو کے اہل قلم کی خدمات بھی حاصل کی جاتی ہیں , اور ساتھ ہی ذرائع ابلاغ میں بھی ان اجتماعات اور ان کے بنیادی اور جائز مطالبات کے خلاف عوام کی ذہن سازی کا عمل شدت سے جاری ہے , اور اس مہم کے دوران , عوام کے مذہبی اعتقادات اور تعصبات کے اثر کو استعمال کرتے ہوئے , ان کو اس اجتماع کے بنیادی مطالبات پر ہمدردی سے غور کرنے کے بجائے , ان مطالبات کو مکمل طور پر شریعت, اسلام اور ہماری سماجی اور معاشرتی اقدار کے منافی ظاہر کرتے ہوئے عوامی رائے کو گمراہ کئیے جانے کی منظم اور واضح کوششیں کی جا رہی ہیں۔

اب اس اجتماع یعنی عورت مارچ کے منتظمین پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ باقاعدہ مشاورت کے ذریعے اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ طے کر کے اس اجتماع کے شرکاء کو ان بنیادی اور معیاری مطالبات کے مطابق ہی بینرز اور پوسٹرز اس اجتماع میں لگانے یا لہرانے کی اجازت دیں , اور اس ضمن میں مضحکہ خیز اور قابل اعتراض سلوگن, بینر , پوسٹر یا نعروں کی شکل میں لگانے سے اجتناب کیا جانا چاہیے , مثلاً میں موزے نہیں دھووں گی , میں ناشتہ نہیں بناؤں گی , میں فلاں لباس پہنوں گی یا میں فلاں لباس نہیں پہنوں گی , بستر نہیں گرم کروں گی وغیرہ وغیرہ ایسے مضحکہ خیز نعروں کی وجہ سے اصل اور بنیادی سنجیدہ مطالبات پس منظر میں چلے جاتے ہیں , اور ہمارا میڈیا , عوام کے تماش بینی کے عمومی، سطحی شوق اور ذوق کی وجہ سے ایسے بینرز , پوسٹرز اور نعروں پر زیادہ توجہ مبذول کر دیتا ہے , اور عوام کی دلچسپی کی وجہ سے انھیں زیادہ ہائی لائٹ بھی کیا جاتا ہے۔

لہذا ان اجتماعات کے منتظمین کو ان امور پر توجہ دینی چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے , کہ کسی غیر ذمہ دارانہ حرکت یا سلوگن کی وجہ سے اس تحریک کے بنیادی موقف اور شرکاء کو ٹریپ نہ کیا جا سکے۔ اور یہ اجتماع موثر طور پر اپنے معیاری اور بنیادی مطالبات عوام تک پہنچانے میں کامیاب ہو سکے۔ شنید ہے کہ اس بار بنیادی سلوگن یہ ہے کہ اپنی بیٹیوں کو ضرور تعلیم دیں لیکن اپنے بیٹوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ یہ تربیت بھی دیں , کہ خواتین کا عزت و احترام کس طرح کیا جاتا ہے۔

Facebook Comments HS