ارشد عبدالحمید کا شعری مجموعہ: چراغاں سر خواب


ہمیں تو شمع کے دونوں سرے جلانے ہیں

شاعر و ناقد ارشد عبدالحمید کے شعری مجموعہ ’چراغاں سر خواب‘ پر گفتگو سے قبل ضروری ہے کہ کچھ غیر ضروری باتوں پر روشنی ڈالی جائے تاکہ یہ مطلع صاف ہو سکے کہ ناقابل فہم حد تک تجریدی ابہام و علائم کے عہد کمال میں سخن کا نیا در وا کرنا یا شناخت کی نئی راہیں نکالنا کتنا کٹھن مرحلہ تھا۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ ارشد عبد الحمید نے جدیدیت کا عروج اور مابعد جدیدیت کا آغاز دونوں ادوار کی بوالعجبیوں کو دیکھا بھی ہے اور جیا بھی ہے۔

جدیدیت کے عروج کے دنوں میں وہ جوان تھے اور جب مابعد جدیدیت نے غلغلہ ہائے الاماں کا شور مچایا تو وہ پختگی عمر کے دائرے میں داخل ہوچکے تھے۔ 1978 سے 2021 تک کے اس شعری سفر کا سرمایہ دو مجموعوں ’صدائے آبجو‘ اور ’چراغاں سر خواب‘ کی صورت باہر آ چکا ہے۔ ’چراغاں سر خواب‘ میں 2004 کے بعد کی غزلیں اور نظمیں شامل ہیں یعنی آپ یہ امید کر سکتے ہیں کہ ان غزلوں اور نظموں میں جدیدیت کا بے معنی ابہام شامل نہیں ہو گا کیوں کہ تب تک درون ذات دفن ہونے اور کرنے کا رجحان دم توڑ چکا تھا اور شعراء سعی سخن گستری میں نئی راہیں تلاش کرنے میں کامیاب ہونے لگے تھے۔ ملاحظہ کریں ؎

ہمیں تو شمع کے دونوں سرے جلانے ہیں
غزل بھی کہنی ہے شب کو بسر بھی کرنا ہے

اس شعر کی ایک ممکنہ تشریح یوں بھی کی جا سکتی ہے کہ شمع تخلیق اور اس کے دونوں سرے جدیدیت اور مابعد جدیدیت کا استعارہ ہیں۔ شاعر نے دوسرے مصرعے میں ناوابستہ تخلیق کار ہونے کا کرب بیان کیا ہے کہ جبر کی ان دو انتہاؤں (سرے ) کے درمیان رہتے ہوئے غزل کہنا اور رات بسر کرنا کتنا مشکل امر ہے۔

تو اب بات کرتے ہیں پہلے شاعری کی کہ شاعری بس شاعری ہے، یہ یا تو ہوتی ہے یا نہیں ہوتی، بقول محبوب خزاں (بات یہ ہے کہ آدمی شاعر/یا تو ہوتا ہے یا نہیں ہوتا) ۔ اب اگر ہوتی ہے تو کیسی ہوتی ہے اسے ایک طرف رکھیں اور یہ سوچیں کہ اگر کرنی ہو تو کیسے کریں گے؟ اس کا آسان سا جواب جاں نثار اختر ہمیں فراہم کر چکے ہیں کہ یہ ایک آگ ہے اور اسے چند لفظوں میں ’چھپا‘ دینا ہے۔ آگ کو چھپانا کار محال لگ رہا ہے نا؟ جی ہاں یہ کار محال ہی تھا جو اب کار فضول ہو گیا ہے۔ کچھ چھچھلے شاعروں، کچھ مشاعروں اور کچھ لٹکا جھٹکا پسند سامعین نے اسے معاشرے کا واہیات شغل بنا دیا ہے۔ بصورت دیگر آگ کو چند لفظوں میں ’چھپانا‘ اگر کار محال نہیں تو اتنا آسان بھی نہیں تھا جیسا کہ استاد ذوقؔ نے فرمایا ہے

نہ ہوا پر نہ ہوا میرؔ کا انداز نصیب

ذوقؔ یاروں نے بہت زور غزل میں مارا

یعنی زور مارنے، کانکھنے اور ہانپنے سے آپ اس آگ کو نہیں چھپا سکتے تھے، اگر ایسا ہوتا تو ہما شما سب صاحب دیوان ہوتے اور صاحب دیوان ہی نہیں ہوتے بلکہ کوئی کسی سے کم ہی نہیں ہوتا۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ جو شاعری بس شاعری ہے تو اس کا ماخذ کیا ہے؟ یہ کس وادی مقدس میں شرر بار ہے؟ وہاں تک پہنچنے کا راستہ کیا ہے اور اس شرر سے سینے کو منور کیسے کیا جاسکتا ہے؟ شاعری میں یہی وہ مقام ہے جہاں مرزا نوشہ کا داخلہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ نوشہ کی یہ بات زیادہ قرین قلب و دماغ معلوم ہوتی ہے

آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
غالبؔ صریر خامہ نوائے سروش ہے

مرزا نے اس کار محال کو اور مشکل بنا دیا ہے۔ اب یہ محض ایک آگ کو لفظوں میں چھپانے کا نام نہیں ہے بلکہ اس سے قبل ایک نوائے سروش آئے گی، اس سے ایک آگ پیدا ہوگی اور شاعر کو اس آگ کے سائے میں سفر کرنا ہو گا ― وہ شاعری کے وادی مقدس طویٰ میں ہے سو اسے ’نعلین‘ اتار کر، پابرہنہ، خار بداماں چلنا ہو گا―آگ کو چند لفظوں میں چھپاتے اور اس کی روشنی کو شرق و غرب میں پھیلاتے ہوئے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ارشد عبدالحمید نے جس عہد میں فکر و خیال کو شعریت عطا کرنے کی کوشش کی وہ جدیدیت کا عہد تھا جس نے نوائے سروش کو شعوری کوشش کے تابوت میں دفن کر دیا تھا۔ جو کچھ تھا انسان تھا، اس کی ذات، اس کا انحراف اور اس کا شعور تھا۔ باقی تلازمات ضمنی حیثیت رکھتے تھے۔

ارشد عبدالحمید سے ہماری شناسائی کچھ یوں ہوئی کہ اچانک ایک شخص ہمارے درمیان وارد ہوا اور اس نے اچھے، بہتر اور بہترین سے لے کر اخور بخور تمام افسانوں پر علم کا دریا بہانا شروع کر دیا، پختہ نثر میں کلومیٹر کے حساب سے تبصرے اور ایسے ایسے عقدہ کشا نکات کہ عقل حیران ہو جائے۔ پوچھنے پر ارشاد فرمایا کہ نئے قلم کاروں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ اور اسی وقت یہ بھی معلوم ہوا کہ اچھا موصوف خود افسانے نہیں لکھتے۔

ان کا اصل تخلیقی سرمایہ شاعری اور تنقید ہیں۔ اور جب ان کی شاعری سے شرف حاصل کرنے کا اتفاق ہوا تو معلوم ہوا کہ وہ صرف شاعری ہی نہیں کرتے ہیں بلکہ اپنے جدید کلاسیکی لہجے اور مضامین کی وجہ سے عرفان صدیقی اور اسعد بدایونی کا تسلسل بھی ہیں۔ یعنی ان کی شاعری میں مضامین کی سطح پر روایت سے مثبت انحراف کی مثالیں تو ملتی ہیں لیکن تراکیب، لفظیات یا ڈکشن کی سطح پر توڑ پھوڑ اور شکست و ریخت کی گمک نہیں۔ وہ شاعری میں فارسی آمیز تراکیب کا استعمال کرنے میں کانشیس (حساس و محتاط) نظر نہیں آتے اور نہ ہی تجرید و علامت کے کچھار میں رن کرتے اور نہ ہی اپنے پیش رو شعرا مثلاً بشیر بدر اور ندا فاضلی وغیرہم کی طرح شاعری کی لسانی تطہیر (لنگوئسٹک پیوریفیکیشن) پر یقین کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

جدیدیت نے فکر، احساس، اور جذبہ کی تثلیث میں سے فکر و فلسفے کو اوڑھ لیا اور احساس اور جذبے کی ’میلی‘ چادر کو ایک طرف پھینک دیا تھا۔ فوقیت اس امر کو دی گئی کہ تخلیق احساس اور جذبے کی سطح پر قاری سے ہم کلام ہو یا نہ ہو فکری سطح پر ضرور ہونی چاہیے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ تخلیق میں دانش ساعت تو موجود ہے لیکن نبض ساعت کی دھڑکن سانس لیتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ جدیدی رجحان کے تحت تخلیق پانے والی بیشتر نگارشات کا یہی المیہ رہا ہے کہ وہ احساس اور جذبوں کی سطح پر ذوق لطیف کو غذا فراہم کرتی ہوئی نظر نہیں آتیں۔ انہوں نے ادب کو دانشوری میں تبدیل کر دیا تھا۔ ارشد عبدالحمید نے ادب کو ادب ہی رہنے دیا ہے۔ یعنی وہ فکر، احساس اور جذبات تینوں سطح پر قاری کو خود سے مربوط رکھتے ہیں۔ ملاحظہ کریں

خبر کسے تھی کہ دنیا محیط کر لے گا― وہ اشک جس میں فسانہ مرے ملال کا تھا
یہ ہم جو دشت تحیر کے شعر کہتے تھے ―ہماری غزلوں پہ سایہ کسی غزال کا تھا

جینوئن/حقیقی/اوریجنل شاعر کے یہاں موضوعات و مضامین کی دنیا محدود ہوتی ہے لیکن انہیں موضوعات کے حوالے سے اس کے افکار و تجربات کا بساط بسیط و بیکراں ہوتا ہے۔ وہ فکری انتشار کی مرکزیت میں رہتے ہوئے اپنی الہامی قوت کو بروئے کار لاکر، کلاسیکی علائم و استعارات کو نئے پیرہن میں ملبوس کر کے معنیٰ آفرینی کا ایک نیا جہان آباد کرتا ہے۔ سائنسی، طبی اور تکنیکی موضوعات و مسائل تجربے کے موضوعات و مسائل ہیں شاعری کے نہیں۔

اگر یہ کسی طور شاعری میں در آتے ہیں اور اچھی تخلیق کا سبب بن جاتے ہیں تو فبہا و نعمت، بصورت دیگر اس بنیاد پر شعری کائنات کی قدر پیمائی نہیں کی جا سکتی کہ اس نے مائکرو بایولوجی، سیل، ایٹم، انزائم اور مالیکولز وغیرہ وغیرہ کی تحلیل نفسی کیوں نہیں کی ہے۔ یہ عصری مسائل سے ہم آہنگ ہونے کا بہت ہی واہیات مطالبہ ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ آپ تخلیق کار سے کسی بھی چیز کا کوئی بھی مطالبہ نہیں کر سکتے۔ موضوعاتی جدت یا ندرت ماسوا ایک فرسودہ خیال کچھ نہیں۔

’چراغاں سر خواب‘ میں بھی وہی پرانے کلاسیکی و آفاقی مضامین ہیں۔ خیال و خواب اور امید و ملال کی دنیا ہے، عشق و محبت کی دھوپ چھاؤں ہے، ہجر و وصال کا جمال ہے، سیاسی و معاشرتی جبر و استحصال کا کرب ہے، فرد کی رائگانی کا ماتم ہے لیکن پیرایۂ اظہار روایت اور انحراف کے درمیان توازن کا عمدہ مثالیہ ہے۔ مشق سخن کے لیے منتخب مضامین میں خیال و خواب کی دنیا کو مرکزیت حاصل ہے اور اس کا واضح اشارہ مجموعے کے نام ’چراغاں سر خواب‘ سے بھی ملتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کون سے خواب ہیں جسے ارشد عبدالحمید شرمندہ تعبیر کرنا چاہتے ہیں اور اس کی تعبیر کے لیے کون سے طریقے جتن کیے ہیں۔ اس وادیٔ خوابشار میں قدم رکھنے سے قبل عرفان صدیقی کا ایک شعر ملاحظہ کریں۔

دو جگہ رہتے ہیں ہم، ایک تو یہ شہر ملال
ایک وہ شہر جو خوابوں میں بسایا ہوا ہے

’چراغاں سر خواب‘ ارشد عبدالحمید کا شہر خیال اور شہر خوابشار ہے۔ یہ مایوسی کی انتہا بھی ہو سکتی ہے اور ایک جینوئن فنکار کی عافیت گاہ بھی۔

یہ کوئی اور ہے جو بول رہا ہے مجھ میں
میں تو مدت سے ہوں اک خواب گراں میں خاموش
یہ رخت خواب نہ ہوتا تو مر گئے ہوتے
یہی ہے چھاؤں ہماری یہی سرائے سفر
دل و نگاہ کو بے تاب دیکھنے کے لیے
جہاں میں آئے ہیں ہم خواب دیکھنے کے لیے
نور امکان کا ہو جیسے نمایاں سر خواب
صرف احساس ہے یا ہے یہ چراغاں سر خواب
پھر وہی خواب ہے اور خواب میں روش خیمہ
پھر رواں جادہ آواز درا پر کوئی ہے
سحر کو پھر وہی سورج وہی اندھیرا ہے
چراغ خواب تری روشنی ہے کتنی دیر

محولہ بالا تمام اشعار شاعر کی مختلف حسی و فکری کیفیات کا اظہاریہ ہیں جس میں خواب اپنی مختلف پرچھائیوں کے ساتھ کلیدی استعارے کے طور پر نئی معنوی جہات کے در وا کر رہا ہے۔ پہلے شعر کا امتیازی وصف بیک وقت مثبت و منفی معنیٰ کا حسین انضمام ہے۔ شاعر کی ذات ’خواب گراں‘ میں خاموش ہے اور اس کی جگہ پر اس کا ضمیر بول رہا ہے یا پھر شاعر کا ضمیر خواب گراں میں بدمست ہے اور اس کا شر بول رہا ہے۔ دوسرے شعر میں ’رخت خواب‘ اور ’سرائے سفر‘ کا معکوس ترکیبی اہتمام قابل غور ہے۔

عموماً رخت سفر (سامان سفر) اور خواب سرائے (خواب محل) کی ترکیب استعمال کی جاتی ہے لیکن شاعر نے اس ترکیب کو مقلوب کر دیا ہے جس سے معنی میں ندرت و وسعت پیدا ہو گئی ہے۔ بات سامان سفر (کلاسیکی استعمال) سے بڑھتے ہوئے سامان خواب ( جدید استعمال) تک پہنچ گئی ہے کہ اگر یہ نہیں تو کوئی چھاؤں اور کوئی سفر نہیں۔ لہٰذا پہلے خواب دیکھو، رخت خواب جمع کرو، اس میں رہنا سیکھو اور اسے تعبیر کرو۔ آخری تین اشعار امید و رجائیت کا اظہاریہ ہیں۔ شاعر نے پرانے مضمون کو نئے انداز میں باندھا ہے۔

ارشد عبدالحمید کی شاعری میں دوسری مرکزی کلید عشقیہ مضامین کو حاصل ہے۔ بلا شبہ شاعری کا یہ سب سے قدیم، روایتی، فرسودہ اور پامال مضمون ہے لیکن اس کے بغیر دنیا کی کوئی بھی شاعری نہ مکمل ہوئی ہے اور نہ ہو سکتی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ارشد عبدالحمید نے عشقیہ روایت سے کیسے استفادہ کیا ہے اور اپنے لیے کیسے نئی راہ نکالی ہے۔ ذیل میں کچھ اشعار ملاحظہ ہوں۔

نہ مروت نہ رعایت نہ سہولت کی جائے
عشق اک کام ہے اس کام میں محنت کی جائے
اک نہ اک موج محبت میں بہر حال رہے
پی نہ سکتے ہوں تو پانی کی زیارت کی جائے
ڈھل گئی شام بھی دنیا بھی سبک دوش ہوئی
اب یہی کام بچا ہے کہ محبت کی جائے
یہ ہم جو دشت تحیر کے شعر کہتے تھے
ہماری غزلوں پہ سایہ کسی غزال کا تھا
اب تو اے دفتر جاں مجھ کو بھی فارغ کردے
شام آتی ہے تو مزدور کمر کھولتے ہیں

محولہ بالا اشعار میں ’کام‘ ’موج‘ ’پانی کی زیارت ”غزلوں پہ سایہ‘ ’دفتر جاں‘ ’مزدور کمر کھولتے ہیں‘ جیسی تراکیب نے عشق کے فرسودہ مضمون میں جدت و ندرت کی روح پھونک دی ہے۔ بالخصوص درج ذیل شعر میں پیرایہ اظہار کا سلیقہ دیکھیں۔

تری معصومیت میں دخل ہوتا
محبت تھی مگر تجھ سے کہا نہیں
کتنا اچھوتا خیال ہے کہ تشریح کا لمس اس کے حسن کو آلودہ کر سکتا ہے۔

فارسی آمیز تراکیب، ندرت اظہار، اور روح ساعت کے دیگر شیڈس (shades) مثلاً رنج و غم، امید و یاس، خوف و دہشت، بے بال و پری، فکر فردا، دست دعا، عزم و حوصلہ، یاسیت، قنوطیت، رجائیت اور ملکی سیاست کی کراہیت کو جاننے کے لیے ذیل میں راقم نے کچھ اشعار منتخب کیے ہیں جو اس امر پر دال ہیں کہ ارشد عبدالحمید امکانات سخن گوئی کے نئے در وا کرنے پر کفیل ہی نہیں مکمل قدرت بھی رکھتے ہیں۔

چراغ شوق پہ رہ رہ کے نور آتا ہے ―ہوا بہ طرز رخ و چشم و لب پکارتی ہے
خوف کے کون سے گنبد سے ہوئے ہیں آزاد―یہ پرندے کہ نہ منقار نہ لب کھولتے ہیں
ناقہ عزم کے دست و پا ریگ گمان میں دھنس گئے ―دشت عبور تو ہو گیا جان خراب بہت ہوئی
خاک کو چھوڑ کے جانا ہمیں منظور نہیں ―ہم خس و خار نہیں جوئے رواں جانتی ہے
کیا وہ بھی خدا ہے جو دعائیں نہیں سنتا―کیا وہ بھی دعائیں ہیں جو بے فیض و اثر جائیں
بلوائیوں میں میرے ہی چہرے کے عکس تھے ―پیوند خاک مجھ کو قضا نے نہیں کیا
اس بار بھی لہو پہ نہ باندھا کسی نے بند―اس بار بھی کرشمہ دعا نے نہیں کیا
آپ چاہیں تو سیاست پہ بھروسا کر لیں ―آپ چاہیں تو سمجھ دار بھی ہو سکتے ہیں
آپ مجرم نہیں یہ جرم ہی کافی ہے یہاں میاں ―آپ ارشدؔ ہیں گرفتار بھی ہو سکتے ہیں

معروف ناقد قاضی جمال حسین ’چراغاں سر خواب‘ میں شامل اپنے مضمون ’ایک معاصر شاعر‘ میں رقم طراز ہیں ”چراغاں سر خواب کے پیش نظر ارشد کے بارے میں کوئی حتمی اور آخری فیصلہ کرنا ابھی تو قبل از وقت ہے“ ۔ قاضی جمال کی اس رائے پر راقم کے کچھ تحفظات ہیں کہ شاعر آخر عمر کے کس مرحلے میں داخل ہو گا یا کتنے اور سال کی تخلیقی ریاضت مزید درکار ہے جب اس کے کلام پر کوئی حتمی رائے قبل از وقت متصور نہیں کی جائے گی؟ ارشد عبدالحمید گزشتہ چالیس برسوں سے شاعری کر رہے ہیں، اور ان چالیس برسوں میں صرف دو مجموعے منظر عام پر آئے ہیں، یعنی یہ کہ انہوں نے انتخاب کا معیار سخت کڑا رکھا ہے اور اب وہ عمر کے ایسے حصے میں ہیں کہ جو کچھ بھی کہیں گے اسے ’فاضل‘ ہی سمجھا جائے گا لہٰذا ان کی شاعری کے بارے میں حتمی اور آخری فیصلہ ابھی کرنا ہے بعد از مرگ نہیں۔ معاملہ امکانات کے اس اظہار پر ٹالا نہیں جا سکتا کہ ”ارشد عبدالحمید نے اپنی آواز تو پا لی ہے لیکن ان کے لہجے، تراکیب اور وسائل اظہار میں کئی امکانات ہنوز دریافت طلب ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ ہلکے رنگ مزید شوخ اور مبہم خطوط مزید نمایاں ہوں گے۔“

Facebook Comments HS

محمد ہاشم خان، ہندوستان

مصنف افسانہ نگار ناقد اور صحافی ہیں، ممبئی، ہندوستان سے تعلق ہے

hashim-khan-mumbai has 15 posts and counting.See all posts by hashim-khan-mumbai