خربوزے کی افادیت


Dr Shahid M shahid

خربوزہ موسم گرما کا پھل ہے۔ یہ مختلف اشکال اور سائز کے ہوتے ہیں۔ ایک خربوزہ تقریباً پانچ سے اٹھ پاؤنڈ وزنی ہوتا ہے۔ اس کے پودے بیل نما ہوتے ہیں۔ تاریخ کے مطابق اس کی کاشت پہلی بار چار ہزار سال قبل ایران اور افریقہ کے ممالک میں ہوئی۔ بعد ازاں آہستہ آہستہ دنیا کے دیگر ممالک تک پہنچ گئی۔ خربوزے کی پیداوار جن ممالک میں سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ ان میں چائنا، ترکی، انڈیا، افغانستان، امریکہ، اور برازیل کے نام شامل ہیں۔

خربوزہ اندر سے سفید یا زعفران جیسا ہوتا ہے۔ اس کا ذائقہ کھٹا میٹھا، گودہ نرم اور لذیذ ہوتا ہے۔ یہ سب کے لئے یکساں مفید ہے۔ اس کے بیج نرم اور کھانے کے قابل ہوتے ہیں۔ اس میں پانی کی بہت زیادہ مقدار ہوتی ہے جو معدہ کے فعل کو درست رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق خربوزہ کھانے سے گرمی کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔ معدے کی تیزابیت ختم اور مزاج خوشگوار ہوجاتا ہے۔ سو 100 گرام والے خربوزے میں غذائی ترتیب کچھ اس طرح سے ہے۔

کیلوریز 34، سوڈیم 16 ملی گرام، پوٹاشیم 267 ملی گرام، کاربوہائیڈریٹس 8 گرام، ڈائٹری فائبر 0.9 گرام، شوگر 8 گرام، آئرن 1 %، پروٹین 0.8 گرام، وٹامن سی 61 %، وٹامن بی B 6، مگنیشیم 3 فیصد، وٹامن اے 67 %، فیٹ 0.2 گرام، اور پانی 95.2 گرام موجود ہوتا ہے۔

آئیں اس کے کچھ طبی فوائد پر روشنی ڈالتے ہیں۔
1۔ دل کے امراض سے تحفظ :
(Protection from heart disease)

خربوزہ دل کی صحت کا ضامن ہے۔ اس میں پوٹاشیم کی موجودگی مختلف بیماریوں جیسے ہائی بلڈ پریشر اور بڑھے ہوئے کولیسٹرول اور دل کے مختلف امراض قلب سے بچاتی ہے۔ اس میں موجود ایڈینوسین اور لائیکوپین دل کا دورہ پڑنے سے بچاتے ہیں۔

2۔ انفیکشن سے تحفظ : (Infection protection)

خربوزے کی یہ انفرادی خصوصیت ہے کہ وہ طرح طرح کے انفیکشنز، وائرس، اور بیکٹریا سے پیدا ہونے والی مختلف بیماریوں سے بچاتا ہے۔ جس کی بنیادی وجہ وٹامن سی اور میگنیشیم کے اجزاء ہیں جو جسم کو طرح طرح کے انفیکشنز سے بچانے کی استعداد رکھتے ہیں۔

3۔ وزن کم کرنے کے لئے : (To lose weight)

چونکہ خربوزے میں پانی کی خاصی مقدار پائی جاتی ہے جو وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ بڑے ہوئے وزن والے مریضوں کو چاہیے کے وہ اپنی خوراک میں خربوزے کا استعمال لازمی کریں۔ تاکہ وہ موٹاپے اور اس کے مضر اثرات سے بچ سکیں۔ یہ دونوں صورتوں میں مفید ہے۔ مثلاً وزن بڑھنے نہیں دیتا اور بڑے ہوئے وزن کو کم کرتا ہے۔

4۔ زخموں کو ٹھیک کرنے کے لئے : (To heal wounds)
خربوزہ زخموں کو ٹھیک کرنے کی استعداد رکھتا ہے۔
یہ کولیجن حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ یہ جلد کی صحت، تازگی اور چمک میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
یہ جلد کو سورج کی شعاعوں اور دیگر مضر اثرات سے بچاتا ہے۔
5۔ دانتوں اور ہڈیوں کی صحت :
(Dental and bone health)

خربوزہ کیلشیم سے بھر پور پھل ہے۔ 100 گرام والے خربوزے میں 15 ملی گرام کیلشیم پایا جاتا ہے جو دانتوں اور ہڈیوں کی صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

6۔ حاملہ خواتین کے لیے : (For pregnant women)

چونکہ خربوزے میں فولک ایسڈ کی وافر مقدار ہوتی ہے جو حاملہ خواتین کے لیے ایک بہترین ٹانک ہے۔ ایسی خواتین اگر حمل کے ابتدائی مہینوں میں خربوزہ کا استعمال کریں تو بچے کو قدرتی طور پر فولک ایسڈ کی مقدار میسر آ جائے گی۔

7۔ کینسر سے بچاؤ : (Cancer prevention)

چونکہ خربوزہ اینٹی اوکسیڈنٹ پھل ہے۔ اس میں بیٹا کیروٹین، لوٹین، زیکسا نتین، اور کریپٹو کستھین بھی موجود ہوتے ہیں۔ جو پراسٹیٹ کینسر، آنتوں کا کینسر اور لبلبے کے کینسر سے بچاتے ہیں۔ خربوزے میں کیروٹین کافی مقدار میں پائی جاتی ہے جو پھیپھڑوں اور چھاتی کے کینسر سے بچاتی ہے۔

8۔ آنکھوں کی صحت : (Eye ’s Health)

اس میں بیٹا کیروٹین جیسے کیروٹینائیڈز موجود ہوتے ہیں۔ جو بینائی کو بہتر رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بیٹا کیروٹین وٹامن اے میں تبدیل ہو جاتا ہے جو آنکھوں کی کارکردگی اور صلاحیت بہتر بناتا ہے۔

9۔ بڑھاپے کے آثار : (Signs of old age)

خربوزہ کولجن سے مالا مال ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا مادہ ہے جو جلد اور ٹشو کو دوبارہ تخلیق کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے استعمال سے بڑھاپے کے آثار کم ہو جاتے ہیں۔ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اور چہرے کی جھریاں بہت جلد ٹھیک ہو جاتی ہیں۔ اعصاب نا تو جلد کمزور اور نا بوسیدہ ہوتے ہیں۔

10۔ جگر کی صحت کے لیے : (For liver health)

خربوزہ جگر کی صحت کے لیے بہت مفید پھل ہے۔ اس کے استعمال سے زہریلے مادے خارج ہو جاتے ہیں۔ جو لوگ جگر کے مسائل میں مبتلا ہیں انہیں خربوزے کا جوس لیموں کے رس میں ملا کر ناشتے سے پہلے پینا چاہیے۔

11۔ نظام ہاضمہ کے لیے : (For digestive system)

خربوزہ میں پانی اور فائبر کی موجودگی ہاضمے کے نظام پر مثبت اثرات ڈالتی ہے۔ اس کے استعمال سے معدے کی جلن اور تیزابیت ختم ہو جاتی ہے۔ بلکہ یہ پیٹ درد اور دیگر بیماریوں کو ٹھیک کرنے میں مدد دیتا ہے۔

Facebook Comments HS