شیخ ایاز: سندھی اور اردو زبان کے عظیم شاعر

2 مارچ 1923 ء کو سندھ کے پیرس کہلانے والے تاریخی شہر شکارپور میں غلام حسین شیخ کے گھر میں جنم لینے والے بچے کا نام مبارک علی رکھا گیا جو آگے چل کر شیخ ایاز کی صورت میں 5 ہزار برس قدیم سندھی زبان کے شاہ عبداللطیف بھٹائی کے بعد سب سے بڑے شاعر بن گئے۔
شیخ ایاز کا ادبی سفر محض گیارہ برس کی عمر میں شروع ہوتا ہے جب ان کا پہلا سندھی گیت بعنوان خانہ بدوشو تھا نیو کیڈانھن اخر قافلو سدرشن نامی جریدے میں شایع ہوا، پہلی ہی تخلیق سے ان کی ذہنی پختگی کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے پر کسی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ شاعر بچہ سندھی ادب کے افق پر چاند کے مانند چمکے گا، تقسیم سے قبل ہی سندھ کے ادبی حلقوں میں شیخ ایاز کی شاعری اور نثری تخلیقوں کے چرچے چل نکلے تھے اور 1946 ء میں ان کی کہانیوں کا پہلا مجموعہ سفید وحشی کے نام سے مارکیٹ میں آیا جسے بے حد سراہا گیا، شاعری میں شیخ ایاز کے استاد پہلے جدید سندھی شاعر کا اعزاز حاصل کرنے والے کھیئل داس فانی تھے، جنہیں وہ اپنے کئی اشعار میں خراج تحسین بھی پیش کر چکے ہیں۔
تقسیم ہند کا شیخ ایاز کے حساس دل و دماغ پر بہت گہرا اثر پڑا کیوں کہ ان کے قریبی ادبی اور ذاتی دوست سندھ چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے سرحد کے اس پار چلے گئے، جن میں سندھی ادبی سنگت کے بانی سیکرٹری جنرل گوبند مالہی، ان کے استاد کھیئل داس فانی، نامور شاعر نارائن شیام، ارجن شاد، اے جے اتم اور دیگر شامل تھے، دوستوں کی جدائی اور یکسر ماحول کی تبدیلی نے شیخ ایاز کو اداسیوں اور مایوسیوں میں دھکیل دیا تھا، اس ماحول سے باہر نکلنے کے لئے انہوں نے اردو ادب کی محفلوں میں جانا شروع کر دیا اور یوں سندھی کی طرح اردو زبان میں بھی زبردست اور انقلابی شاعری کرنے لگے، جس کے باعث اردو ادب کے حلقوں میں بھی خاصی پذیرائی حاصل ہوئی اور، بوئے گل نالۂ دل، ، نیل کنٹھ اور نیم کے پتے، سمیت دیگر شاعری کے مجموعے اردو شاعری میں ایک بہترین اضافہ ثابت ہوئے۔
شیخ ایاز کی مشہور نظم میرے دیدہ ورو میرے دانشورو کی گونج آج بھی ترقی پسند ادبی تقریبات میں سنائی دیتی ہے اور ایک نیا جذبہ، نیا جوش پیدا کرنے کی وجہ بھی بنتی ہے۔
میرے دیدہ ورو،
میرے دانشورو،
پاؤں زخمی سہی ڈگمگاتے چلو،
راہ میں سنگ و آہن کے ٹکراؤ سے،
اپنی زنجیر کو جگمگاتے چلو،
روکش نیک و بد،
کتنے کوتاہ قد،
سر میں بادل لئے،
ہیں تہیہ کیے ،
بارش زہر کا،
اک نئے قہر کا،
میرے دیدہ ورو،
میرے دانشورو،
اپنی تحریر سے،
اپنی تقدیر کو،
نقش کرتے چلو،
تھام لو ایک دم،
یہ عصائے قلم،
ایک فرعون کیا لاکھ فرعون ہوں،
ڈوب ہی جائیں گے۔
شیخ ایاز کی انقلابی اور تخلیقی بلندی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کو باغیانہ اور جنگ سے نفرت کی بنیاد پر کی گئی شاعری پر ایوب خان کے دور حکومت میں قید کر لیا گیا اور ان کی تین کتب جن میں دو شاعری اور ایک نثر کی کتاب شامل ہے پر پابندی لگائی گئی، 1965 ء کی پاک۔ بھارت جنگ کے ایام میں جب سرحد کے دونوں طرف کے شعراء جنگی ترانے لکھ رہے تھے عین اس وقت ہزاروں برس سے امن، محبت اور بھائیچارگی کا درس دینے والی دھرتی سندھ کے شاعر عظیم نے امن سے بھرپور نظم بعنوان، ہی سنگرام، سامھون آھی نارائن شیام، لکھ کر امن پسندی کو ترجیح دی اور ایک طرح سے سندھو تہذیب کا بیٹا ہونے کا حق بھی ادا کیا، کیوں کہ سندھ وہ دھرتی رہی ہے جہاں کے بسنے والے ہر دور میں انسانیت کے پیروکار رہے ہیں، جو اخوت، اتحاد اور بھائیچارگی سے محبت اور جنگ و جدال سے نفرت کرتے رہے ہیں۔
سندھ کے معروف ادیب نصیر مرزا انہیں سندھ کے ماضی کے ماضی اور مستقبل کے مستقبل کے شاعر قرار دیتے ہیں کیوں کہ شیخ ایاز کی تخالیق کا مطالعہ کرنے سے یوں لگتا ہے کہ نہ صرف سندھ کی ہزاروں برس پر محیط تاریخ، تہذیب اور تمدن کی تصویر آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے پر برصغیر کی تاریخ کی کمال منظرکشی پر مشتمل ان کی نظمیں اور بیت موجود ہیں یہی وجہ ہے کہ شیخ ایاز کی شاعرانہ بلندی کو نہ صرف سندھی پر اردو ادب میں بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔
شیخ ایاز کی شاعری صدیوں سے محکوم اور مظلوم طبقات کا آواز بن کر ہر باطل، آمر کے خلاف صدائے حق و احتجاج بن کر بلند ہوتی رہی، وہ نہ صرف سندھ یا پاکستان پر پوری دنیا کے مظلوموں اور محکوموں کی بات کرتے تھے اور ان کی نظموں، گیتوں میں ناگاساکی سے لے کر لینن گراڈ تک انسانیت کے بے گناہ بہائے گئے خون کا المناک ذکر بھی ملتا ہے وہ درحقیقت عالمگیر امن انسانی کے قائل تھے یہی وجہ ہے کہ وہ انسان کو انسان کا بھائی قرار دے کر کہتے تھے کہ
(ڪنھن ٿی ڄاتو ای انسان،
توکی ڪھندو تنھنجو ڀاء)
ترجمھ:
، کسے پتہ تھا اے انسان،
بھائی کے ہاتھوں تو ہو گا قتل۔
امن عالم، انسانیت اور انقلاب کے داعی سندھ کے اس عظیم شاعر شیخ ایاز کے پائے کا مہان تخلیق کار شاید ہی کوئی اور ہو جس نے نہ صرف اپنے دیس، دھرتی، ملک میں عوامی انقلاب کی بات کی پر عالمی سطح پر بھی اپنا پیغام پہنچانے کی حتی المقدور کوشش کرتے رہے وہ الگ بات کہ سندھی زبان کو ذریعہ اظہار بنانے کے باعث انہیں ان کا حق نہ مل سکا کیوں کہ اگر شیخ ایاز کی شاعری یا نثری تخلیقوں کو کوئی معقول انگریزی مترجم مل جاتا تو میں وثوق سے کہتا ہوں کہ بنگالی زبان کے عظیم شاعر رابندر ناتھ ٹیگور کے بعد شیخ ایاز برصغیر کے دوسری دوسری ادبی شخصیت ہوتے جنہیں ادب کا نوبل پرائز ملتا پر افسوس کہ ہمارے ملک میں اردو کے علاوہ دیگر زبانوں کے عظیم شعراء اور ادیبوں کو شاید اس قابل ہی نہیں سمجھا جاتا کہ انہیں بھی عالمی سطح پر متعارف کروایا جائے، یہی وجہ ہے کہ شیخ ایاز جیسے عالمی لیول کے تخلیقی ذہن کے مالک عظیم شاعر بھی اپنی زندگی میں جائز مقام حاصل نہیں کرسکے۔

