اقلیتوں کے لیے دوہرا ووٹ کیوں ضروری ہے؟


ٓپاکستان کی تاریخ میں ایک سیاسی اتحاد 1977 کے الیکشن میں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف پی این اے کے نام سے بنا تھا۔ جس کے نتیجے میں ملک میں مارشل لاء کا نفاذ عمل میں آیا۔ دوسری دفعہ عمران خان کی حکومت کے خلاف سیاسی جماعتوں کا اتحاد سامنے آیا ہے۔ یہ اتحاد کیا رنگ لائے گا، کہنا قبل از وقت ہے۔ موجودہ حکومت مخالفین اور صحافیوں کی آواز دبانے کے لئے ہر حربہ استعمال کر رہی ہے کہ مجبوراً عدلیہ کو مداخلت کرنا پڑتی ہے۔

ساڑھے تین سال صدارتی آرڈیننس کے سہارے گزر گئے ہیں۔ معیشت کو مستحکم کرنے کی کوششوں میں ملک ریکارڈ قرضوں کے بوجھ تلے دب گیا ہے ۔ چند دنوں سے سیاسی صورتحال کچھ ایسی نظر آ رہی ہے کہ الیکشن وقت سے پہلے بھی ہوسکتے ہیں۔ تو ایسی صورتحال میں اقلیتوں کا رونا کون سننے گا؟ انہیں ووٹ کا حق دے کر جمہوریت کے تقاضوں کو پورا کون کرے گا کہ ان کے لئے کون سا طرز انتخاب بہتر ہے۔ تحریک شناخت کے بانی محترم اعظم معراج صاحب مسیحی مورخ، سکالر اور ریسرچر اور بہت سی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔

اپنی تمام تحقیقات اور تجزیوں کے بعد اقلیتوں کے لیے بہتر طرز انتخاب دوہرے ووٹ کا حق تجویز کرتے ہیں۔ جس سے اقلیتیں مین سٹریم سے بھی وابستہ رہتی ہیں اور سیاسی نمائندوں کو بھی برائے راست اپنے ووٹ سے منتخب کروا سکتی ہیں۔ اور اس سے سماجی، معاشرتی اور تعصب کے خاتمے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ اس ملک گیر آگہی کے سلسلے کے ساتھ اعظم معراج صاحب نے نہ صرف وزیراعظم عمران خان، صدر پاکستان بلکہ تمام اشرفیہ کو اپنا تحقیقاتی مواد ارسال کیا ہے۔ اور ان کے اس موقف سے مسیحیوں کی اکثریت اتفاق کرتی نظر آ رہی ہے۔ مگر کچھ سیاسی لیڈر ان کی اس تجویز سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کی یہ تجویز بحیثیت صحافی میں اپنے ذاتی تجربات کی بنیاد پر شیئر کرنے کی جسارت کروں گا۔

میرے بڑے بھائی سیاست میں گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ جس کی بنا پر بچپن ہی سے مجھے بھی سیاست میں دلچسپی رہی ہے۔ کونسل کے الیکشن ہوتے یا ملکی، بھائی صاحب ہمیشہ پیش پیش رہتے۔ خود تو انہیں کبھی بھی سیاست میں آنے کا شوق نہیں رہا مگر نظریات کی تکمیل کے لئے وہ سیاسی مہم میں بھر پور حصہ لیتے تھے۔ بلکہ اسی سلسلے میں بعض اوقات وہ دور دراز علاقوں میں بھی نکل جایا کرتے تھے۔ میں اس وقت سکول کا طالبعلم تھا اور یہ 1977 کے الیکشن تھے جس میں نو سیاسی جماعتوں کا اتحاد پی این اے ( نو ستارے ) پیپلز پارٹی کے مدمقابل تھیں۔

جن کے منشور میں اقلیتوں کے لئے جداگانہ انتخاب شامل تھا۔ دوسری بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ پیپلز پارٹی نے تعلیم اداروں کو قومی تحویل میں لے کر مسیحیوں کو سب سے بڑا نقصان پہنچایا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ہمارے بڑے بھائی صاحب نے پی این اے میں شامل مسلم لیگ کا ساتھ دیا۔ حالانکہ اس میں زیادہ تر جماعتیں مذہبی تھی۔ اس وقت تقریباً تمام مسیحی پیپلز پارٹی کی حمایت میں تھے۔ ہمیں ان کی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ واضح رہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے 1973 کے آئین کے مطابق اقلیتوں کی مختص نشستیں سلیکشن کے ذریعے پر کی تھیں۔

تمام سلیکٹڈ نمائندوں کی کارکردگی صفر تھی۔ بڑے بھائی کے مطابق ہمارے مسائل کا حل جداگانہ الیکشن ہی تھا۔ کیونکہ ہمارے سیاسی منتخب نمائندے اقلیتوں کے لئے نہ صرف اسمبلیوں میں آواز اٹھا سکیں گے بلکہ مسائل حل کرنے میں معاون بھی ثابت ہوں گے ۔ انہوں نے چونکہ مسیحی کمیونٹی سے سماجی، سیاسی و مذہبی امتیاز بڑے قریب سے دیکھا تھا۔ اس وقت، چھوت چھات اور مذہبی تعصب اس قدر عروج پر تھا کہ پنجاب میں ایک ہوٹل نے مسیحیوں کے لئے الگ برتن رکھے ہوئے تھے۔ بھائی صاحب کا جوانی کا دور تھا۔ وہ اس قدر جنونی تھے کہ دوستوں کے ساتھ مل کر اس مقامی ہوٹل کے برتن توڑ دیے۔ مرے کالج سیالکوٹ میں ان کا کانووکیشن تھا جب بائبل کی بے حرمتی کی گئی۔ اس سانحہ کے خلاف احتجاج میں انہوں نے بھرپور حصہ لیا۔

5 جولائی 1977 کی رات جنرل ضیاء الحق بھٹو حکومت کا تختہ الٹ کر خود ملک پر قابض ہو گئے اور ملک میں مارشل لاء لگا دیا۔ فروری 1985 میں غیر جماعتی الیکشن کروائے اور 1973 کے آئین میں ترمیم کے ذریعے اقلیتوں کے لئے جداگانہ الیکشن کروائے۔ اس وقت اقلیتوں کے لئے 9 نشستیں تھی اور خواتین کے لئے ریزرو 21۔ یوں قومی اسمبلی کے لئے کل 237 نشستیں تھیں۔ یہ وہ دور تھا جب میں نے انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف لکھنا شروع کیا اور 1988 میں باقاعدہ میں نے صحافت میں قدم رکھا اور جداگانہ انتخابات کا بغور مشاہدہ کیا۔ جداگانہ انتخابات کا سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ حلقہ بندیوں کا خیال بالکل نہیں رکھا گیا۔ قومی اسمبلی کے لئے پورا پاکستان اور صوبائی اسمبلی کے لئے پورا صوبہ تھا۔ اقلیتی نمائندوں کی رہائش گاہ سے دور دراز علاقوں میں رہنے والوں کا رابطہ بہت مشکل ہو گیا تھا۔ جب کوئی اپنا مسئلہ لے کر مسلم سیاستدان کے پاس جاتا تو اس کا جواب یہ ہوتا کہ آپ اپنے نمائندوں کے پاس جائیں۔

اقلیتی نمائندوں کا قانون سازی میں کوئی کردار نہیں رہا۔ الٹا انہی کے دور میں اور انہی کے دستخط کروا کر 295 C پاس ہو گیا۔ انہیں فنڈ ضرور ملے جو استعمال بھی ہوئے۔ گلیاں، نالیاں، اور سڑکیں یا کمیونٹی حال کی تعمیر ہمارے مسائل کا حل نہیں۔ ان مسائل سے کہیں زیادہ ہمیں ایسی سیاسی لیڈر شپ کی ضرورت ہے جو قانون سازی کروا سکیں۔ 2002 میں پرویز مشرف نے قانون میں ترمیم کے ذریعے جداگانہ الیکشن ختم کر دیے اور نوبت سلیکشن پر آ گئی۔

پچھلے 20 سالوں سے آزما رہے ہیں۔ سلیکشن کسی بھی لحاظ سے قابل قبول نہیں ہے بلکہ یہ جمہوریت کی نفی ہے۔ یہ سلیکٹڈ نمائندے اپنی کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لئے کچھ کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ بلکہ اپنی اس سرکار کے تابعدار ہوتے ہیں، جو انہیں سلیکٹ کرواتے ہیں۔ یہ طریقہ انتخاب کسی بھی ملک میں رائج نہیں۔ دنیا حیران ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ یہ سلوک کیوں ہو رہا ہے۔ سیاسی لیڈر شپ اسمبلیوں سے باہر بیٹھی ہے اور ڈمیاں اسمبلی کے اندر۔

اقلیتوں کے لئے ایسا طرز انتخاب ہونا چاہیے جس سے وہ اپنے حلقہ کے مسلم امیدوار کو بھی ووٹ دے سکے اور اپنے اقلیتی نمائندے کو بھی۔ اس طرح وہ قومی دھارے میں رہتے ہوئے سیاسی اور حکومتی امور میں اپنا فعال کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مقامی مسائل بھی حل ہو سکیں گے اور یوں اقلیتوں کو برابر کے شہری ہونے کا حق بھی مل سکتا ہے۔

Facebook Comments HS