احتیاط اور آگاہی سے تھیلیسیمیا پر قابو پایا جا سکتا ہے


تھیلیسیمیا خون کا ایک موذی مرض ہے۔ جس سے پھولوں کی مانند کھلے چہرے مرجھا جاتے ہیں۔ کچھ بچے یہ جان لیوا مرض اپنے والدین سے لے کر پیدا ہوتے ہیں اور اس کا مقابلہ کرتے ہوئے نو عمری یا عین جوانی میں ہمیشہ کی نیند سو جاتے ہیں۔ اس مرض میں مبتلا بچے والدین کی جینیاتی خرابی کے باعث خون کی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ تھیلیسیمیا مائنر، تھیلیسیمیا انٹر میڈیا اور تھیلیسیمیا میجر اس موروثی بیماری کی تین بڑی اقسام ہیں۔

تھیلیسیمیا مائینر کے مریضوں میں خون کی کمی ہوتی ہے لیکن ایسے مریضوں میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں اور تندرست انسانوں کی طرح نارمل زندگی گزارتے ہیں مگر تھیلیسیمیا کی منتقلی کا سبب بن سکتے ہیں۔ انٹر میڈیا کی قسم والے مریضوں میں مرض کی شدت مائینر سے زیادہ ہوتی ہے تاہم ان کو بھی زیادہ مشکلات درپیش نہیں آتیں البتہ مائینر اور انٹر میڈیا والی خواتین کو دوران حمل خون کی شدید کمی کی صورت میں پیچیدگیوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔

سب سے خطرناک اور جان لیوا قسم تھیلیسیمیا میجر ہے جس کی تشخیص نومولود میں ہیموگلوبن الیکٹروفوریسز نامی لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے بھی ہوجاتی ہے ایسے مریضوں کو دو سے چار ہفتے بعد خون لگوانے کی ضرورت پڑتی ہے اور بروقت خون دستیاب نہ ہونے کی صورت میں موت واقع ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ ایسے مریض نارمل زندگی بسر نہیں کر سکتے بار بار خون لگوانے کے باوجود بھی بمشکل 20 یا 30 سال کی عمر تک زندہ رہ پاتے ہیں یا کم عمری میں ہی اللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں۔ تھیلیسیمیا کی ایک قسم بڑھ یا کم ہو کر دوسری قسم میں نہیں بدلتی جس متاثرہ بچے کو اپنے والدین سے جو قسم ملتی ہے اسی میں مبتلا رہتا ہے۔

پاکستان کی طرح دیگر کئی ممالک میں بھی تھیلیسیمیا کے باعث لاتعداد اموات ہوئیں تاہم فی الحال کوئی معقول علاج یا دوا تیار نہیں ہو سکی۔ تاہم تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جان لیوا مرض کی تشخیص کر کے اور آگاہی پھیلا کر کسی حد تک اس پر قابو پانا ممکن ہے۔

سائپرس، ایران اور ترکی سمیت کئی دوسرے ترقی یافتہ و ترقی پذیر ممالک نے اس بیماری کی روک تھام کے لیے نوجوانوں میں سکریننگ کے عمل کو لازمی قرار دیا ہے۔

نارمل زندگی بسر کرنے والے نوجوانوں کی سکریننگ سے پتہ چلتا ہے کہ کسی کو تھیلیسیمیا مائینر کی شکایت تو نہیں؟ اگر ٹیسٹ میں تھیلیسیمیا مائینر ظاہر ہو تو ایسے نوجوان کو شادی کے وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ شریک حیات تھیلیسیمیا مائینر نہ ہو کیوں کہ تھیلیسیمیا مائینرز جوڑے کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں میں تھیلیسیمیا میجر ہونے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔

کچھ عرصہ قبل خیبر پختون خواہ میں اس حوالے سے محکمہ صحت، بہبود آبادی اور لوکل گورنمنٹ نے آگاہی پھیلانے اور نوجوانوں کو معلومات مہیا کرنے کے لیے ایک کونسلنگ پراجیکٹ کا آغاز کیا تھا جو گزشتہ دو سالوں سے تعطل کا شکار ہے اس کے علاوہ پاکستان میں حکومتی سطح پر آگاہی اور تھیلیسیمیا کے مریضوں کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا پھول جیسے معصوموں کو لواحقین اٹھائے در بدر کی ٹھوکریں کھاتے ہیں کہ ان مرجھائے ہوئے پھولوں پر تازگی لانے کے لیے خون کا عطیہ مل جائے۔ ایک بوتل خون لگوا کر پندرہ یا بیس دن ہی گزرتے ہیں والدین کو پھر سے فکر ستانے لگتی ہے کہ کب ان کے جگر گوشہ کی دھڑکنیں ساتھ چھوڑ دیں۔ والدین یا لواحقین اپنے پیاروں کو تکلیف میں دیکھ کر ایسے کرب، پریشانی اور دکھ کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں جس کا کوئی مداوا نہیں ہوتا۔

تھیلیسیمیا کے حوالے سے شعور بیدار کرنے اور مریضوں سے ہمدردی کے اظہار کے لیے سال میں ایک دن منا لینا ہی کافی نہیں ہے۔ بلکہ مریضوں کے علاج معالجے اور دیکھ بھال پر اٹھنے والے اخراجات پورے کرنے میں معاونت کرنا بھی ریاست یا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ حکومت کو چاہیے تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچوں کے لیے ہر شہر میں بلڈ بنک قائم کیے جائیں تاکہ بوقت ضرورت مریض کو خون لگ کر اس کی جان بچ سکے اور لواحقین کو بھی پریشانی اور کرب کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ دکھی انسانیت کی خدمت اور داد رسی کے لیے معاشرے کے تمام طبقات کو حکومت اور ریاست کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہیے۔ ہر سمجھدار اور باشعور فرد دوسروں کو آگاہی دینا خود پر لازم کر لے۔

ایک دن آئے گا ہم بھی اپنے وطن میں اس موذی مرض پر کسی حد تک قابو پانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

Facebook Comments HS