جنگ بمقابلہ امن


”جنگ اور امن“ وار اینڈ پیس ”روسی مصنف لیو ٹالسٹائی کا ایک ناول ہے۔ یہ عالمی ادب کا ایک مرکزی کام اور ٹالسٹائی کی بہترین ادبی کاوشوں میں سے ایک ہے۔ ٹالسٹائی نے اسے 1862 میں لکھنا شروع کیا جو سات برس میں مکمل ہوا اس ناول میں تقریباً 300 سے زائد کردار ہیں، اس ناول کا مرکزی دور 1812 سے 1825 ء کے درمیان رونما ہوتا ہے۔ جس میں انتہائی بے باک انداز میں روسی معاشرے کی اخلاقی گراوٹ اور اس کے کھوکھلے پن کو اجاگر کیا گیا ہے۔

ناول میں نپولین بونا پارٹ کی روس پر جنگ کشی، امن کا وقفہ اور دوبارہ حملہ آور ہونے کے دور کو دلکشی سے پیش کیا گیا ہے۔ ٹالسٹائی نے یہ کتاب اس لیے نہیں لکھی کہ ہم کتاب پڑھ کر ٹالسٹائی کو داد دیں بلکہ اس کا مقصد یہ تھا کے دنیا کی ساری اقوام یہ کتاب پڑھیں اور جانیں کے جنگ کیا ہوتی ہے۔ جنگ میں انسان کن نعمتوں سے محروم ہو جاتا ہے۔ فی زمانہ یوں لگتا ہے کہ ٹالسٹائی کے امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا۔

آج کا انسان جبلت سے وہی وحشی ہی ثابت ہوا۔ حالیہ روس اور یوکرین کے تنازعہ کو اگر غور سے دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ انسان کے اندر کا حیوان ابھی زندہ ہے۔ انسان نے بڑی چال چل کر اس پر تہذیب کا ملمع چڑھا لیا ہے۔ وہ دیکھنے میں مہذب نظر اتا ہے لیکن جب ذاتی مفادات کی باری آتی ہے تو یہی انسان اپنے طاقت کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش شروع کر دیتا ہے۔ بین الاقوامی قوانین کو سوئچ آف کر نے کے بعد اپنی من مانی تشریحات شروع کر دیتا ہے۔ مظلوم کو ظالم اور جابر کو مسیحا کے سانچے میں ڈال دیتا ہے۔

میں نے جب شعور کی آنکھ کھولی تو افغان جہاد، سویت یونین اور امریکہ کی سرد جنگ اختتام پذیر ہو گئی تھی۔ دو سانڈوؤں کی لڑائی میں مینڈکوں کے کچل جانے کا سلسلہ بند ہو چکا تھا۔ سویت یونین ٹوٹ چکا تھا اور محسوس ہو رہا تھا کہ شاید اب دنیا اور بالخصوص پاکستان سکھ کا سانس لے گا لیکن رہی سہی کسر 9 / 11 نے پوری کردی اور وحشت اور بربریت کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا جو افغانستان کی تباہی اور پاکستان کو اندرونی سطح پر بدترین دہشت گردی، سیکیورٹی فورسز سمیت ہزاروں شہریوں کی موت پر ختم ہوا۔

دوسری جانب کشمیر، فلسطین، عراق، لیبیا، شام، بوسنیا، روانڈا، کانگو، انگولا ہر جانب ننگی طاقت کے بل بوتے پر مظلوموں کا استحصال ہوا۔ اس سے مجھ پر ثابت ہوا کہ انسانی تہذیب اپنے ارتقاء کی جتنی منزلیں کیوں نہ طے کر لے وہ اس کو اپنے وحشی پن سے نجات دلانے میں ناکام رہی ہے۔ فرق فقط یہ ہے کہ آج کا چنگیز خان مہذب طریقے سے کوٹ ٹائی پہن کر واردات کرتا ہے اور قانون کے پلندوں میں اپنے ظلم اور بربریت کو جواز فراہم کرتا ہے۔ جنگ آج بھی اتنی ہی حقیقت ہے جتنی سیکڑوں سال پہلے تھی۔ روس کا یوکرین پر حملے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں دوسرے ممالک بھی کود سکتے ہیں اور جنگ بڑھ سکتی ہے۔

کمزور ممالک پر جنگ مسلط کردی جاتی ہے جبکہ طاقتور ممالک کے لیے یہ ایک پر لطف کھیل کی حیثیت رکھتا ہے۔ کچھ لوگوں کا موقف یہ ہے کہ جنگ بین الاقوامی تنازعات کو حل کرنے کا آخری حربہ ہے لیکن حقیقت میں طاقتور قوتیں پرامن طریقے سے تنازعات کو حل کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتیں۔ عوام کی اکثریت امن کو پسند کرتی ہے لیکن حکومتیں غنڈہ گردی کرتی ہیں۔ بڑی طاقتیں اپنی قوت کمزور ملکوں پر استعمال کرتی ہیں جب کے کمزور ممالک کی حکومتیں اپنے عوام کو یرغمال کر دیتی ہیں۔

آج کے دور میں امن ایک خواب ہے جو ہمارے دلوں میں ہے لیکن صفحہ ہستی پر اس کا وجود نہیں ہے۔ جب تک ہم اس حقیقت کو تسلیم نہیں کریں گے تو امن کے لیے صدائیں بلند ہوتی رہیں گی جو دیواروں سے ٹھکرا کر لوٹتی رہیں گی اور اس کا سننے والا کوئی نہیں ہو گا اس میں قصور ہماری آوازوں کا ہونا چاہیے جو دنیا تک اس لیے نہیں پہنچ رہیں کیونکہ ہم نے دنیا کو کبھی ظالم اور مظلوم کی نظر سے نہیں دیکھا بلکہ اپنے مفادات کی نظر سے دیکھا ہے۔ کشمیر کا مسئلہ ہو یا فلسطین کا یا پر یوکرین کا ہو جو بھی ملک ظلم کی تردید کے ساتھ کھڑا ہو ہمیں اس کا ساتھ دینا چاہیے۔

بدقسمتی سے ظالموں کی قیادت نصف صدی سے امریکہ کے ہاتھ میں ہے اب روس کی نئی تقسیم سے دیکھنا ہو گا کہ ہم ظالم کے ساتھ کھڑے ہیں یا مظلوم کے ساتھ جارح کے ساتھ یا پر مجروح کے ساتھ۔ دنیا کہ تمام مظلوموں کو بہ یک آواز ہونا پڑے گا تب جا کے مظلوموں کی آواز سنی جائے گی اور امن خواب سے حقیقت کا روپ دھار لے گی۔

Facebook Comments HS

One thought on “جنگ بمقابلہ امن

  • 03/03/2022 at 5:55 شام
    Permalink

    Aala Taus sb

Comments are closed.