پشتون جرگہ: تاریخ اور حال


جرگہ ترکی زبان کا لفظ ہے، معنی اجتماعی فکری اشتراکیت اور متفقہ فیصلہ، اس لیے پشتو زبان میں بھی جرگے کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ عربی میں شوریٰ، ہندی میں پنجائیت، اور انگریزی میں پارلیمنٹ کا لفظ استعمال کیا جاتا۔

دنیا میں تہذیبی اور ثقافتی زندگی کی آغاز میں اجتماعی فیصلے کا ایک اہم رول ہے، آغاز سے لے کر آج تک ترقی پسند قومیں اجتماعی طور پر پرامن شعوری فکری ترقی کے لیے اجتماعی فیصلے کرتے ہیں۔

اس طرح پشتون بھی دیگر قوموں کی طرح ایک قدیم قوم ہے جس کی زبان، جغرافیہ، کلچر، نفسیات، زراعت، فولکلوریک ادب، تاریخ سیاست ہزاروں سال پر محیط ہے۔ پشتو فارسی کے نامور ادیب ژورنالیسٹ اور تاریخ شناس عبدالحی حبیبی مرحوم اپنی پشتو کتاب ”د افغانستان لرغونی تاریخ“ یعنی افغانستان کی قدیم تاریخ میں پشتونوںں کی تہذیب اور تمدن کے بارے میں لکھتے ہیں کہ پشتنو کی تاریخ تقریباً 5000 ہزار سال پر محیط ہے، اور یہ دنیا کے دیگر قدیم قوموں کی طرح قدیم قوم ہے۔

اس طرح پشتون بھی اس وقت سے ایک مشترکہ فلیٹ پارم جرگہ کے نام سے استعمال کرتے ہیں۔ جہاں مشترکہ طور پر فیصلے ہوتے ہیں اور زندگی کے ہر شعبے میں رکاوٹیں اور مسائل ختم کرنے کے لیے عام طور پر رائے لیتے ہیں اور پھر اس کے لیے اجتماعی میکنزم عملی کرتا ہے۔

پشتونوں میں جرگے کی تاریخ بہت پرانی ہے، لیکن معلوم تاریخ میں سب سے پہلا جرگہ 1000 سال پہلے موجودہ افغانستان کے صوبہ غور میں ہوا ہے جہاں پر لوگ محمود غزنوی کے ظلم اور وحشیت سے تنگ آ گئے تھے اس ظلم اور جبر کے خلاف پشتونوں نے بادشاہ کے دربار میں جرگہ کیا اور یہ قرارداد پاس کی کہ آئندہ غزنوی کو نہ ٹیکس دیں گے نہ ان کے ساتھ بطور سپاہی جنگ میں شرکت کریں گے۔ پھر اس کے بعد شیرشاہ سوری کے عہد میں ہندوستان میں پشتون افغان قوم نے ایک جرگہ کیا جہاں پر سوری حکومت کے خلاف غداروں کو ختم کیا اور سوری کی یہ بات آج تک پشتون سیاست دان استعمال کرتے ہیں کہ ”ہمارے دربار میں قبیلوں کے نام نہ لو ہمارے دربار میں سب پشتون افغان ہیں“ شیرشاہ سوری۔

پھر اس کے ساتھ موجودہ افغانستان کا بانی میروایس خان نیکہ نے 1709 میں ایرانی امپریلسٹ عباس شاہ پہلوی کے استعماریت، سامراجیت اور ظلم کے خلاف قندھار کے علاقے وکران میں جرگہ کیا جس کے نتیجے میں پہلوی دربار کے منتخب گورنر جارجین اپنے تمام تر فوجیوں کے ساتھ قتل کر دیا گیا اور میروایس خان نیکہ نے قندھار سے افغانستان کا بطور ایک نیشن سٹیٹ کا آغاز کیا۔

گریٹ بابا احمد شاہ ابدالی نے 1747 میں جدید افغانستان کے لیے اجتماعی طور پر ایک جرگہ موجودہ قندھار کے شہر سرخ میں کیا ہے جہاں پر تمام مکاتب فکر لوگ شریک فرما تھے اور اس جرگے کے توسط سے احمد شاہ ابدالی کو 25 سال کے عمر میں سپریم لیڈر یا کنگ اف آفغانستان منتخب کیا۔

اس کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا بیسویں صدی کے اول عشرہ میں امیر حبیب اللہ خان نے ایک بڑے جرگے کا انعقاد کیا، جس میں انگریزوں کے ساتھ سٹریٹجک معاہدے کے لیے اجتماعی میکنزم پیش کیا پھر اس کے بعد افغانستان کے بادشاہ امیر امان اللہ خان نے انگریزوں کو شکست دینے کے بعد استقلال افغانستان کا اعلان کیا پھر 25۔ 1924 میں کابل میں تمام مکاتب فکر کا ایک عظیم الشان جرگہ کیا جس میں افغانستان کے جھنڈا آئین اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات کے لیے قراردادیں پاس کیں۔

بیسویں صدی کی تیسرے عشرے میں پشتون افغان قوم نے جمہوری سیاست کا آغاز کیا باچا خان، خان شہید عبد الصمد خان اچکزئی اور کاکاجی صنوبر حسین اس نیشنلسٹ سیاست کے بانی ہیں۔ 21 جون 1947 میں بنوں کے مقام پر ایک جرگہ امیر محمد خان ہوتی کے صدارت میں منعقد ہوا، بعد میں متفقہ طور پر مرزا علی خان فقیر ایپی کو مسلسل جدوجہد کے لیے سپریم لیڈر نامزد کیا۔ افغان خلکی انقلاب کے بعد خطے میں بالخصوص پشتون افغان سرزمین میں پشتونوں کے حالات گمبھیر ہوتے جا رہے تھے، اسی کی دہائی میں مزدور کسان پارٹی نے پشاور اور نوے کی دہائی میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے کوئٹہ میں بڑے بڑے جرگوں کا انعقاد کیا، پھر اس کے بعد نائن الیون کے بعد عوامی نیشنل پارٹی نے پشاور کے باچا خان مرکز میں ایک سیاسی جرگہ کیا جس میں صحافی وکلاء اور ادیبوں نے شرکت کی۔ کابل میں لر و بر افغان کا ایک عظیم الشان جرگہ کا انعقاد کیا، سپریم کونسل یا لویہ جرگہ میں تمام مکاتب فکر کے لوگ شامل تھے۔ اس طرح معروضی حالات اور واقعات کے مطابق چھوٹے چھوٹے جرگوں کا اہتمام بھی کیا جاتا رہا۔

اس طرح پشتون افغان قوم کے اس تسلسل جرگہ کا ایک اور جرگے کا انعقاد ضروری ہو گیا جہاں پر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے زیر اہتمام خیبر پشتونخوا کے ضلع بنوں میں 11، 12، اور 13 مارچ کو ایک عظیم الشان جرگہ ہو گا۔ اس جرگے میں بھی گزشتہ کی طرح ہر مکاتب فکر کے شخصیات کو مدعو کیا گیا ہے۔

اس جرگے کا انعقاد کیوں ضروری اور لازمی ہے جس مسئلے اور گمبھیر صورت حال کے لیے جرگے کے انعقاد کیا ہے اس کا پس منظر پیش کریں گے۔

دریائے آمو سے لے کر دریائے اباسین تک یہ پشتون قوم کا سفید برف سے ڈھکی، سر سبز میدانوں، وسائل سی بھری پہاڑی سلسلہ، ایک معتدل جغرافیہ اور سرزمین ہے، گزشتہ چالیس سال سے آگ اور جنگ کا میدان بنا ہوا ہے، خطے کے سامراجی اور استعماری قوتوں نے اپنے مفاد کے لئے اس پشتون سرزمین کو میدان جنگ بنایا گیا ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے کہ ہزاروں سال سے ایک unwritten Constitution آئین پشتون ولی کے دائرے میں اپنے سماجی، معاشی، ترقی، اور بہترین اقتصادی سسٹم چلانے کے لیے اجتماعی زندگی گزا رہے تھے، جس کے پارلیمنٹ اور سینٹ اور متفقہ طور پر فیصلے کرانے کے لیے جرگہ سسٹم سے کام لیا، اور یہی پلیٹ فارم استعمال کیا کرتے تھے، اصل میں جرگہ اندرونی معاملات کا حل نکالتے ہیں، جس میں زمین، پانی کی تقسیم، گھریلوی، زراعتی، پھر اس کے بعد سیاسی، کاروبار، اور دیگر معاملات حل کرنے کے لیے اجتماعی میکنزم عملی کرتے ہیں۔

اس طرح نائن الیون کے بعد پشتون افغان سرزمین پر ایسا حالات پیدا کیے گئے کہ جس سے اس سرزمین کا سب کچھ تباہ و برباد ہو گئے، تمام دنیا کے دہشتگردوں کو وزیرستان میں پناہ دی گئی، پھر اس کے بعد نام نہاد آپریشن میں تمام وزیرستان کا اصل چہرہ مسخ کیا گیا،

ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، زیادتیاں، ماورائے عدالت شہادتیں، قبائلی مشران کا قتل عام، گھروں کو لوٹ کھسوٹ، بازاروں کی ویرانی، معاشی اقتصادی، مارکیٹنگ سسٹم کی بربادی، پشتونخوا وطن میں خوف و ہراس، ہر روز بم دھماکے، طالب علموں کی داخلوں پر پابندی، قبائل ازم کو زیادہ سپورٹ کرنا، مذہبی اور عقیدوی منافرت کو ہوا دینا، معمر اشخاص کی نفسیاتی تذلیل اور عورتوں کو ہر روز اذیتیں، آئی ڈی پیز، سیاسی اور سماجی ڈھانچہ تباہ، فرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں پشتون افغان قوم کی توہین اور دنیا کو دہشتگرد متعارف کرانا، پروفیسر ابراہیم ارمان لونی کی سرعام بازار میں شہادت، عارف وزیر کی اپنے گھر کے سامنے اپنے تیرہ اور بندوں کے بعد بے دردی سے شہادت، ایک منتخب ایم این اے علی وزیر بلا جرم  کے ایک سال سے جیل میں بند، اس طرح اور اجتماعی مسائل اور بربادی کے روک تھام کے لیے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے ایک جرگے کا اعلان کیا ہے جو رواں مہینے کے 11,12 اور 13 مارچ کو بنوں خیبر پشتونخوا میں ہوں گے ، جس میں پشتون قبائل، سیاسی مشران، وکلاء، صحافی، ڈاکٹرز، انجنئیرز، تاجر، انٹر نیشنل تاجر، طلبا، پروفیسر، ہنرمند، فنکار، جید علماء کرام اور زندگی کے ہر شعبے سے منسلک اشخاص شرکت کریں گے۔

تین دن تک جاری رہنے والے اس جرگے میں تقریباً چالیس سال کی حالات واقعات کا سپاسنامہ پیش کیا جاتا ہے، بربادی اور تباہی کا پیش منظر اور پس منظر کے روشنی میں فیصلے ہوں گے جس میں پشتون افغان قوم کی سرزمین، جغرافیہ اور عوام کی اچھی زندگی اور دنیا بھر میں پشتون افغان قوم کے مستقبل کے بارے میں بھی فیصلے ہوں گے خطے کی موجودہ حالات کے بارے میں اجتماعی میکنزم عملی کیا جائے گا ریاست اور خطے کے دیگر ممالک سے خوشگوار تعلق رکھنے کے بھی اور پشتونخوا وطن کی ارضی سالمیت، ارضی اور آبی وسائل کی استعمال کے لئے حتمی فیصلے ہوں گے ۔

اس جرگے کے بعد پشتونخوا وطن اور ریاست کے دیگر محکوم اور مظلوم قومیں بھی اچھی سمت کی طرف توجہ دیں گے، اس جرگے کے بعد پشتون افغان قوم اور سرزمین ایک اچھے زندگی کا مالک ہوں گے ، اگر اس جرگے کو اخلاقی اور سیاسی سپورٹ دے دیا گیا، اور پشتونوں نے اپنے مسائل کو ختم کرنے کے لئے تیار ہے اور جرگے کو جرگہ کہا اور اس جرگے کی ہر طرح مدد اور سپورٹ کیا۔ تو پہلے کی طرح اس بار بھی جرگہ کی مثبت اثرات سامنے آئیں گے، اور تمام وسائل کو جھاڑو لگے گی۔

Facebook Comments HS