ڈیزل کی موت
10 اکتوبر 1913 کو بحر اوقیانوس میں شمالی سمندر کے ساحلی علاقہ میں ہالینڈ کے کوسٹ گارڈز کی ایک کشتی معمول کے گشت پر تھی کہ عملے کے ارکان کو سطح سمندر میں ایک انسانی لاش تیرتی ہوئی نظر آئی۔ کوسٹ گارڈز نے لاش کو سمندر سے نکال کر کشتی کے عرشے پر ڈال دیا۔ لاش بری طرح مسخ ہو چکی تھی۔ لاش پر موجود لباس کی تلاشی لی گئی تو ایک مردانہ پرس، جیبی چاقو اور چشمے کا کور برآمد ہوا۔ اس زمانے کی روایت کے مطابق کشتی کے عملے نے یہ سامان اپنے قبضے میں لے لیا اور لاش کو دوبارہ سمندر برد کر دیا۔
تین دن کے بعد ہالینڈ کے ساحلی شہر ولینگن میں ایک شخص یوجن ڈیزل نے ان تمام چیزوں کو شناخت کر لیا اور بتایا کہ یہ تمام اشیا اس کے والد روڈلف کرسیچن کارل ڈیزل کی ہیں۔ روڈلف ڈیزل مشہور زمانہ جرمن انجینئر تھا جس نے ڈیزل انجن ایجاد کیا تھا۔ یہ انجن اس کے ہی نام سے موسوم کیا گیا تھا اور ایک صدی سے بھی زیادہ گزرنے کے باوجود یہ انجن آج بھی ڈیزل انجن ہی کہلاتا ہے۔ روڈلف ڈیزل کی موت کی وجوہ آج بھی اسرار کے پردے میں چھپی ہوئی ہیں چونکہ اس کا جسد خاکی سمندر برد کر دیا گیا تھا لہٰذا اس کا پوسٹ مارٹم بھی نہیں ہوسکا تھا۔
ڈیزل سن 1858 میں پیرس میں پیدا ہوا تھا۔ اس کے والد جرمنی سے ہجرت کر کے 1848 میں پیرس میں بس گئے تھے۔ شومئی قسمت سن 1870 میں جرمنی کی سب سے بڑی ریاست پروشیا اور فرانس کے درمیان جنگ چھڑ گئی اور ڈیزل کے خاندان کو ایک دفعہ پھر برطانیہ کی جانب ہجرت کرنی پڑی اور وہ لندن میں رہائش پذیر ہو گیا۔ ڈیزل نے یہاں انگریزی زبان میں پڑھنے لکھنے پر عبور حاصل کر لیا۔ البتہ جلد ہی اس کے والدین نے ڈیزل کو آبائی شہر بھیج دیا تاکہ وہ جرمن زبان میں تعلیم حاصل کرسکے۔
ڈیزل نے اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد میونخ کے رائل باویرین پولی ٹینک کالج میں داخلہ کے لیے امتحان دیا۔ اس امتحان میں ڈیزل نہ صرف کامیاب ہوا بلکہ اسے اسکالر شپ بھی مل گئی۔ تعلیم کے دوران وہ ٹائیفائیڈ جیسے مہلک مرض کا بھی شکار ہو گیا لیکن اس نے ان تمام مشکلات پر نہ صرف قابو پایا بلکہ امتیازی نمبروں کے ساتھ اپنی گریجویشن بھی مکمل کی اور پیرس چلا گیا۔ پیرس میں اس کی ملاقات پروفیسر کارل وان لنڈے سے ہو گئی جن سے ڈیزل میونخ میں پڑھ چکا تھا۔
پروفیسر کارل وان لنڈے نے کالج کی نوکری چھوڑ دی تھی اور اپنی ایک کمپنی قائم کرلی تھی جو مختلف قسم کی گیسوں پر تجربات کر کے ان کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی تھی۔ لنڈے آج سو سال گزرنے کے بعد بھی مختلف گیسوں کو تجارتی بنیادوں پر بناتی اور فروخت کرتی ہے اور اپنے شعبے میں آج بھی مارکیٹ لیڈر ہے۔ لنڈے نے ڈیزل کی صلاحیتوں اور قابلیت کا اندازہ کر لیا اور اسے ریسرچ اور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کا منیجر بنا دیا جس میں بنیادی طور پر ریفریجریشن ٹیکنالوجی پر ریسرچ ہو رہی تھی۔
ڈیزل صرف، اشیا کو سرد کر کے محفوظ کرنے والے چھوٹے سے پروجیکٹ پر کہاں رکنے والا تھا۔ یہ اٹھارہویں صدی کا آخری زمانہ تھا اور کارل بینز کو اپنی موٹر کار کے انجن کا پیٹنٹ حاصل کیے ہوئے تھوڑا ہی عرصہ ہوا تھا۔ ڈیزل کا خیال تھا کہ کارل بینز کے انجن سے زیادہ طاقتور اور بہتر انجن بنایا جاسکتا ہے۔ اس نے ریفریجریشن میں استعمال ہونے والی امونیا گیس سے چلنے والے انجن کا تجربہ کیا جو بری طرح ناکام ہوا اور یہ انجن دھماکہ کے ساتھ پھٹ گیا۔
ڈیزل بھی اس دھماکہ کی زد میں آ گیا اور مرتے مرتے بچا۔ اس کی آنکھوں کی بینائی صرف تیس فیصد رہ گئی لیکن وہ پھر سے ایک بہتر اور طاقتور انجن بنانے میں جت گیا اور 1897 میں پچیس ہارس پاور کا ڈیزل انجن بنانے میں کامیاب ہو گیا جو پیٹرول انجن سے 30 فیصد زیادہ توانائی فراہم کرتا تھا۔ ان کی اس کامیابی نے یورپ کی تمام صنعتی دنیا بلکہ حکومتوں کو بھی چونکا دیا۔
ڈیزل نے جب سے انجن بنانا شروع کیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ یہ انجن چھوٹے تاجروں کے لیے بھی سود مند ثابت ہو گا جو اس انجن کو استعمال کر کے بڑے بڑے صنعتی اداروں کا مقابلہ کرسکیں گے، کیونکہ وہ ایک سستا اور زیادہ موثر انجن بنا رہا تھا۔ لیکن ہوا اس کے برعکس اور اس کا بنایا ہوا انجن بڑے بڑے صنعتی ادارے اپنے پاور پلانٹ، پائپ لائن، ٹرک اور کشتیوں کے لیے استعمال کرنے لگے۔ حتیٰ کہ جرمن نیوی کے انجینئر اس کو اپنی چھوٹی آبدوزوں (UBoats) کے لیے بڑا آئیڈیل انجن سمجھنے لگے۔ جرمن نیوی ڈیزل کے ایجاد کردہ انجن کو اپنی آبدوزوں میں استعمال کرنے کے لیے پہلے ہی رابطہ کرچکی تھی۔ جرمن چاہتے تھے کہ ڈیزل انجن کے استعمال کرنے کے جملہ حقوق جرمن نیوی کے سپرد کردے، لیکن ڈیزل نے ایسا کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ اب وہ اپنے انجن کی فروخت کے لیے برطانیہ جا رہا تھا جہاں اس کی کئی اہم اداروں سے میٹنگ طے تھی جس میں برطانوی بحریہ بھی شامل تھی۔
ستمبر 1913 کی ایک صبح ڈیزل بیلجیئم کے ایک ساحلی شہر اسٹیورپ سے مسافر بردار بحری جہاز ”ڈریسڈن“ پر برطانوی شہر ہاروچ جانے کے لیے سوار ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب پہلی جنگ عظیم کے بادل یورپ کے سر پر منڈلا رہے تھے اور یورپی ممالک جنگ کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ 29 ستمبر 1913 کو ڈیزل نے جہاز کے ریستوران میں کھانا کھایا اور دس بجے رات وہ اپنے کیبن میں سونے کے لیے چلا گیا۔ اس نے متعلقہ عملے کو صبح سوا چھ بجے اسے جگانے کی ہدایت بھی کی۔
جب عملے کا ایک رکن اسے صبح جگانے کے لیے پہنچا تو کیبن سے کوئی جواب نہ آیا۔ کئی دفعہ دستک دینے کے بعد کوئی جواب نہ پاکر عملے کارکن کیبن کے اندر چلا گیا۔ اندر کا منظر حیران کن تھا۔ ڈیزل کا شب خوابی کا لباس بہت درست طریقے سے ان کے بستر پر رکھا ہوا تھا۔ کلائی کی گھڑی بستر کی سائیڈ ٹیبل پر رکھی ہوئی تھی۔ اس کا کوٹ اور سر پر لگانے والا ہیٹ بھی اپنی جگہ ٹنگا ہوا تھا۔ لیکن ڈیزل کہیں موجود نہیں تھا، گیارہ دن بعد ان کی لاش سطح سمندر پر تیرتی ہوئی پائی گئی۔
ایک نظریہ یہ ہے کہ وہ اپنی نجی زندگی کی پیچیدگیوں کی وجہ سے ڈپریشن اور پریشانی کا شکار تھا۔ اسے جرمنی اور فرانس کے درمیان ایک بڑی جنگ کا خطرہ نظر آ رہا تھا۔ شاید اسی وجہ سے ڈیزل نہیں چاہتا ہو گا کہ جرمن بحریہ اپنی یوبوٹ کے لیے ان کا بنایا ہوا انجن استعمال کرے اور وہ برطانیہ کو اپنے انجن کی ٹیکنالوجی منتقل کرنا چا رہا ہو گا
اپنے سفر کے آغاز سے پہلے ڈیزل نے ایک عدد بیگ اپنی بیگم کے حوالے کیا تھا اور یہ ہدایت کی تھی کہ یہ بیگ اس کے سفر پر روانہ ہونے کے ایک ہفتہ بعد کھولا جائے۔ جب یہ بیگ کھولا گیا تو اس میں سے 12 ملین ڈالر کے برابر رقم برآمد ہوئی۔ ڈیزل کے کیبن سے اس کی ایک ڈائری بھی ملی جس پر اس کی گمشدگی والے دن کی تاریخ پر X کا نشان بنا ہوا تھا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ X کا یہ نشان ان کی موت کی نشاندہی کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج تک کوئی بھی یہ نہیں جانتا کہ اس دن کیا ہوا تھا۔ کیا ڈیزل کو جرمنوں نے قتل کر دیا تھا یا خود اس نے اپنی جان لے لی تھی۔
شاید ہم 29 ستمبر 1913 کی رات کو ڈیزل کے ساتھ ہونے والے واقعہ کی حقیقت کبھی بھی نہ جان سکیں گے۔ لیکن دنیا یہ جانتی ہے کہ رڈولف کرسچن کارل ڈیزل نے ایک ایسا انجن ایجاد کیا تھا کہ جو آج سو سال سے زیادہ گزرنے کے بعد بھی دنیا میں اتنا ہی مقبول ہے جتنا اپنے ابتدائی زمانے میں تھا۔


