اپوزیشن کے نمبر پورے ہونے پر بھی سپیکر کیسے حکومت کو بچا سکتا ہے؟

Published on: Mar 4, 2022
مارچ کا مہینہ شروع ہو چکا ہے۔ متحدہ اپوزیشن نے اپنی گنتی پوری کر لی ہے لیکن تحریک عدم اعتماد کے حوالے پھونک پھونک کر قدم رکھ رہی ہے۔ ابھی تک تحریک عدم اعتماد پیش نہیں ہوئی یہ سوال سیاسی حلقوں میں موضوع گفتگو ہے۔ کیا سٹنگ پرائم منسٹر کے خلاف تحریک عدم اعتماد محض ایک سعی لا حاصل ہے جس پھر آ کر رہے گی؟ میری اطلاع کے مطابق اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد کے لئے 172 سے زائد ارکان پورے کر لئے ہیں۔ متحدہ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ اس نے حکمران جماعت کے 24 ارکان کی حمایت حاصل کر لی ہے۔
ان میں سے بیشتر ارکان کا تعلق پنجاب سے ہے۔ ان میں سے 6 ارکان کافی عرصہ قبل مسلم لیگ (ن) کی پاکستان میں قیادت سے رابطہ ہے جب کہ چھے سات ارکان جہانگیر ترین کی وساطت سے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح پی ٹی آئی کے دیگر ارکان بھی مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ کے بدلے تحریک عدم اعتماد کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہیں۔ بس بگل بجنے کا انتظار ہے جب کہ گجرات کے چوہدری برادران گومگو کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ شاید وہ طاقت ور لوگوں کے اشارے کا انتظار کر رہے ہیں۔
چوہدری برادران کی قومی اسمبلی میں ہیں تو 5 نشستیں لیکن ان کے ووٹ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی یا ناکامی میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس وقت قومی اسمبلی میں حکمران جماعت 179 ارکان کی حمایت کی دعوے دار ہے جن میں پی ٹی آئی کے 155، ایم کیو ایم کے 7، مسلم لیگ (ق) کے 5، بلوچستان عوامی پارٹی کے 5، جمہوری وطن پارٹی، آل پاکستان مسلم لیگ کے ایک ارکان حکومت قائم رکھے ہوئے ہیں جب کہ اپوزیشن کا کیمپ 162 ارکان نے آباد کر رکھا ہے جن میں مسلم لیگ (ن) کے 84، پیپلز پارٹی کے 56، متحدہ مجلس عمل کے 15 بی این پی مینگل کے 4، آزاد ارکان 2 اور عوامی نیشنل پارٹی کا ایک رکن شامل ہے۔
بظاہر حکومت کی اپوزیشن پر 17 ووٹوں کی برتری نظر آتی ہے لیکن اگر ان میں سے 10 ارکان بغاوت کر کے اپوزیشن کے ساتھ کھڑے ہو جائیں تو حکومت اقلیت میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ اگر پی ٹی آئی کے 24 ارکان اپوزیشن سے آ ملیں تو عمران حکومت زمین بوس سکتی ہے۔ اس حکومت کو بچانے میں سپیکر کے رول کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا سپیکر اپنی غیر جانبداریت کا چوغہ اتار کر عمران خان کی مدد کے لئے میدان میں کود سکتے ہیں۔
اپوزیشن کو سپیکر قومی اسمبلی کے کردار کی فکر کھائے جا رہی ہے۔ میں نے اپوزیشن کے ذمہ دار رہنماؤں سے بات چیت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے ٹیبل ہوتے ہی سپیکر قومی اسمبلی کا اجلاس 14 دن میں بلانے کا پابند ہے لیکن وہ اجلاس بلانے میں تاخیری حربے استعمال کر سکتا ہے۔ پی ٹی آئی کے باغی ارکان کے ووٹوں کو شمار کرنے سے انکار کر سکتا ہے۔ اسی طرح ووٹنگ کے وقت حکومتی ارکان ہنگامہ برپا کر کے ووٹنگ کا عمل رکوا سکتے ہیں۔ ہنگامہ آرائی پر سپیکر قومی اسمبلی اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر سکتا ہے۔ سپیکر او آئی سی کانفرنس کی وجہ سے قومی اسمبلی کا ہال خالی نہ ہونے کا بہانہ تراش سکتا ہے۔
اپوزیشن کا ایک سوال یہ بھی ہے۔ ان کے ارکان کی حفاظت کی ضمانت کون دے گا؟ کچھ ارکان کو اٹھایا بھی جا سکتا ہے۔ پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے ارکان کے خلاف نا اہلی کے ریفرنس بھی دائر ہو سکتے ہیں جب کہ آزاد منتخب ہو کر کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنے والے ارکان پر یہ قانون لاگو نہیں ہوتا یہی وجہ اب تک متحدہ اپوزیشن کی طرف سے تحریک عدم اعتماد ٹیبل نہیں ہوئی۔
متحدہ اپوزیشن مسلم لیگ (ق) ، ایم کیو ایم اور بی اے پی سے مذاکرات کر رہی ہے جن کے پاس 17 ارکان ہیں۔ ان کے حکومت سے الگ ہونے پر وفاداری تبدیل کرنے کا قانون لاگو نہیں ہوتا اپوزیشن کے ارکان کو اگلے ہفتہ کو اسلام آباد میں اپنی حاضری کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
وزیر اعظم کی گھبراہٹ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ معمول کا ہفتہ وار وفاقی کابینہ کا اجلاس منسوخ کر کے چوہدری برادران سے ملاقات کے لئے لاہور پہنچ گئے جہاں اپوزیشن کے لیڈروں نے پہلے ہی ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی چودھری برادران سے ان کی رہائش گاہ پر ہونے والی ملاقات کی مصدقہ خبر سامنے نہیں آئی
ایک طرف سے حکومت کے ترجمان ملاقات میں چوہدری برادران کی طرف سے حکومت کے ساتھ رہنے کی یقین دہانی کروانے کی خبریں لگوا رہے ہیں۔ دوسری طرف وفاقی وزیر طارق چیمہ جو مسلم لیگ (ق) کے سیکریٹری جنرل ہیں، نے بیان جاری کیا ہے کہ وزیر اعظم سے تحریک عدم اعتماد پر کوئی بات ہوئی ہے اور نہ ہی ہم نے کوئی یقین دہانی کرائی ہے البتہ پارٹی نے چوہدری پرویز الہی کو فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔
غیر مصدقہ اطلاع کے مطابق چوہدری برادران نے وزیر اعظم سے کہا ہے کہ ہماری سیاست آپ کے ساتھ ہے۔ شہباز شریف سے بھی کہا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کی کوششیں فسانہ ثابت ہوں گی۔ عمران خان کو نہ ہٹا سکے تو اپوزیشن سیاسی نقصان اٹھاتے ہوئے زمین بوس ہو جائے گی ۔ چوہدری برادران نے کہا ہے کہ ہم قول و فعل کے پکے ہیں۔ وزیراعظم اور چودھری برادران میں پانچ منٹ سے زائد علیحدہ ملاقات بھی ہوئی جس میں دونوں جانب سے کھل کر باتیں کی گئیں پانچ منٹ کی الگ ملاقات میں بس ایک دو باتیں ہی ہوئی ہوں گی۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ ہم نے شہباز شریف کو خوش آمدید کہا ہے۔ ہماری خاندانی روایت ہے۔ ہم اپنے مہمان کو خو آمدید کہتے ہیں لیکن ہم نے ان کی پیشکش کا کوئی جواب نہیں دیا کیونکہ ہم حکومت کے اتحادی ہیں۔
چوہدری پرویز الٰہی نے بتایا کہ انہوں نے شہباز شریف سے کہہ دیا تھا کہ ایسی کوشش کا کوئی فائدہ نہیں جو کامیاب نہ ہو سکے، حکومت کا کچھ نہ بگاڑ سکے تو اپوزیشن کی اپنی سیاست ختم ہو سکتی ہے۔ اس سے سیاسی نظام کو الگ نقصان ہو گا۔ جس پر وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کے خلاف کرپٹ لوگ اکٹھے ہوچکے ہیں لیکن یہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے میں شریف برادران کو بخوبی جانتا ہوں، یہ اپنے مفاد کے لئے ملک میں عدم استحکام چاہتے ہیں۔
چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ اب تک ہونے والی تمام ملاقاتوں میں ہمارا یہی موقف رہا ہے کہ جمہوری حکومتوں کو ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہیے ۔ وزیراعظم سے راولپنڈی، بہاولپور، ملتان اور ساہیوال ڈویژن سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمان نے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں وزیراعظم سے رکن قومی اسمبلی سردار نصراللہ دریشک نے بھی ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں کا پس منظر بھی تحریک عدم اعتماد سے جڑا ہوا ہے۔ یہ ارکان وزیر اعظم سے ملاقات کے لئے مہینوں انتظار کرتے رہتے ہیں لیکن ان کی وزیر اعظم سے ملاقات نہیں ہوتی اب تحریک عدم اعتماد کے خطرے نے ان کی وزیر اعظم سے ملاقات کروا دی۔
مسلم لیگ (ق) کے سیکریٹری جنرل و وفاقی وزیر ہاؤسنگ و ورکس طارق بشیر چیمہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور چوہدری برادران ملاقات میں عدم اعتماد زیر بحث ہی نہیں آئی، ہم نے حکومت کو حمایت کا کوئی بیان نہیں دیا، پتہ نہیں یہ خبریں کون چلا رہا ہے۔ یہ بات ہوئی ہی نہیں ہے۔ وزیراعظم تشریف لائے تھے۔ ان کی مہربانی ہے۔ وہ عیادت کی غرض سے تشریف لائے تھے۔ انہیں ہم نے خوش آمدید کہا ہے۔ میں واضح طور پر بتا دوں دینا چاہتا ہوں کہ وہاں کیا گفتگو ہوئی ہے۔
وزیراعظم نے ادھر ادھر کی گفتگو کرنے کے بعد اپنے روس کے دورے کے بارے میں بتایا، ان کو اعتماد میں لیا کہ یہ ہوا، یہ ہوا، اس کے بعد عدم اعتماد کے اوپر کوئی بات نہیں ہوئی، وزیراعظم نے یہ ضرور کہا کہ آج کل سب آپ کے پاس آرہے ہیں۔ چودھری صاحب نے کہا کہ آنا سب کا حق ہے۔ سیاستدان ایک دوسرے کو ملتے رہتے ہیں۔ کچھ دیر سے آئے، کچھ جلدی ٓآئے، انہوں کہا کہ ہمیں بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہم بار بار روز کسی کو کہیں کہ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم آپ کو چھوڑ رہے ہیں۔
جب آصف زرداری، مولانا فضل الرحمٰن اور شہباز شریف تشریف لائے تو چودھری صاحب نے پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ بلائی، وہاں سیر حاصل بحث کے بعد چودھری صاحب کو اختیار دیا گیا کہ وہ مشاورت کریں، ان کا جو فیصلہ ہو گا۔ پارٹی اس پر عملدرآمد کرے گی۔ ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا جب ان کی مشاورت مکمل ہو جائے گی تو وہ فیصلہ میڈیا پر آ کر بتا دیا جائے گا کہ یہ مسلم لیگ قائداعظم کا فیصلہ ہے۔
طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ پتا نہیں یہ تو فواد صاحب بہتر بتا سکتے ہیں کہ کس نے ان کے ساتھ الیکشن لڑنا ہے کس نے نہیں لڑنا، لیکن میرے علم میں یہ بات نہیں ہے۔ مجھے یہ نہیں سمجھ آ رہی کہ ابھی تو آئندہ الیکشن میں ڈیڑھ سال باقی ہے۔ فواد چوہدری کو اتنی جلدی کیا پڑ گئی ہے کہ ہم ساتھ لڑیں گے جس علیحدہ علیحدہ لڑیں گے۔ ابھی تو یہی فیصلہ نہیں ہوا کہ عدم اعتماد میں ہم نے حکومت کے ساتھ ٹھہرنا ہے یا اس کے خلاف جانا ہے۔ ابھی تو یہ فیصلہ نہیں ہوا الیکشن تو دور کی بات ہے۔ شہباز شریف نے دعوت دی ہے۔ وہ ہمارے ہاں تشریف لائے تھے۔ ان کی مہربانی ہے تو ان کی طرف جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ ایک دوسرے سے ملتے رہتے ہیں۔ چلے بھی جائیں تو حیرت والی بات نہیں ہوگی۔
وزیراعظم عمران خان کی چودھری برادران سے ملاقات پر مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ گھبرانا نہیں ہے۔ اچھا ؟
وزیراعظم عمران خان کی چوہدری برادران سے ملاقات بارے میں ایک اور کہانی گردش کر رہی ہے جس میں بتایا گیا کہ نصف گھنٹے کی ملاقات میں کسی ٹھوس یقین دہانی کے بغیر ہی وزیر اعظم واپس اسلام آباد روانہ ہو گئے کہ سمجھوتے کی شادی کا انجام کیا ہو گا۔ حقائق منظر عام پر نہیں آئے مسلم لیگ (ق) کے ایک ذمہ دار لیڈر کا اصرار ہے کہ ملاقات میں ہونے والی باتوں کے حوالے سے ایک وزیر میڈیا کو غلط معلومات فراہم کر رہا ہے۔
یہی وجہ ہے۔ مسلم لیگ (ق) نے اس ملاقات کے حوالے سے میڈیا میں ایک بیان بھی جاری کیا عدم اعتماد کی تحریک کے معاملے پر کوئی بات نہیں ہوئی اور فریقین کے درمیان عمومی بات چیت ہوئی۔ مسلم لیگ (ق) کی قیادت سے ان کی شہباز شریف کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے متعلق پوچھا گیا۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ شہباز شریف نے 14 سال بعد چوہدری برادران سے ملاقات کی۔ چوہدری برادران کا کہنا ہے کہ سیاسی خاندان کی حیثیت سے سیاست دانوں کا ان سے ملنے کے لئے آنا معمول کی بات ہے۔
سیاست پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ وہاں کئی لوگ بیٹھے تھے۔ لہٰذا عدم اعتماد کی تحریک کا معاملہ زیر بحث نہیں آیا۔ وزیراعظم نے چوہدری شجاعت حسین سے ان کی صحت کے متعلق دریافت کیا غیر مصدقہ خبر ہے کہ چوہدری برادران نے شہباز شریف سے حکمت عملی کا سوال کیا تھا جو مسلم لیگ (ق) کی قیادت کی نظر میں ٹھوس نہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ چوہدری شجاعت حسین نے عمران خان کو ڈٹے رہنے کا مشورہ دیا ہے۔
احسن اقبال کا کہنا ہے کہ اتحادیوں کے علاوہ پی ٹی آئی ارکان کی سپورٹ بھی حاصل ہے۔ تحریک عدم اعتماد کی سب سے زیادہ سپورٹ تحریک کے اندر سے ہے۔ سودے بازی وہ کرتا ہے جو اپوزیشن چھوڑ کر حکومت میں جاتا ہے۔ پی ٹی آئی کے بیس کے لگ بھگ ایم این ایز رابطوں میں ہیں۔ حکومت کے اپنے وزیر عمران خان کو چھوڑنے کے لئے تیار ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں جب سمجھیں گی کہ ہوم ورک مکمل ہے تو عدم اعتماد لے آئیں گی۔
متحدہ اپوزیشن کی طرف سے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے اعلان کے بعد وزیراعظم عمران خان سیاسی محاذ پر سرگرم ہو گئے ہیں۔ عمران خان نے مسلم لیگ ق کی قیادت سے ملاقات کے بعد دیگر اتحادیوں سے بھی ملاقات کا عندیہ دیا ہے۔ ان کی متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) ، بلوچستان عوامی پارٹی اور جی ڈی اے کے رہنماؤں سے بھی جلد ملاقات کا امکان ہے۔
مولانا فضل الرحمنٰ نے پہلے ہی اسلام آباد میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ پیر کو شروع ہونے والے ہفتہ کو اپوزیشن کے ارکان اسلام آباد میں اکٹھے ہو رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن تحریک عدم جمع کراتی ہے جس اتحادیوں کے فیصلہ کا انتظار کرتی ہے۔ اس سوال کا جواب جلد مل جائے گا۔
