وحید مراد کی شناخت


ہماری فلمی تاریخ میں، کسی ہیرو یا اداکار کے حوالے سے، یہ کسی قدر ناقابل یقین داستان لگتی ہے کہ اس کے بچھڑنے کے بعد ، گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ، اس کے پرستاروں میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا ہو اور روایتی اور سوشل میڈیا دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہوں کہ یہ سلسلہ تقریباً ”چار دہائی گزرنے کے بعد بھی تاحال ٹوٹنے کی بجائے، اسی پختگی سے قائم و دائم ہے۔

یہ اعزاز بجا طور پر ہماری فلم انڈسٹری کے چاکلیٹ ہیرو کے حصے میں آیا ہے جنہوں نے پاکستانی فلم انڈسٹری میں اداکاری کے نئے انداز کو متعارف کرایا اور شاید ( شعوری یا لا شعوری طور ہر ) ان ہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کے مداحوں نے اپنے پسندیدہ ہیرو سے تعلق اور محبت کی نئی اور بے مثال روایت رقم کی ہے جس کا اعتراف اب فلمی، فنی اور ثقافتی ناقدین، ماہرین، مبصرین اور شائقین کے بیشتر حلقوں کی طرف سے بھی، یک زبان ہو کر ، تقریباً تمام پلیٹ فارم پر کیا گیا ہے ( اور کیا جا رہا ہے۔ ) ہیرو اور پرستار کے درمیان موجود اس گہرے اور پائیدار رشتے کا دیرپا نقش، تسلسل کے ساتھ ابلاغ عامہ کے مختلف ذرائع پر واضح طور پر نمایاں دیکھا جا سکتا ہے۔

عقیدت کی موجودہ لہر کو دیکھتے ہوئے، ان پرستاروں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک سینئر پرستار اور ایک جونئیر پرستار۔ جونئیر پرستار عموماً وہ ہیں جنہوں نے، انھیں پردہ اسکرین پر کم دیکھا یا بہت کم عمری میں دیکھا ( یا بڑی اسکرین پر یکسر نہیں دیکھا ) ۔ ان کی انفرادیت یہ بھی ہے کہ انھوں نے عصر حاضر کے اسٹارز کی موجودگی میں بھی، اپنی ترجیحات میں اس ہیرو کو فوقیت دی جو اب ہمارے درمیان موجود نہیں۔

سینئر پرستار وہ ہیں جنہیں ہیرو کے تمام ادوار، اپنے پورے شعور میں دیکھنے کا موقع ملا اور جو ان کے کیریر کے نشیب و فراز کے چشم دید گواہ بھی رہے۔ ان کی مستقل مزاجی ہی ان کی انفرادیت قرار دی جا سکتی ہے جس کی بہ دولت، 1983 سے انھوں نے کسی نہ کسی شکل میں ہیرو سے تعلق کے اظہار کا سلسلہ جاری رکھا اور غالباً اسی تسلسل کے سبب، جونئیر پرستاروں میں ہیرو کے بارے میں تجسس کا جذبہ بیدار ہوا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ عمر، تجربے اور مشاہدے کے اس واضح فرق اور تقسیم کے باوجود ان پرستاروں میں ایک حیرت انگیز قدر مشترک ہے اور وہ ہے اپنے ہیرو سے دیوانہ وار وابستگی اور اس والہانہ چاہت کا پر جوش اظہار!

بچھڑنے والے کی شخصیت کے پوشیدہ اور ظاہر گوشوں سے، زیادہ سے زیادہ شناسائی کی تڑپ نے، کھوج اور تلاش کی وہ مہم شروع کی ہے جس میں سرگرم عمل، ہر اس چھوٹی بڑی، اہم غیر اہم اور نئی یا پرانی، چیز کے متلاشی دکھائی دیتے ہیں جن سے ان کے من پسند شخصیت کا بل واسطہ یا بلا واسطہ، تعلق رہا ہو۔ اس عمل کو بڑھاوا دینے میں، سوشل میڈیا نے بھی ان کا خوب ساتھ دیا ہے اور اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ جس وسیع پیمانے پر ان کی ( متحرک و جامد ) تصاویر اور ان سے متعلق انواع و اقسام کی ( قدیم و تازہ ) تحاریر، منظر عام پر آ رہی ہیں، یہ دعوی شاید غلط نہ ہو کہ اس تعداد میں ان مواد تک رسائی اور رونمائی، ان کی زندگی میں بھی اس طور میسر نہ تھی۔

ٹیکنالوجی کے فروغ نے بھی اس سلسلے میں یہ اہم کردار ادا کیا ہے کہ اب بہت سی خواہشات کو ماضی کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے، کم وقت میں ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ ان میں سر فہرست، عہد گزشتہ کی بلیک اینڈ وائٹ ٹریٹمنٹ کو عہد حاضر کے تقاضوں کے مطابق جاذبیت سے ہمکنار کرنے کے لئے، ان کی رنگ آمیزی ہے۔ سو اس رجحان میں دلکش اور سدا بہار نغموں سے بہتر ترجیح اور کیا ہو سکتی ہے۔ پھر یہ اندازہ لگانا بھی، کیا مشکل ہے کہ ہماری فلم انڈسٹری کے وہ نغمے کون سے ہیں جو ایک ہیرو کی موجودگی سے، سننے سے زیادہ دیکھنے کے لائق ہو جاتے تھے! یہی وجہ ہے کہ رنگارنگ تخلیقی تجربے کی اس ابتدائی صف میں ارمان، دل میرا دھڑکن تیری، افسانہ، دوراہا، نصیب اپنا اپنا وغیرہ کے دلکش نغموں کا انتخاب، ممتاز نظر آتا ہے۔ یہاں یہ قیاس کرنا بھی مشکل نہیں کہ آئندہ، اس فہرست میں جو اضافہ ہو گا، اس میں کس نغماتی ذخیرے کا حصہ زیادہ ہو سکتا ہے۔

اسی طرح، نئی نسل کے اداکاروں اور گلوکاروں کی طرف سے نغموں پر ان کی بے مثال اور دل موہ لینے والے فلم بندی کو خراج عقیدت پیش کرنے کا سلسلہ بھی تھمنے کا نام نہیں لیتا۔ اس ضمن میں تین فلمیں ارمان، دل میرا دھڑکن تیری اور لاڈلا کے مشہور زمانہ گیت خاص طور پر ان جونئیر فنکاروں کی توجہ کا مرکز نظر آتے ہیں جن پر نئے عہد کے تقاضوں کے مطابق آڈیو وڈیو کے حوالے سے ترمیم و اضافے کی صورت میں نئے آہنگ اور نئے بصری انداز کا کام پوری دل جمعی اور دل چسپی سے جاری و ساری ہے۔

تجسس اور تڑپ کے اس سفر کا کمال دیکھیں کہ اب بات مکمل فلموں سے ہوتے ہوئے، ان فلموں کے تذکرے تک بھی جا پہنچی ہے جنہیں یا تو سیٹ پر جانا ہی نصیب نہ ہوا یا وہ تکمیل کے کسی مرحلے میں کسی وجہ سے ادھوری رہ گئیں۔ ہر معاملے کی طرح اس معاملے میں بھی ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی دوڑ، یہاں بھی موجود ہے۔ اپنے اپنے وسائل اور اپنی اپنی کوششوں سے کوئی نئی اطلاع، کوئی نیا انکشاف لاکر، ایک دوسرے کو حیرت زدہ کرنے پر سبھی آمادہ نظر آتے ہیں۔ غور کیا جائے تو ان نامکمل اور مجوزہ منصوبوں سے مفروضے کی بنیاد پر تعلق جوڑنے کی جذباتی ( اور خیالی ) کوشش، اور اس انہونی کو ممکن ہوتا دیکھنے کی خواہش، درحقیقت ہیرو سے تصوراتی ربط میں رہنے کا جداگانہ اظہار ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔

ہیرو کا یہ عہد ثانی، اس اعتبار سے بھی قابل رشک اور مثالی کہا جاسکتا ہے کہ محبت اور اظہار محبت کی یہ کھڑکی توڑ، نمائش، دنوں اور ہفتوں تک محدود نہیں بلکہ یہ ہاؤس فل کی صورت، سارے سال پر محیط ہے۔ اس صورت حال کو یوں بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ عقیدت مندوں کا رش دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے، جیسے ان سب نے ہیرو سے لگاؤ کی ایڈوانس بکنگ کرائی ہوئی ہے اس لئے ہر کوئی اپنی لگن میں، اپنے انداز سے، اپنے جذبات، اپنے پسندیدہ گانے، ( جھلکی یا تراشے ) کی صورت میں اسے ظاہر کرنے کا پابند دکھائی دیتا ہے اور یہ پابندی پورے ذوق و شوق سے، نہایت باقاعدگی سے نبھائی جاتی ہے۔

اب، نئی نسل کی طرف سے اپنے ہیرو کو عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کی خواہش، فطری کہی جانی چاہیے کہ پرستاروں کی طرف سے اپنے ہیرو کی پذیرائی کے لئے پہلے سے زیادہ کچھ کر دکھانے کی جھلک، اس عزم میں بھی دیکھی جا سکتی ہے، سو یہ حق بنتا ہے کہ مادام تساو میوزیم میں، جہاں ایشیا کے اور دوسرے فنکاروں کو جگہ دی گئی ہے، وہاں اسے بھی نمائندگی ملے، جس نے اپنے ملک میں اداکاری اور ہیر اسٹائل کا مقبول ترین اور متاثر کن انداز متعارف کرایا اور نسل در نسل لوگوں کو اپنے سحر میں رکھا۔

اس حوالے سے یونیورسٹی آف سرے سے منسلک اور سرچ پییس فاونڈیشن کی صدر ایستھر داس، تمام تر، داد اور حوصلہ افزائی کی مستحق ہیں جن کی تحریک پر ، ورلڈ کانگریس آف اوورسیز پاکستانیز کے تعاون سے لندن ہائی کمیشن میں، اس سال ماہ جنوری میں ہیرو کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے خصوصی تقریب منعقد ہوئی۔ اس نوعیت کی تقریب کا ہائی کمیشن میں انعقاد بلاشبہ اپنی جگہ تاریخی اور مثالی ہونے کے ساتھ ساتھ، اسے، مادام تساو میوزیم میں شمولیت کی سمت میں بجا طور پر بڑی پیش رفت قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ تحریک اگر کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے تو یہ امید رکھنی چاہیے کہ آئندہ پاکستان کے دوسرے فن کاروں کے لئے بھی امکانات اجاگر ہوں گے۔

( یاد رہے کہ وحید مراد کی مقبول ترین اور ناقابل فراموش نغماتی فلم ارمان، جس نے حقیقتاً ان کے شاندار کیریر کی بنیاد رکھی، 1966 میں مارچ کے مہینے میں ریلیز ہوئی اور فلمی تاریخ کی پہلی پلاٹینم جوبلی فلم کی حق دار قرار پائی )

Facebook Comments HS