امام شامل : روس کا داغستانی جنگی قیدی، یوکرین کا ہیرو

30 مارچ 2019 کی صبح یوکرین کے دارالحکومت کیف کے سٹی سینٹر میں انیسویں صدی میں تعمیر کردہ ایک پرشکوہ رہائشی عمارت کے صدر دروازہ پر کیف سٹی کونسل کے سربراہ کے ساتھ شہر کے معززین کا ایک چھوٹا سا ہجوم موجود ہے۔
دروازے کے ساتھ دیوار پر ایک بڑی سی تختی آویزاں ہے جس پر ایک خوبصورت پردہ پڑا ہوا ہے۔ سٹی کونسل کے سربراہ تالیوں کی گونج میں اس پردے کو ہٹاتے ہیں تو یادگاری تختی پر سب سے نمایاں ایک انسانی شبیہ نظر آتی ہے جس کے چہرے پر گھنی داڑھی ہے اور سر پر پگڑی نما ٹوپی ہے۔ یہ امام شامل کی شبیہ ہے۔ امام شامل کون تھے؟ آج انہیں بہت کم لوگ جانتے ہوں گے لیکن وہ انیسویں صدی میں مسلمان کے بہت عظیم رہنما تھے۔ ان کی قیادت میں ( قفقاز) کاکیشیا اور چیچنیا کے مسلمانوں نے روسی استعمار کے خلاف کئی جنگیں لڑیں۔
اس علاقے کو داغستان بھی کہا جاتا ہے۔ امام شامل کی کہانی اور ان کا زمانہ دراصل روسی نو آبادیاتی پھیلاؤ کی تاریخ بھی ہے۔ یہ وہ دن تھے جب داغستان کے برفیلے پہاڑوں پر تین قسم کی آوازیں ہی سنائی دیا کرتی تھیں۔ طبل جنگ جو لوگوں کو جہاد کے لیے اکٹھا کرنے کے لیے بجتے تھے برفانی ہوائیں جو سنگلاخ وادیوں اور گھاٹیوں میں شائیں شائیں کرتی گزرتی تھیں یا پھر کبھی کبھی چرواہوں کی بانسریوں کی مدھر تانیں۔
جب امام شامل پیدا ہوئے تو روسی سلطنت اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کر رہی تھیں۔ زار روس کی فوجیں بیک وقت سلطنت عثمانیہ اور سلطنت فارس کے علاقوں پر یکے بعد دیگرے قبضہ کر رہی تھیں۔ روس کی اس جارحانہ پیش قدمی کے دوران جس علاقے کے باشندوں نے حملہ آوروں کا سب سے زیادہ بہادری سے مقابلہ کیا وہ داغستان تھا۔ یہاں کے باشندوں نے بغاوت کی اور روسیوں کو اپنے وطن سے نکال باہر کیا۔ آزادی کی اس جنگ میں سب سے زیادہ شہرت اور عزت امام شامل نے حاصل کی۔
آج روس اور یورپ بلکہ اسلامی دنیا میں امام شامل کے نام سے کوئی واقف نہیں۔ البتہ اب سے تقریباً ڈیڑھ سو سال پہلے یورپ کے اخبارات امام شامل کے کارناموں سے بھرے رہتے تھے۔ عوامی جلسوں میں امام شامل کی بہادری کے داستانیں بیان کی جاتی تھیں۔ برطانیہ کے عوام، امام شامل کے جنگی کارناموں کو روس کے ہندوستان پر قبضہ کرنے کے عزائم میں ایک رکاوٹ سمجھتے تھے۔ داغستان کے حکمران کی حیثیت سے وہ 25 سال تک روس کی فوجوں سے بے جگری سے لڑتے رہے اور داغستان کی پوری سرزمین سے روسیوں کو نکال باہر کیا۔
لیکن روسی ہر بار نئے اور تازہ دم فوجی دستوں کے ساتھ حملہ آور ہوتے تھے۔ امام شامل کے لیے روس کی کثیر تعداد اور جدید اسلحے سے لیس افواج کا تنہا مقابلہ کرنا ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے سلطنت عثمانیہ اور تاج برطانیہ کی مدد حاصل کرنا چاہی مگر ناکام رہے۔ امام شامل کی کیفیت بالکل ایسی ہی تھی جیسی آج کل یوکرین کی ہے۔ آخرکار 1851 میں غنیب کے سخت ترین معرکہ میں روسیوں کی جانب سے غنیب کے تمام شہریوں کو قتل کرنے کی دھمکی پر انہوں نے شہریوں کی جان کے بدلے خود کو روسی فوجوں کے حوالے کر دیا اور ہتھیار ڈال دیے۔ روسی کمانڈر نے جو زار روس کا بھائی تھا زار کو مبارکباد کا پیغام روانہ کیا کہ آج 100 سال سے جاری داغستان کی جنگ ختم ہو گئی ہے۔ اس دن کلیساؤں میں اس کی کامیابی پر شکرانے کی خصوصی عبادت کی گئی۔
امام شامل نے گرفتاری کے بعد کچھ سال ماسکو کے قریب ایک چھوٹے سے قصبے میں گزارے اور 1868 میں یہ کیف بھیج دیے۔ کیف میں ان کی قیام گاہ پر کیف سٹی کونسل کی جانب سے 2017 میں یہ چوبی پلیٹ نصب کی گئی جس پر ان کی شبیہ بھی بنی ہوئی ہے۔ یہ تقریب یوکرین کے دارالحکومت کی طرف سے امام شامل کو روسی سامراج کے خلاف آزادی کے ایک بہادر حریت پسند رہنما کے طور پر تسلیم کرنے کے سلسلے میں منائی گئی تھی۔ آج امام شامل یوکرین کے ہیرو ہیں جہاں وہ ڈیڑھ سو سال پہلے ایک جنگی قیدی کے طور پر لائے گئے تھے۔
شاید آج امام شامل کی روح کو سکون مل گیا ہو۔ وہ جس زمانہ میں روس کے خلاف لڑ رہے تھے اس وقت ذرائع ابلاغ اتنے وسیع نہیں تھے نہ انٹرنیٹ تھا نہ ٹیلی ویژن نہ ہی کمپیوٹر۔ رائے عامہ کی بھی اتنی اہمیت نہیں تھی، حکمران جو چاہتے تھے کرتے تھے۔ امام شامل نے زار شاہی کے خلاف انتہائی بے سروسامانی کی حالت میں بائیس سال تک جنگ لڑی اب دیکھنا یہ ہے کہ یوکرین اور روس کی موجودہ جنگ کتنی طویل ہوتی ہے۔

