جمشید خان دکھی۔ گلگت بلتستان کو دکھی کر گئے


یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں آغا خان ہائر سیکنڈری سکول گاہکوچ میں زیر تعلیم تھا، مختلف اخبارات کے ذریعے معلوم ہوا کہ حلقہ ارباب ذوق نامی ادبی تنظیم گلگت میں ماہوار طرحی مشاعرے کا اہتمام کرتی ہے جس میں کسی ایک بڑے شاعر کا مصرع دیا جاتا ہے اور تمام سینئرز و جونیئر شعرا طرحی غزل لکھتے ہیں اور حلقہ ارباب ذوق کے مشاعرے میں پڑھتے ہیں، اخبار سے مصرع اٹھایا اور ایک طرحی غزل میں بھی تحریر کی۔ اسی دوران گلگت بلتستان کے نامور شاعر و مصنف عبدالکریم کریمی بھی گاہکوچ میں ہوتے تھے، ان سے ریکویسٹ کی کہ اس دفعہ میں بھی مشاعرے میں شرکت کروں گا جس پر کریمی صاحب نے خوشی سے حامی بھر لی اور ہم مقررہ تاریخ کو پیلس ہوٹل پہنچ گئے جہاں پہلے سے گلگت بلتستان کے قد آور شعراء موجود تھے، مشاعرے کا باقاعدہ آغاز ہوا، گلگت بلتستان کے نامور شاعر و صدر حلقہ ارباب ذوق کو صدارت کی کرسی پر دعوت دی گئی، جونئیر شعراء کو شروع میں موقع دیا گیا جب میری باری آئی تو میں نے یہ طرحی غزل کپکپاتے ہونٹوں اور لرزتی ہوئی آواز میں سنا دی؛

وفا کا کوئی بھی پیکر نہیں ہے
بھروسا اس زمانے پر نہیں ہے
میرا انداز جنگ ہے اس طرح کا
قلم ہے ہاتھ میں خنجر نہیں ہے
تمہارے دل میں رہنا چاہتا ہوں
میرا اپنا تو کوئی گھر نہیں ہے
مجھے پیاری ہے دنیا کی ہر اک شے
میری دھرتی سے کچھ بڑھ کر نہیں ہے

میری اس غزل پر تمام شعراء نے خوب داد دی۔ مشاعرے کے اختتام پر سٹیج کے قریب بیٹھے ہوئے ہلکے ہلکے سفید بالوں والے شخص نے مجھے اشارہ کیا اور اپنے پاس بٹھایا اور میرے ہاتھ سے کاغذ اٹھاتے ہوئے مجھ سے مخاطب ہوا ”بیٹا، کہاں سے تعلق ہے“ میں نے کہا ”سر یاسین سے“ ، ”کس کلاس میں پڑھتے ہو“ ، میں نے جواباٙ کہا ”سر کلاس ششم سے“ ۔ یہ سنتے ہی انہوں نے میرے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھا اور کہا ”زبردست بیٹا، آپ کی شاعری بہت اچھی ہے، مزید محنت کرو اور ہمارے مشاعروں میں ہر مہینے ضرور شرکت کرنا، تاکہ آپ کی شاعری میں مزید نکھار آ جائے“ ۔

اس کے بعد دائیں جانب بیٹھے نامور شاعر امین ضیا سے مخاطب ہوئے ”یاسین کے نوجوان بھی اب اردو ادب کہ طرف آرہے ہیں، انشاء اللہ یہ سرزمین بہت زرخیز ہے ہمارے ہاتھوں لگا محبتوں کا پودا پھلے گا اور پھولے گا“ اور پھر سامنے بیٹھے مرحوم بشارت شفیع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مجھ سے پوچھا ”اس نوجوان کو جانتے ہو؟ وہ بھی یاسین کا ہے۔ میں نے کہا“ جی سر اس کو جانتا ہوں ”۔

گلگت بلتستان کے حبیب جالب کہلانے والے نامور مزاحمتی شاعر جمشید خان دکھی (جنہیں مرحوم لکھتے ہوئے میرا دل اداس ہو رہا ہے ) سے یہ میری پہلی ملاقات تھی، مجھے اس ملاقات کے بعد دلی خوشی ہوئی کیونکہ یہ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایسے عظیم ادبی شخصیات سے حقیقت میں ملاقات بھی ہوگی، اسلام و علیکم کے عنوان سے ان کے کالم اور قطعے تو میں اکثر ہفت روزہ اذان کی وساطت سے پڑھتا رہتا تھا اور بہت کچھ سیکھنا کا موقع بھی ملتا تھا لیکن ان کے سامنے شعر پڑھنے یا ان سے شاباش لینا میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔

اس ملاقات کے بعد دکھی صاحب سے اکثر ملاقاتیں ہوتی رہی اور ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ وہ ہمیشہ دھیمی آواز میں بات کرتے تھے اور رحم دلی سے پیش آتے تھے، باتیں اس انداز میں کرتے کہ ان کے الفاظ سے پھول جھڑتے تھے، شعر ایسے کہتے کہ لہو گرما دیتے تھے۔ ان کی شاعری نے گلگت بلتستان کی تعصب زدہ ماحول میں امیدوں کے دیے روشن کیے ، اپنے شاعری میں پیار و محبت، امن و امان، بھائی چارگی کا پیغام دیا، فرقہ واریت کی وجہ سے رنجیدہ نظر آتے تھے، اسی لئے کہا تھا؛

تعصب سے بھرا پیغام یہ ہے
بہاؤ خون درس عام یہ ہے
مسلمانوں کا گر انجام یہ ہے
میں کافر ہوں اگر اسلام یہ ہے

گلگت بلتستان کی بنیادی، انسانی، جمہوری و آئینی حقوق کی خاطر ظالم و جابر حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق بلند کرتے رہے اور اپنی شاعری میں گلگت بلتستان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو اجاگر کیا؛

خموشی میں بھی کچھ تو مصلحت ہے
میرے اہل وطن بزدل نہیں ہیں
جو یورپ نے حقوق کتوں کو بخشے
وہ انسانوں کو یاں حاصل نہیں ہیں

گلگت بلتستان کی غیر آئینی حیثیت سے دلبرداشتہ ہو کر کہا؛
بدل دے خو امیر شہر ورنہ
سبق اقبال کے شاہین دیں گے
نہ بجلی دے سکے آدھی صدی میں
وہ حاکم کیا ہمیں آئین دیں گے

اپنی شاعری میں انہوں نے نوجوانوں کو ہمیشہ امن و محبت اور انسانیت کا درس دیا؛
بشر چاہے جہاں کا ہو ملو یک جان بن جاؤ
تعصب بھی کرو ایسا کہ تم ذیشان بن جاؤ
شیعہ انجنیئر تو پھر سنی کپتان بن جاؤ
کوئی کرنل حسن، بابر کوئی شاہ خان بن جاؤ
آگر جانباز بننا ہے تو لالک جان بن جاؤ
مگر ان سب سے بہتر ہے کہ تم ذیشان بن جاؤ۔

ان کی شاعر میں سب سے مقدم اس دھرتی سے محبت تھی، انہوں نے عشق کیا تو اس دھرتی سے کیا، اس دھرتی کے لوگوں سے کیا۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ عوام آپس میں لڑے اور اغیار اس دھرتی پر قابض ہو۔ انہوں نے دھرتی ماں سے محبت کا اظہار یوں کیا؛

میری دھرتی تو میری آبرو ہے
تیری تصویر پیہم روبرو ہے
تیری رعنائیوں اور خوشبوؤں میں
میرے اسلاف کی شامل لہو ہے۔

دکھی صاحب سے میری آخری ملاقات آغا خان ہائر سیکنڈری سکول گلگت میں بزم سخن کے زیر اہتمام محفل مشاعرہ میں ہوئی جہاں وہ مہمان خصوصی تھے۔ پروگرام کے اختتام پر جمشید خان دکھی صاحب اور میں عبدالحفیظ شاکر صاحب کی گاڑی میں بازار کی طرف نکلے، دکھی صاحب نے گاڑی میں بیٹھتے ہی آہ بھری آواز میں یہ شعر کہا ”آج کا دن بھی خیر سے گزرا، سر تا پاؤں بدن سلامت ہے“ ۔

ہائر سیکنڈری سے ہوتے ہوئے کشروٹ تک بہت ساری ادبی باتیں ہوئی، ہمیں کہاں معلوم تھا کہ اس کے بعد دکھی صاحب سے ملاقات نہیں ہوگی ورنہ ان کو اس دن گھر جانے نہیں دیتے اور مزید ان سے سیکھتے، ان کی شاعری ان کی زبانی سنتے اور ڈھیر ساری باتیں کرتے۔ لیکن خیر یہ دنیا تو فانی ہے، اس نے کس سے وفا کی ہے جو دکھی سے کرتی۔ بس یہ درد ہمیشہ رہے گا کہ اب لوگوں محبت کا پیغام کون دے گا، کون حاکم وقت کو للکارے گا اور کون محکوموں کی محکومی اور مظلوموں کی مظلومی پر نوحے لکھے گا!

اللہ دکھی صاحب کی خوبصورت روح کو سکون دے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔ آمین

Facebook Comments HS