فن تحریر اور قلم کی طاقت


قلم ایک صاحب قلم کا طاقتور ہتھیار ہے، ایک لکھاری علم، تجربات، سوچ، جذبات، مشاہدات، احساسات، مہارت اور تخلیقی صلاحیت کے ذریعے اپنا پیغام قارئین تک پہنچاتا ہے۔ جس طرح مصوری کو تصویری زبان کہا جاتا ہے اسی طرح تحریر کو الفاظ کی زبان کہا جاتا ہے۔ کسی بھی تحریر کی خوبصورتی اور پرتاثیر ہونے کا انحصار الفاظ کے انتخاب اور ان کے استعمال پر ہوتا ہے۔

ایک اچھا قلمکار قارئین کے ذہنی معیار کو سامنے رکھتا ہے جن سے مخاطب ہونا مقصود ہو۔
معاشرے کی عکاسی، مسائل کی تشریح، بہتری کے لئے مشورے اور رہنمائی اس کی قابلیت کی پہچان ہیں۔
ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
ہر لکھنے والے پر کچھ اخلاقی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جن کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔

جب معاشرتی مسائل پر لکھا جائے تو ضروری ہے کہ تحریر سے کسی کی کردار کشی نہ ہو، حالات اور مسائل کو گمنام یا فرضی کرداروں کے ذریعے پیش کیا جاسکتا ہے تاکہ کسی کی دل آزاری نہ ہو۔ خیال رہے کہ سنجیدہ تحریروں کے ساتھ ساتھ مذاق ”کرنے“ اور ”اڑانے“ کا فرق پتا ہو اور ایک لکھاری ”مزاح“ سے پہلے اس کے مہذب استعمال سے بخوبی واقف ہو۔ غیر اخلاقی الفاظ سے مکمل پرہیز ضروری ہے۔

میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ ایک اچھے لکھاری کے پاس عمدہ تحریر کے لئے ”چار میم“ کا ہونا ضروری ہے۔ معلومات، موضوع، مشاہدہ اور محنت۔

معلومات کا ہونا علم کی وجہ سے ہے اور علم در اصل مطالعہ اور مشاہدہ کا مجموعہ ہے۔ مطالعہ کرنے سے نہ صرف علم بڑھتا ہے بلکہ الفاظ کا ذخیرہ بھی جو کسی تحریر کے لئے بہت ضروری ہے۔ مشاہدہ اور تجربہ جتنا زیادہ ہو گا تحریر اتنی ہی خوبصورت اور دل کو چھو لینے والی ہو گی۔

ایک معیاری تحریر کے لئے موضوع اور عنوان کی اہمیت پر اب بات کر لیتے ہیں۔ شاعری ہو یا نثر، مرکزی خیال اور عنوان ہمیشہ ایسے ہوں جو نہ صرف قارئین کی توجہ حاصل کریں بلکہ اصلاح معاشرہ کا بھی باعث ہوں۔ تحریر میں نکھار اور پختگی کے لئے محنت اور بار بار لکھنا ضروری ہے۔

یہ نہیں دیکھتے کتنی ہے ریاضت کس کی
لوگ آسان سمجھ لیتے ہیں آسانی کو

ایک جاننے والے لکھاری ہیں، میں نے ایک دفعہ انہیں مشورہ دیا کہ وہ اپنی اردو کی تحریروں میں انگریزی کے الفاظ کے استعمال سے احتیاط برتیں تاکہ تحریر کا حسن قائم رہے۔ البتہ کچھ مواقع ایسے ہوتے ہیں جب وہ الفاظ استعمال کرنے پڑتے ہیں جو انگریزی کے ہو کر بھی دونوں زبانوں میں عام ہیں۔ مثال کے طور پر لفظ ”انٹرویو“ کی جگہ اگر بات چیت، مذاکرہ، یا باہمی تبادلہ خیال جیسے الفاظ استعمال کیے جائیں تو قارئین کے لئے سمجھنا یقینی طور پر مشکل ہو سکتا ہے۔

انسانی جذبات ”نفسیات“ میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ احساسات اور جذبات کو الفاظ میں ڈھالنے سے اداسی اور مایوسی کی شدت میں کمی آجاتی ہے۔ جوش ملیح آبادی کا ایک شعر پیش خدمت ہے۔

ایک دن کہہ لیجیے جو کچھ ہے دل میں آپ کے
ایک دن سن لیجیے جو کچھ ہمارے دل میں ہے

جذبات کی شدت کو قابو میں کرنے کے لئے مسائل کو سمجھنا اور ان کا اظہار کرنا اہم ہوتا ہے خواہ یہ اظہار بول کر کیا جائے یا تحریر کی شکل میں۔ البتہ اخلاقیات کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔

میں چپ تھا تو چلتی ہوا رک گئی
زبان سب سمجھتے ہیں جذبات کی

ایک انسان کی خوش نصیبی ہے اگر وہ ان تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا گیا ہے جو ایک بہترین لکھاری کا خاصہ ہوتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنے اندر موجود صلاحیتوں کو پہچانیں، ان کا بہترین استعمال کرتے ہوئے معاشرے کی بھلائی کا سبب بنیں اور قلم کی طاقت سے معاشرتی مسائل کے ساتھ جنگ کو حق کے راستے پر چلتے ہوئے الفاظ کے اسلحے سے جیت کر دکھائیں

تیز سی تلوار سادہ سا قلم
بس یہی دو طاقتیں ہیں بیش و کم
ایک ہے جنگی شجاعت کا نشاں
ایک ہے علمی لیاقت کا نشاں

Facebook Comments HS