پشتون قومی جرگہ: کچھ سوالات کچھ امیدیں


جرگہ صدیوں پرانے پشتون ضابطہ حیات پشتون ولی کا ایک جز ہے۔ یہ عموماً قبائلی عمائدین اور سیاسی رہنماؤں کی ایک کونسل ہوتی ہے جو باہمی افہام و تفہیم سے ابھرتے ہوئے چیلنجوں کے ساتھ ساتھ اندرونی اور بیرونی تنازعات کا فیصلہ کرتی ہے۔ جرگہ کی تشکیل گاؤں کی سطح سے لے کر قومی سطح تک مختلف ہوتی ہے۔ تاریخی طور پر کچھ پشتون جرگوں جیسا کہ 21 جون 1947 کا بنوں جرگہ جس میں خان عبدالصمد خان اچکزئی، خان عبدالغفار خان اور مزاحمتی پشتون رہنما مرزا علی فقیر ایپی نے شرکت کی اور پشتونوں کے لیے ایک علیحدہ پشتون ریاست پشتونستان بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ امریکی حملے کے بعد کے افغانستان میں جرگوں کا انعقاد کیا گیا۔ اور افغانستان میں جاری تنازعہ کے پرامن حل کا مطالبہ کیا گیا۔ نے وسیع شہرت حاصل کی تھی۔

سینیٹر محمد عثمان خان کاکڑ کی شہادت کے بعد تجربہ کار سیاست دان، پشتون قوم پرست رہنما اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان نے بنوں میں پشتونوں کے مسائل پر بات چیت کے لئے پشتون قومی جرگہ بلانے کا اعلان کیا تھا جس کے انعقاد کی تاریخوں کا حال ہی میں اعلان کیا گیا ہے جو کہ 11 سے 13 مارچ 2022 تک بنوں میں منعقد ہو گا۔ کیا یہ جرگہ نتیجہ خیز ہو گا؟ کیا متنوع پشتون مذہبی اور سیاسی قیادت اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھیں گے؟ کیا پشتون معاشرے کے تمام اسٹیک ہولڈرز اس میں حصہ لیں گے؟

بلاشبہ پشتونوں کی موجودہ دگرگوں صورتحال میں جرگہ بلانا قابل ستائش فیصلہ ہے اگرچہ اسے برسوں پہلے بلایا جانا چاہیے تھا لیکن دیر آید درست آید۔ اس وقت پاکستان میں پشتون مصائب اور خونریزی کی شدید لپیٹ میں ہیں۔ پشتونوں کی سرزمین تشدد، خونریزی، بیگانگی اور سماجی اور سیاسی عدم توازن کا مرکز بن چکی ہے۔ ایسے وقت میں جب نہ کوئی سیاست دان، نہ کوئی عالم، نہ عام آدمی محفوظ ہے۔ اور جہاں سکول غیر محفوظ ہو چکے ہیں جہاں پشتون عوام کی معاشی حالت تباہ ہو چکی ہے، وہاں پشتون جرگہ کا انعقاد ایک قابل ستائش اقدام ہے۔

کیا تمام اسٹیک ہولڈرز اس میں حصہ لیں گے؟ اس کا جواب ابھی تک غیر یقینی ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ تمام قوم پرست قوتیں اور مذہبی جماعتیں بشمول جے یو آئی ف اور جمعیت اسلامی شریک ہوں گی، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا موجودہ بحران کی اہم اسٹیک ہولڈرز ٹی ٹی پی کی قیادت اس جرگے میں حصہ لے گی۔ یہ ابھی تک غیر واضح ہے۔ بہتر ہو گا کہ ٹی ٹی پی کے نمائندوں کو مدعو کیا جائے جو ان کے تحفظات ہیں ان کو سنا جائے۔ اگر ان کے خدشات درست ہیں تو جرگے کو توجہ دینا چاہیے اگر نہیں تو جرگہ کو ٹی ٹی پی کی مزاحمتی تحریک کی حقیقت عام پشتون کے سامنے لانا چاہیے۔

کیا تمام اسٹیک ہولڈرز مجموعی طور پر پشتون قوم کی بہتری کے لیے اپنے سیاسی اختلافات کو دور کرنے پر متفق ہوں گے؟ اختلاف رائے ایک نتیجہ خیز اور صحت مند معاشرے کی علامت رہا ہے۔ تمام پشتون مذہبی جماعتیں اور قوم پرست جماعتیں اپنے سیاسی موقف کے ساتھ ساتھ مختلف نظریات اور منشوروں میں بہت زیادہ اختلاف رکھتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ جرگہ میں بھی وہ ایک دوسرے سے اختلاف کریں گے۔ لیکن عقل سلیم کو غالب ہونا چاہیے کیونکہ پشتون بحیثیت قوم اپنی تاریخ کے بد ترین دور سے گزر رہے ہیں جس کا واحد اور قابل عمل حل پشتون قیادت کی سمجھداری میں ہے۔ کہ وہ کیسے قوم کو درپیش چیلنجز سے نکالتے ہیں۔

کیا جرگہ نتیجہ خیز ہو گا؟ ہو سکتا ہے اس کا فوری کوئی اثر نہ ہو اور یہ کہ شاید یہ جرگہ تشدد کی حساسیت کو فوری طور پر کم نہ کر سکے لیکن ایک بات یقینی ہے کہ اس جرگہ کے نتیجے میں پشتونوں میں بیداری پیدا ہو گی۔ اور یہ کہ، اگر جرگہ میں قیادت انتہا پسندی، دہشت گردی اور بنیاد پرستی کے خلاف متفقہ آواز اٹھاتی ہے۔ تو اس اجتماع کے پشتون بیلٹ میں سیکیورٹی کی صورتحال پر بہت زیادہ مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

دیر آید درست آید۔ محمود خان اچکزئی کی طرف سے پشتون جرگہ بلانا ایک قابل تعریف اقدام ہے۔ پشتون قیادت کے کندھوں پر اب بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوئی ہے کہ وہ کس طرح پشتونوں کی کشتی کو بھنور سے نکالتے ہیں۔

Facebook Comments HS