اقتدار کی ہوس
پچھلے چند روز سے چوہدریوں کا ڈیرہ ملکی سیاست کی مرکزی آماجگاہ اور سیاسی پنڈتوں کے لئے ایک مقدس مندر کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان سے لے کر بلاول بھٹو اس کا باپ زرداری، اور پھر شہباز شریف سے لے کر سپیکر اسمبلی اسد قیصر تک اور پھر آخر میں عمران خان اور پھر فضل الرحمان، یہ سارے سیاسی گرو یکے بعد دیگرے، چوہدریوں کے ڈیرے پر ماتھا ٹیکنے، ان کے چرن چھونے اور ان کا آشیر باد لینے کے لئے چکر کاٹ رہے ہیں۔
دراصل اپوزیشن کرپٹ چوہدریوں کے ساتھ مل کر کرپٹ اور نا اہل حکومت کا خاتمہ کر کے ایک قابل اور ایماندار حکومتی سیٹ اپ قائم کرنا چاہتی ہے۔
دوسری طرف حکمران جماعت کرپٹ چوہدریوں کے ساتھ مل کر کرپٹ اور نا اہل اپوزیشن کو شکست اور ایماندار اور قابل حکومت کو بچانا چاہتی ہے۔
پی پی پی، نون لیگ، پی ٹی آئی یا ان جیسی دیگر اقتدار کی شہوت زدہ جماعتوں کو اندھا دھند سپورٹ کرنے والی معصوم عوام سے بندہ ناچیز کی عاجزانہ درخواست ہے کہ یار کچھ ہوش کے ناخن لو! خدارا اندھی تقلید سے باہر نکلو اور کچھ تو سوچو؟ کیا یہ سب عوام اور ملک کے مفاد کے لئے ہو رہا ہے؟ یہ سب اقتدار کی ہوس کے بھوکے ہیں۔ ان سب کو قوم کے مستقبل، مسائل اور پریشانیوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ جیسے جوان لڑکی کے ننگے بدن پر ایک آوارہ اوباش نوجوان جھپٹا ہے یہ سب اقتدار کی ننگی کرسی کے لئے اس سے بھی کئی گنا زیادہ شہوت رکھتے ہیں۔
اقتدار کے لیے چوہدریوں کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہنے والا عمران خان اب چوہدریوں کو سب سے معزز اور بھائی کہنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ کرسی کی خاطر ایم کیو ایم والوں کو دہشت گرد اور بھتہ خور کہنے کی بجائے اب سب سے نفیس لوگ کہتا ہے۔ چوہدریوں کو قاتل لیگ اور ڈکٹیٹر لیگ کہنے والے زرداری اور بلاول اپنی حکومت بنانے کے لیے پرویز الٰہی کو ڈپٹی وزیراعظم کے عہدے پر براجمان کر دیتے ہیں۔ زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹنے کا نعرہ لگانے والا شہباز، زرداری کی پرتکلف دعوتیں اور خیر سگالی کے پیغامات بھجوا رہا ہے۔
اسلام اور دین کے نام پر سیاست کرنے والا، اور ملک کو منافق اور سیکولر سیاسی جماعتوں سے چھٹکارا دلانے کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے والا فضل الرحمان، آج اسی اقتدار کی ہوس میں تمام گناہ گار سیاسی جماعتوں کا مشترکہ سربراہ بنا بیٹھا ہے۔ مجھے بتاؤ یار کہ کون ہے ان میں جو قوم کے لیے یا دین کے لیے جد و جہد کر رہا ہے؟ کون ہے جو جھوٹا اور دھوکہ باز نہیں؟ کون ہے جو صادق اور امین کے معیار پر پورا اترتا ہے؟
یہ سوال آپ کے سوچنے کے لیے ہیں۔


