چور ایجنٹ اور غدار کے بعد اب جنسی الزامات


جمہوریت میں ہمیشہ مختلف سیاسی جماعتیں اور مختلف سیاسی لیڈر ایک دوسرے سے اختلاف کرتے ہیں۔ اور بسا اوقات یہ اختلاف شدید ہوتا ہے۔ ہر سیاسی جماعت کو اور خاص طور پر اس جماعت کو جو کہ اقتدار میں ہو، برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ یہ اختلاف رائے کسی سیاسی حریف کی طرف سے بھی ہو سکتا ہے اور کسی صحافی یا کسی لکھنے والے یا کسی عام آدمی کی طرف سے بھی ہو سکتا ہے۔ اگر ہر اختلاف اور ہر اظہار رائے پر مقدمہ چلا کر اسے دبانے کی کوشش کی جائے تو نہ تو آزادی رائے قائم رہ سکتی ہے اور نہ ہی جمہوریت اور پنپ سکتی ہے۔ بلا شبہ موجودہ حکومت کے دور میں بار بار اظہار کی آزادی پر پابندیاں لگائی گئیں اور ایسی قانون سازی کی گئی جس سے یہ آزادی متاثر ہوتی تھی۔

حال ہی میں ایک پروگرام میں جب محسن بیگ صاحب سے سوال کیا گیا کہ وزراء کی جو رینکنگ جاری کی گئی ہے اس میں مراد سعید صاحب پہلے نمبر پر ہیں تو اس کی کیا وجہ ہے۔ اس پر محسن بیگ صاحب نے کہا وہ ریحام خان کی کتاب میں لکھا ہوا ہے پتا نہیں کس لیے مطمئن ہوں گے ان سے۔ اکثر لوگ جانتے ہیں کہ ریحام خان صاحبہ کی کتاب میں ذو معنی اور با معنی جملوں کا سہارا لے کر مراد سعید صاحب اور عمران خان صاحب کے متعلق بغیر کسی ثبوت کے نہایت غلط قسم کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ اس کے بعد محسن بیگ صاحب کی گرفتاری پر ہونے والے ناخوشگوار واقعات پر بحث اور قانونی چارہ جوئی کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔

پاکستان میں سیاستدانوں پر ہر طرح کے الزامات لگانے کی ایک تاریخ ہے اور یہ کوئی تابناک تاریخ نہیں ہے۔ 1970 کی دہائی کے آغاز اور وسط میں سیاستدانوں نے بہت فراخدلی سے ایک دوسرے پر ہر طرح کے الزامات لگائے۔ اور اخبارات نے ان کو بہت نمایاں سرخیوں کے ساتھ شائع کیا۔ اور کئی صحافیوں نے بھی اس کھیل میں ایک فریق بن کر دل کھول کر حصہ لیا۔ اس کالم میں ہم تاریخ کے اس مرحلہ پر ہونے والی باہمی کردار کشی اور اس کے نتائج کا مختصر تجزیہ پیش کریں گے۔ ان سالوں میں بھٹو صاحب پاکستان کے مقبول ترین لیڈر تھے۔ اس لیے ان کی ذات سب سے زیادہ ان حملوں کا نشانہ بنی۔ لیکن دوسرے سیاستدان بھی اس سے محفوظ نہ رہے۔

پاکستان میں اگر کسی پر تنقید کرنی ہو تو اس کا آسان ترین طریقہ یہ ہے کہ اس پر بڑے سے بڑا الزام لگا دو۔ ثبوت یا دلیل کی ضرورت نہیں۔ جب 1970 میں جنرل یحییٰ خان صاحب کا دور صدارت گزر رہا تھا تو بہت سے صحافی بھی بوجوہ بھٹو صاحب کے خلاف میدان میں اترے۔ ان میں سے ایک نام شورش کاشمیری صاحب کا بھی تھا جو کہ رسالہ ”چٹان“ کے ایڈیٹر تھے۔ انہوں نے ایک جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے یہ الزام لگایا کہ بھٹو صاحب نے 1965 کی جنگ میں بھارت کے ایجنٹ کا کردار ادا کیا تھا اور اب وہ اس میں کامیابی کا کریڈٹ لے رہے ہیں۔

اور شورش صاحب نے اس تقریر میں جنرل یحیی ٰ صاحب کو مرد مجاہد ثابت کرنے کی کوشش بھی فرمائی اور کہا کہ اس جنگ میں جنرل یحییٰ، جنرل سرفراز اور جنرل عبد الحمید نے یہ کہا تھا کہ دشمن ہماری لاشوں پر سے گزر کر آگے بڑھے گا۔ [جسارت 8 جون 1970 ] گویا شورش صاحب کے نزدیک بھٹو صاحب بھارت کے ایجنٹ اور جنرل یحیی ٰ صاحب مرد مجاہد تھے۔ بہر حال ایک سال بعد جنرل یحیی ٰ خان صاحب کی صلاحیتوں کا اعتراف تو پوری دنیا نے کر لیا۔

جمیعت العلماء اسلام کے مفتی محمود صاحب نے بھی جنرل یحییٰ خان صاحب کی تعریف میں بیان داغا اور کہا کہ وہ جمہوریت کی بحالی کے لئے بہت مخلصانہ کوششیں کر رہے ہیں اور پیپلز پارٹی پر یہ الزام لگایا کہ وہ زمینداروں کو ٹکٹ دے رہی ہے۔ [مشرق 16 نومبر 1970 ]۔ ایک سال میں جنرل یحییٰ خان صاحب کی جمہوریت کی بحالی کے لئے کوششیں مزید نکھر کر سب کے سامنے آ گئیں۔ 1970 کی انتخابی مہم میں جماعت اسلامی کے امیر میاں طفیل محمد صاحب نے یہ بیان دیا کہ بھٹو صاحب پاک فوج میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان پر اس الزام میں مقدمہ چلنا چاہیے۔ [مشرق 17 مارچ 1970 ] اور اسی انتخابی مہم میں کونسل مسلم لیگ کے ایوب کھوڑو صاحب نے بھی بھٹو صاحب پر یہی الزام لگایا کہ وہ اسلامی نظریہ کی اساس کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور غیر ملکی ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ [نوائے وقت 26 نومبر 1970 ]۔

جب اگلے انتخابات سے قبل پیپلز پارٹی کی مخالف سیاسی جماعتوں نے مل کر قومی اتحاد قائم کیا تو پیپلز پارٹی والوں نے اسی طرز پر ان کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے اپنے سیاسی جلسوں میں یہ اعلان کیا کہ پاکستان قومی اتحاد کا سیاسی شجرہ بھارت سے ملتا ہے۔ [مساوات 20 فروری 1977 ]

اس وقت مختلف مذہبی سیاسی جماعتیں بھی میدان میں تھیں۔ اور وہ بھی ایک دوسرے کو اس قسم کے الزامات اور القابات سے نواز رہی تھیں۔ چنانچہ جمیعت العلماء اسلام ہزاروی گروپ کے صدر مولانا غلام غوث ہزاروی صاحب نے یہ یہ بیان دیا کہ مودودی صاحب سامراجیوں کے ایجنٹ ہیں۔ [مساوات 23 اگست 1970 ]۔ کچھ عرصہ بعد ہزاروی صاحب نے مفتی محمود صاحب پر یہ الزام لگایا کہ وہ غیر ملکی شہ پر مسلمانوں کو آپس میں لڑوا رہے ہیں۔ [مساوات 23 جنوری 1976 ] اور اسی جماعت کے ضیاء القاسمی صاحب نے نے ولی خان صاحب پر الزام لگایا کہ وہ پاکستان کے دشمنوں کے ساتھ مل کر پاکستان کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ [مساوات 1 دسمبر 1973 ]

پیپلز پارٹی کے بیان بازوں نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے اور یہ اعلان کیا کہ ولی خان صاحب کی جماعت پاکستان کو بھارت میں ضم کر کے اکھنڈ بھارت بنانے کی سازش کر رہی ہے۔ [مساوات 3 نومبر 1973 ] اور تو اور بھٹو صاحب نے ایبٹ آباد میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ولی خان صاحب کا ایک رشتہ دار آج بھی اندرا گاندھی کا ملازم ہے۔ [مساوات 8 فروری 1977 ] جب ولی خان صاحب پر یہ الزام لگا تو انہوں یہی الزام اکبر بگٹی صاحب پر لگا دیا اور بیان دیا کہ پاکستان توڑنے کی سازشیں ہم نے نہیں بلکہ اکبر بگٹی صاحب کرتے رہتے ہیں۔ [نوائے وقت 16 مئی 1973 ]

اسی طرح سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد یہ تمام سیاستدانوں کا محبوب مشغلہ تھا کہ اپنے حریف پر الزام لگا دو کہ پاکستان اس کی وجہ سے ٹوٹا ہے۔ پیپلز پارٹی کی لیڈر خورشید حسن میر صاحب نے دائیں بازو کی جماعتوں کو ملک توڑنے کا ذمہ دار قرار دیا۔ [مساوات 24 ستمبر 1973 ]۔ جب 1988 میں پیپلز پارٹی کی مخالف جماعتوں نے اسلامی جمہوری اتحاد قائم کیا تو اس اتحاد نے اخبارات میں بڑے بڑے اشتہارات شائع کیے ۔ ان اشتہارات میں پیپلز پارٹی کو پاکستان توڑنے والی جماعت قرار دیا گیا تھا۔ [جنگ 5 نومبر 1988 ]

یہ صرف اختصار سے چند مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ ان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خاص طور پر 1970 کی دہائی میں یہ سیاستدانوں کا محبوب مشغلہ تھا کہ وہ ایک دوسرے کو ایجنٹ، پاکستان توڑنے والا، اور ملک کو تباہ کرنے والا قرار دیں۔ اگر ان بیانات پر مجموعی نظر ڈالی جائے تو ملک میں کوئی محب وطن سیاستدان نہیں بچتا۔ اس دور میں یہ قائدین جنرل یحییٰ صاحب کی مدح سرائی تو کر سکتے تھے لیکن ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک روز جنرل ضیاء صاحب ایک پیر تسمہ پا کی طرح ملک پر سوار ہو گئے۔

اسی طرح آج کل بھی ایک دوسرے کے خلاف سیاسی بیان بازی عروج پر ہے۔ اور حال میں ہی ہونے والے واقعات کی بنیاد پر یہ خدشہ ہے کہ ایک دوسرے کو چور، غدار اور ایجنٹ قرار دینے کی علاوہ اب ایک دوسرے پر جنسی قسم کے الزامات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ بھی شروع ہو سکتا ہے۔ مناسب ہو گا کہ اختلافات کے اظہار کو ایک دائرے تک محدود رکھا جائے۔ اگر کوئی آپ کا سیاسی حریف ہے تو ضروری نہیں کہ اس کو ایجنٹ اور ملک دشمن ہی قرار دیں۔ اس سے صرف اصولی اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے۔ اور اگر جنسی الزامات کی حوصلہ افزائی کی گئی تو کوئی بھی اس کیچڑ سے محفوظ نہیں رہے گا۔ بہتر ہے کہ اس قسم کی گندا دہنی کی ہر طرح حوصلہ شکنی کی جائے اور پورے زور سے کی جائے۔

Facebook Comments HS