مدارس اور عطیات: ایک فتوے کی ضرورت ہے
ایک مسلمان اللہ تعالیٰ کی خوشنودی، اپنی زندگی میں سکون، خیر و برکت اور آخرت میں جنت کے حصول کے لئے اپنی طاقت کے مطابق کچھ نہ کچھ کرتا رہتا ہے، جس کے لئے وہ عبادات، خیرات، صدقات اور زکوۃ وغیرہ کرنے میں زندگی بھر مشغول رہتا ہے، خدمت خلق اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں میں ہمارا نمبر پہلے پانچ ملکوں میں آتا ہے، اور ایک عمومی اندازے کے مطابق پاکستانی قوم ہر سال تقریباٌ چھ سو ارب روپے زکوۃ، خیرات اور صدقات کی شکل میں خرچ کرتی ہے۔
اب بات اگر ایسے ثواب کے عوامل کی ہو کہ جس میں پیسے کی لین دین کا کوئی سلسلہ نہیں ہے تو اس قسم کے معاملات میں انسان کا ڈائریکٹ معاملہ اللہ سے ہے، جیسے کے نماز، روزہ، یا حج وغیرہ، یہ عمل وہ ہیں کہ جنہیں چاہے تووہ معاف بھی کر سکتا ہے۔ اور نہ چاہے تو نہ کرے، یہ سب معاملہ اس کی مرضی پر منحصر کرتا ہے۔ یوں تو اور سب معاملات میں بھی قبول کرنا یا نہ کرنا، معاف کرنا یا نہ کرنا سب اسی کے ہاتھ میں ہے، لیکن کچھ کام کرتے وقت ذہن میں ایک سوال ابھرتا ہے، اور وہ سوال ایسے ثواب کے عوامل کرنے کے متعلق ہے کہ جس میں ہم پیسے خرچ کر رہے ہوتے ہیں یا پیسے دے رہے ہوتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا کسی شخص، ادارے یا پھر مدرسے وغیرہ کو زکوۃ، خیرات یا صدقات وغیرہ دیتے وقت ہمیں صرف اور صرف اپنی نیت دیکھنی چاہیے، یا پھر ہمیں یہ دیکھنے سوچنے اور پرکھنے کی بھی ضرورت ہے کہ جو رقم ہم کسی کو دے رہے ہیں وہ ٹھیک جگہ خرچ ہوگی بھی یا نہیں؟ یا پھر کہیں وہ رقم کسی ایسے عمل میں استعمال تو نہیں ہو رہی کہ جس سے ملک مذہب یا پھر انسانیت کو خطرہ ہو۔ اور آج اسی سوال کے حوالے سے مجھے ایک فتوے کی ضرورت ہے۔
مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے کچھ اسلامی ممالک اپنے اپنے نظریے اور فرقے کو سپورٹ کرنے کے لئے بے شمار رقم مدارس اور اپنی اپنی دینی درسگاہوں کی سرپرستی کے نام پر پاکستان بھیجتے ہیں، اور اس کا مجموعی طور پر نتیجہ پاکستان میں ایک فرقہ ورانہ آگ کو بھڑکانے کی صورت میں نکلتا آیا ہے، پیسے اور طاقت کی پیٹھ ہونے کی وجہ سے یہ کافر اور وہ کافر کے فتوے پاکستان میں پانی کی طرح بہتے نظر آتے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں اس ملک میں جو کچھ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے اور جو کچھ ہو رہا ہے، وہ آپ بھی اچھے طریقے سے جانتے ہیں اور میں بھی۔
حقیقت یہ ہے کہ اس سارے معاملے نے نہ جانے کتنے سالوں سے ہمیں بحیثیت ایک انسان، بحیثیت ایک مسلمان، اور بحیثیت ایک پاکستانی کہیں کا نہیں چھوڑا، اور آخرکار پوزیشن یہ ہے کہ پاکستان کا شمار ایک ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود پسماندہ، شدت پسند اور خطرناک ملکوں میں ہوتا ہے۔
میرے کہنے کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ زکوۃ، خیرات اور صدقات وغیرہ دینا کوئی غلط عمل ہے، بلکہ بحیثیت ایک اچھے انسان اور ایک اچھے مسلمان کے یہ سب کرتے رہنا ہمارا فرض ہے، اور میرا خیال ہے کہ یہی وہ عمل ہیں جو ریزہ ریزہ جمع ہو کر ہمیں جہنم کی آگ سے بچانے کا کچھ نہ کچھ باعث ضرور بنیں گے، انشااللہ۔
مجھے صرف اس سارے معاملے میں اپنے سوال کے جواب میں ایک فتوے کی ضرورت ہے، اور وہ سوال یہ ہے کہ کیا کسی شخص، ادارے یا پھر مدرسے وغیرہ کو زکوۃ، خیرات یا صدقات وغیرہ دیتے وقت ہمیں صرف اپنی نیت دیکھنی چاہیے یا پھر ہمیں یہ دیکھنے سوچنے اور پرکھنے کی بھی ضرورت ہے کہ جو رقم ہم کسی کو دے رہے ہیں وہ ٹھیک جگہ خرچ ہوگی بھی یا نہیں؟ یا پھر کہیں وہ رقم کسی ایسے عمل میں استعمال تو نہیں ہو رہی کہ جس سے ملک مذہب یا پھر انسانیت کو خطرہ ہو۔


