قوم سے خطاب
قوم بھوک سے مرتی رہی، قوم سے خطاب نہیں کیا، کسان کا استحصال ہوتا رہا، قوم سے خطاب نہیں کیا، لوگ آٹے کی ایک تھیلی کے لئے گھنٹوں قطاروں میں دھکے کھاتے رہے، آپ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی، چینی عوام کی پہنچ سے دور ہو گئی، آپ ڈھیٹ بن کر سوئے رہے، مہنگائی آسمان کو چھونے لگی، آپ نے قوم سے خطاب نہیں کیا، عوام پر بجلی، گیس، پیٹرول کے بم گرتے رہے، آپ کو کوئی پرواہ نہ ہوئی، ریلوے، پی آئی اے، سٹیل مل تباہ ہو گئیں، قوم سے خطاب نہیں کیا، اساتذہ پر سرعام آنسو گیس، لاٹھیاں اور جوتے تک برسائے گئے، قوم سے خطاب نہیں کیا، ختم نبوت پر سترہ بار ڈاکا ڈالا گیا، آپ نے قوم سے خطاب ضروری نہیں سمجھا، پبلک سروس کمیشن کے پیپرز آؤٹ ہوئے، قوم سے خطاب نہیں کیا، عسکری غنڈوں نے سویلین ادارے کے سربراہ کو اغواء کیا، قوم سے خطاب نہیں کیا، جی ڈی پی مائنس ہو گئی، قوم سے خطاب نہیں کیا، ملک کرپشن کے اعلیٰ ترین درجے پر پہنچ چکا، قوم سے خطاب نہیں کیا، بھارت نے کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کر دی، ایک سال کرفیو نافذ کیے رکھا، قوم سے خطاب نہیں کیا، قوم کی بیٹیاں لٹتی رہیں، آپ نے قوم سے خطاب نہیں کیا، پولیس گردی کے درجنوں واقعات رونما ہوئے، آپ نے پھر بھی قوم سے خطاب نہیں کیا، کراچی ڈوبتا رہا، قوم سے خطاب نہیں کیا، لاہور دنیا کا گندا ترین شہر بن گیا، آپ نے قوم سے خطاب نہیں کیا، کسان سے زبردستی سولہ سو روپے من خریدی ہوئی گندم، پورا سال بازار میں چھبیس سو روپے من فروخت ہوتی رہی، آپ نے قوم سے خطاب نہیں کیا، مزدور کے بچے فاقوں سے مرتے رہے، قوم سے خطاب نہیں کیا، لاکھوں لوگ بیروز گار ہو گئے، قوم سے خطاب نہیں کیا، اوورسیز پاکستانی رلتے رہے، آپ نے کوئی دلجوئی نہ کی، تاجر کا کاروبار ٹھپ ہو گیا، آپ نے قوم سے خطاب نہیں کیا،
الغرض، قوم سسکتی رہی، تڑپتی رہی، مرتی رہی، پر آپ نے کوئی پرواہ نہ کی، اور اب جب آپ کی کارکردگی اور بیڈ گورننس سے تنگ آ کر آپ کے اپنے ہی لائے ہوئے ایمپائرز اور آپ کی اپنی ہی پارٹی کے لوگوں نے اجتماعی طور پر آپ کو ریجیکٹ کر دیا ہے، آپ کے اپنے ہی اتحادیوں نے آپ کو ذلیل کروایا ہے تو اب آپ قوم سے خطاب کر رہے ہو؟ ٹسوے بہا رہے ہیں؟ معاشی اور انڈسٹریل پیکیج دے رہے ہیں؟ پیٹرول کی قیمتوں میں اچانک کمی کا اعلان کر رہے ہیں؟ شرم کریں محترم وزیراعظم صاحب۔ شرم سے ڈوب مریں!
اور اگر آپ شرم نہیں کرتے، تو پھر جو چاہیں کریں!


