اتحادی جماعتوں کی سیاست اور چوہدری برادران
ایسی حکومت جو بنیادی طور پر اتحادی جماعتوں کی بنیاد پر کھڑی ہو یا اس کی عددی برتری کا براہ راست تعلق اتحادی جماعتوں کے ووٹوں پر ہو تو اسے یقینی طور پر سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کیونکہ اتحادی جماعتوں کو بھی اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی حمایت ہی کی وجہ سے حکومت کا اقتدار موجود ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ عمومی طور پر پارلیمانی جمہوری سیاست میں حکومت اور اتحادی جماعتوں کی سیاست میں کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر اقتدار کے کھیل کی آنکھ مچولی چلتی رہتی ہے۔
اتحادی جماعتیں بھی وقتاً فوقتاً مختلف حکومت مخالف بیانات یا حکومتی حمایت کے برعکس ایسے بیانات دیتی رہتی ہیں جو خود حکومت کے لیے بھی مشکلات پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ اس وقت کیونکہ سیاست کی سیاسی ہلچل میں ”تحریک اعتماد“ کو بنیاد بنا کر ایک بڑی سیاسی تبدیلی کے ایجنڈے کو فوقیت دی جا رہی ہے۔ حزب اختلاف کے دونوں سیاسی دھڑے جس میں پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی شامل ہیں کہ بقول ان کا لانگ مارچ اور تحریک عدم اعتماد عمران خان کی حکومت کے خاتمہ میں اہم کردار ادا کرنے کا سبب بنے گی۔
اس وقت حکومتی اتحادی جماعتیں جن میں مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم اور بلوچستان عوامی پارٹی سمیت سندھ ڈیموکریٹک الائنس عملاً حکومت کی حمایت میں کھڑی ہیں۔ لیکن حزب اختلاف کی کوشش ہے کہ وہ اتحادی جماعتوں میں حکومتی حمایت کے مقابلے میں سیاسی شگاف ڈال کر ان کو اپنی حمایت پر مجبور کریں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس وقت اتحادی جماعتوں کی حکومت اور حزب اختلاف دونوں کی طرف سے سیاسی آؤ بھگت ہو رہی ہے۔ مسلم لیگ ق حکومت کی اہم اتحادی جماعت ہے اور پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت بننے اور اس کے قائم رہنے میں مسلم لیگ ق اور چوہدری برادران کا بڑا کردار ہے۔ کافی عرصہ سے یہ خبریں عام تھیں کہ مسلم لیگ ق حکومت کے درمیان بداعتمادی کا ماحول عملاً غالب نظر آتا ہے۔ اس کی ایک وجہ مسلم لیگ ق کے بعض راہنماؤں کے حکومت مخالف بیانات سمیت چوہدری برادران اور حزب اختلاف کے درمیان باہمی رابطوں کی کہانی تھی۔
مسلم لیگ ق اور حکومت کے درمیان حکومت بننے سے لے کر اب کئی مواقع ایسے آئے جس میں لگتا تھا کہ چوہدری برادران حکومت سے عملی طور پر نالاں نظر آتے ہیں۔ لیکن چوہدری برادران کو یہ داد دینی ہوگی کہ انہوں نے اپنے تمام تر اختلافات یا حکومتی حلقوں کی جانب سے نظر انداز کرنے کی پالیسی کے باوجود ہر اس محاذ پر حکومت کی حمایت کی جہاں حکومت کو اس کی ضرورت تھی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ تمام تر اختلافات کے باوجود مسلم لیگ ق کے پاس حکومتی حمایت کے علاوہ کوئی اور سیاسی آپشن موجود نہیں تھا۔
لیکن حزب اختلاف کی سیاست کی گرم جوشی اور حکومتی مخالف میں پیش پیش نے یقینی طور پر اتحادی جماعتوں بشمول مسلم لیگ ق کی اہمیت بڑھا دی۔ یہ تجویز بھی پیپلز پارٹی اور فضل الرحمن کی طرف سے سامنے آئی کہ پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمہ میں چوہدری پرویز الہی کو وزیر اعلی پنجاب کے طور پر بھی قبول کیا جاسکتا ہے۔ خود مسلم لیگ نون کے راہنما رانا ثنا اللہ کے بقول عمران خان کی حکومت کے خاتمہ میں چوہدری پرویز الہی کو بطور وزیر اعلی قبول کیا جاسکتا ہے۔ لیکن رانا ثنا اللہ کے علاوہ بہت سے مسلم لیگ نون کے لوگوں نے رانا ثنا اللہ کی حمایت سے انکار کیا اور ان کے بقول ایسی کوئی تجویز پارٹی میں زیر غور نہیں۔
مسلم لیگ ق بنیادی طور پر ایک اچھی اتحادی جماعت ہے۔ وہ سیاسی جماعتوں اور سیاسی مخالفین کے ساتھ مل کر کام کرنے کی اچھی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ ان کے سیاسی عزائم میں بہت زیادہ مہم جوئی نہیں ہوتی بلکہ وہ اقتدار کی تقسیم پر بھی یقین رکھتی ہے اور کوشش کرتی ہے کہ عملی طور پر سیاست کو بند دروازے کی طرف نہ لے جایا جائے۔ تحریک انصاف کے ساتھ بھی اس کا بنیادی جھگڑا ان کو حکومت سازی میں ہونے والے فیصلہ سازی میں شامل نہ کرنا تھا۔
مسلم لیگ ق محسوس کرتی تھی کہ خود وزیر اعظم بھی لاہور آمد پر ان سے ملنے سے گریز کرتے تھے اور ان کی رائے کو بہت زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی تھی۔ لیکن وزیر اعظم عمران خان پر جب حزب اختلاف کا سیاسی دباؤ بڑھا اور تحریک عدم اعتماد کی سیاست کا کھیل غالب ہوا تو وزیر اعظم کو بھی اپنی سیاسی حکمت عملی میں تبدیلی کرنا پڑی۔ وزیر اعظم عمران خان اور چوہدری برادران میں ہونے والی لاہور میں حالیہ ملاقات نے یقینی طور پر چوہدریوں اور وزیر اعظم دونوں کے ایک دوسرے کے بارے میں اعتماد کو بحال کیا ہو گا۔
یہ ہی وجہ ہے کہ چوہدری برادران نے واضح طور پر کہا ہے کہ اس مشکل وقت میں بھی ہم حکومت کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں اور اس بارے میں کوئی ٹکراؤ یا تضاد نہیں۔
یقینی طور پر وزیر اعظم عمران خان اور چوہدری برادران کی لاہور میں ہونے والی ملاقات اور اس کے نتیجے میں سامنے آنے والے بیانات نے حزب اختلاف کی سیاسی پریشانی میں اضافہ کیا ہو گا۔ اصولی طور پر چوہدری برادران سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے پنجاب میں اپنی سیاسی قوت کو بڑھانا ہے تو ان کے پاس تحریک انصاف کے علاوہ کوئی اور بڑی سیاسی چوائس نہیں۔ چوہدری برادران جانتے ہیں کہ پنجاب کی بڑی سیاسی طاقت مسلم لیگ نون اول تو ان کو کبھی بھی تسلیم نہیں کرے گی اور نہ ہی وہ ان کو کسی بڑے کردار میں دیکھنا چاہتی ہے۔
یہ ہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ ق خود کو مسلم لیگ نون میں ضم کرنے کے لیے بھی تیار نہیں اور اپنی علیحدہ سیاسی شناخت کو ہی آگے لے کر چلنا چاہتی ہے۔ مسلم لیگ ق کو اچھی طرح اندازہ ہے کہ حالیہ دنوں میں مسلم لیگ نون کی محبت ان کے بارے میں جاگنے کی واحد وجہ عمران خان دشمنی ہے اور وقت گزرنے پر مسلم لیگ نون کی سیاست ان کے بارے میں وہی ہوگی جو ماضی میں رہی ہے۔
مسلم لیگ ق کے سامنے ایک بڑا ہد ف پنجاب کے مقامی حکومتوں کے انتخابات اور بعد میں 2023 کے عام انتخابات ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اگر تحریک انصاف کے ساتھ ان کے سیاسی معاملات اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ بہتر انداز میں ہوئی تو اس کا سیاسی فائدہ ان کی اپنی جماعت کو بھی ہو گا۔ پیپلز پارٹی کے ساتھ اگرچہ مسلم لیگ ق کے تعلقات بہتر ہیں مگر وہ جانتے ہیں کہ پنجاب کی سیاسی حقیقت مسلم لیگ نون اور پی ٹی آئی ہی ہیں۔ اس لیے چوہدری برادران کو پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد ہی فائدہ مند لگتا ہے۔
خود تحریک انصاف کو بھی سمجھنا ہو گا کہ اگر وہ واقعی مسلم لیگ ق کے ساتھ مل کر چلنا چاہتے ہیں تو ان کو اپنے موجودہ طرز عمل پر بھی نظرثانی کرنی چاہیے۔ مسلم لیگ ق کی قیادت کو ساتھ لے کر چلنا اور اہم فیصلہ سازی میں ان کی مشاورت کو یقینی بنا کر ہی دو طرفہ اتحاد آگے بڑھ سکتا ہے۔ پہلا سیاسی معرکہ متوقع مئی میں مقامی حکومتوں کے انتخابات ہیں اور ان انتخابات میں اگر دونوں جماعتیں ایک دوسرے کی مدد کے ساتھ آگے بڑھیں تو زیادہ بہتر نتائج مل سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی کو یہ سمجھنا ہو گا کہ پنجاب کی دیہی سیاست میں مسلم لیگ ق اپنی بہتر سیاسی پوزیشن رکھتی ہے اور دونوں مل کر شہری اور دیہی سیاست میں براہ راست ہونے والے مضبوط سیاسی امیدواروں کو میدان میں اتار سکتی ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے موجودہ سیاسی دباؤ میں اتحادی جماعتوں اور بالخصوص مسلم لیگ ق کے ساتھ جو پر جوشیت دکھائی ہے اس حکمت عملی کو محض وقتی طور پر یا بحران کے تناظر میں نہیں لینا چاہیے۔ یہ حکمت عملی مستقل بنیادوں پر اختیار کی جانی چاہیے اور دیگر اتحادی جماعتوں کو بھی جو تحفظات ہیں ان کو دور کر کے 2023 کے انتخابات میں حکومتی جماعت کو نئی سیاسی صف بندی کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ اسی طرح اتحادی جماعتوں اور مسلم لیگ ق کو بھی اس تاثر کی نفی کرنی چاہیے کہ مشکل وقت میں وہ حکومت پر دباؤ ڈال کر اپنی قد بڑھانا چاہتی ہے یا اپنی سیاسی ڈیمانڈ رکھ کر حکومت کو مشکل میں ڈالتی ہے۔
تحریک انصاف کا یہ گلہ بھی کافی حد تک بجا ہے کہ اتحادی جماعتیں اچھے کاموں میں تو حکومت کے ساتھ ہوتی ہیں لیکن حکومت کی مشکل میں اپنا کردار کو علیحدہ کر کے دیکھ کر سارا بوجھ حکومت پر ڈالتی ہے۔ اس لیے مستقبل میں اگر دونوں جماعتوں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ق نے مل کر آگے بڑھنا ہے تو دونوں اطراف سے جو بھی بداعتمادی ہے اسے ختم کر کے مضبوط تعلقات کی بنیاد پر سیاسی معاملات، اتحاد اور تعلقات کو آگے بڑھانا چاہیے اور اسی میں دونوں جماعتوں کا سیاسی مفاد ایک دوسرے سے وابستہ ہے۔


