علم اور احساس

معاشرے میں اردگرد اخلاقی پستی کو دیکھ کر انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے اور ہم لوگ کیوں دن بہ دن پستیوں کی جانب رواں دواں ہیں۔ ہر کسی کو بس اپنی فکر لاحق ہے اور وہ خود غرض ہو کر دوسروں کا استحصال کیے چلا جا رہا ہے۔ ایسے ہی سوچتے سوچتے کچھ دن پہلے میں نے ایک پوسٹ لگائی:
”علم اگر احساس کا راستہ نہ بنے تو اس کا مقصد ادھورا ہے۔“
جس کے جواب میں رانا محمد منیر صاحب (انگلش لیکچرار) نے لکھا کہ آپ نے objectivity کو مشکل میں ڈال دیا ہے کیونکہ میرا خیال ہے کہ جب تک ہم تعین نہ کر لیں کہ ہم کس احساس کی بات کرنا چاہ رہے ہیں تب تک علم کو یوں عمومی طور پر بیان کرنا مناسب نہیں۔ اپنی صحت کا احساس، اپنے خاندان کا احساس، اپنے کسی مخصوص مشن کا احساس، عزت کا احساس، اپنے مذہب اور خدا کا احساس، انسانیت کا احساس، تمام جانداروں کا احساس، اس سیارے کا احساس۔ الغرض تمام مثبت احساسات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تو ہیں لیکن ایک نہیں ہیں۔ یہ سب مختلف ہیں۔ علم مجموعی طور پر کسی مخصوص احساس کی طرف اشارہ نہیں کرتا اور ٹرم ”احساس“ بحیثیت مجموعی کنفیوزنگ ہے لہٰذا ہمیں طے کرنا ہو گا کہ کس چیز کا احساس؟
احساس تو کئی طرح کے ہیں مثلاً اب اگر ہم objectivity کی بات کریں تو وہ ہے صرف اور صرف بے رحم منطقی دلیل۔ یعنی آبجیکٹیوٹی مکمل طور پر dispassionate ہو کر رائے قائم کرنے کا نام ہے۔ لہٰذا مجموعی طور پر علم سے جس راستے کا تقاضا کیا جا سکتا ہے وہ آبجیکٹیو اپروچ ہے۔ اور مکمل طور پر غیر جذباتی آبجیکٹیو اپروچ کئی احساسات کا قتل کرتی ہے۔ اگر ہم کسی مخصوص احساس کی بات کریں تو ہمیں کسی مخصوص علم کا ہی حوالہ دینا چاہیے نہ کہ مجموعی طور پر علم کا۔
لب لباب یہ کہ احساس کی سمت جذبات کی طرف ہے جبکہ علم کی سمت جذبات کے مخالف۔ سو دونوں کا combination فطری نہیں لگتا۔ علم اور آبجیکٹیوٹی کا combination فطری ہے۔ احساس کے لیے علم نہیں چاہیے نہ علم احساس دیتا ہے۔ اگر ہم یہ مان لیں کہ علم احساس کے بغیر بے سود ہے تو آبجیکٹوٹی مشکل میں پڑ جائے گی کیونکہ یہ ”احساس“ کی مختلف معنوی شیڈز ہیں۔ ڈکشنری مرتب کرنے کی بنیاد اسی علم پر ہے ؛ اس علم کو ہم علم المعانی کہتے ہیں۔
آج کل یہ علم لسانیات کا حصہ ہے لیکن پہلے پہل یہ فلسفہ کا حصہ تھا۔ ہر لفظ کی ایک extent یا حد ہوتی ہے یعنی اس کے معنی کے تمام شیڈز کا مجموعہ۔ آپ کی نظر سے گزرا ہو گا کہ ڈکشنری میں ایک لفظ کے جو معانی دیے ہوتے ہیں ان کی نمبرنگ اور سب۔ نمبرنگ ہوئی ہوتی ہے۔ ڈکشنری میں لفظ کے نیچے دیے گئے تمام نمبرز اس لفظ کے وہ معانی بتاتے ہیں جن کی نوع آپس میں مختلف ہوتی ہے جبکہ ہر ایک نمبر کے نیچے دیے سب۔ نمبرنگ والے معانی وہ ہوتے ہیں جو ایک ہی نوع سے تعلق رکھتے ہیں۔
یہ سب اس لفظ کی معنوی شیڈز ہیں اور اس لفظ کا استعمال عموماً ان معنوں کے علاوہ کسی اور معنی میں رائج نہیں ہوتا۔ میں نے بھی ڈکشنری میں سے ”احساس“ کی حد آپ کے سامنے رکھی ہے۔ لفظ ”احساس“ کا استعمال اس حد سے باہر نہیں ہوتا۔ چنانچہ ماہرین لسانیات اور بالخصوص semantics اور pragmatics والے لوگ معانی کی حدود سے تھوڑا بہت واقف ہوتے ہیں اس لیے ان کا جنرل سٹیٹمنٹس کے ساتھ متفق ہونا کافی مشکل ہوتا ہے کیونکہ اکثر جنرل سٹیٹمنٹس میں واقعی معنوی نقائص ہوتے ہیں۔
ریسرچ کی زبان میں انہی کو sweeping statements کہا جاتا ہے جن کی کسی طور بھی تحقیق میں اجازت نہیں ہوتی۔ ترقی یافتہ اقوام میں سوچنے کا یہ عمومی انداز ہے اور غالباً اسی وجہ سے ان کے ہاں افکار ایک اکائی کی صورت میں منطقی طور پر مربوط ہیں اور بحیثیت قوم ان کی سمت بھی عام طور پر یکساں نظر آتی ہے، بکھری ہوئی نہیں۔ عمومی پن (generalizations) کی بجائے تخصیص (preciseness) پر چلنا چاہیے۔
آپ کی یہ پوسٹ بہت عمدہ اور convincing معلوم ہوتی ہے مگر جب ہم ”احساس“ کے رائج چار معانی پر نظر ڈالتے ہیں اور یہ سوچتے ہیں کہ ان چار میں سے کون سے والا ”احساس“ علم سے پیدا ہوتا ہے تو اس کا جواب ملنا مشکل ہے۔ ریاضی، فزکس، کیمسٹری، بائیو، نفسیات، اکنامکس، اکاؤنٹس، قانون، ہسٹری، فلسفہ وغیرہ سب آپ کو مخصوص نوعیت کے علم و معلومات دیتے ہیں۔ بصیرت دیتے ہیں لیکن کسی بھی معنی میں احساس نہیں دیتے۔ اور اگر ان مضامین سے انفرادی سطح پر کوئی احساس بطور by product جنم بھی لیتا ہے تو یہ علم کا یونیورسل اور لازمی جزو نہیں ہے بلکہ پرسن ٹو پرسن چینج ہونے والا ایک ذاتی تجربہ ہے۔
تمام علوم آپ کو اصول دیتے ہیں اور وہ اصول آپ سے آبجیکٹیو اطلاق مانگتے ہیں۔ علم کا یونیورسل فنکشن بس اتنا ہے۔ اس سے آگے علم سے ہم کیا چاہتے ہیں یہ ہر فرد کے ذاتی و مقامی contexts پر منحصر ہے۔ لہٰذا احساس کی کوئی بھی شیڈ نالج سے نہیں آتی۔ ایک ایک سبجیکٹ پر غور کر کے دیکھ لیں۔ آرٹس ہوں یا سائنسز، علم ہمیں مخصوص شعبوں کے اصول اور skill۔ set سے روشناس کراتا ہے بس۔ ہاں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ”احساس“ کا براہ راست تعلق محض چند ایک مضامین سے جزوی طور پر ہو سکتا ہے مثلاً اخلاقیات، طب، سوشل ورک وغیرہ۔
سو احساس جگانا یا اخلاقی تربیت کرنا علم کی کچھ مخصوص برانچز کا مقصد تو ہو سکتا ہے لیکن مجموعی طور پر علم کا ایجنڈا نہیں ہے۔ جو علم کسی مخصوص احساس، یا جذباتی یا اخلاقی پیکج کے فروغ کے لیے استعمال ہوتا ہے اسے اصطلاحاً پراپیگنڈا کہتے ہیں۔ علم اپنی ہستی میں غیر جانبدار اور آبجیکٹیو ہے۔ میں خالصتاً اکیڈمک نقطۂ نظر سے بات کر رہا ہوں، جنرل نہیں۔ ”احساس“ علم کی پراڈکٹ نہیں بلکہ کنزیومر ہے۔
یہ سب پڑھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ ہمارے ہاں جب لوگ علم حاصل کرنے کے بعد اپنی عملی زندگی میں آ جاتے ہیں اور اس علم کا موثر اطلاق نہیں کرتے، اپنے فرائض درست طریقے سے نہیں نبھاتے تو پھر ایک خلا پیدا ہو جاتا ہے جس کو پر کرنے کے لئے ہم احساس کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک شخص کو ٹریفک قوانین کا علم ہے۔ اگر وہ ان کی پابندی کرے تو ہمارے اندر یہ سوچ پیدا ہی نہیں ہوگی کہ اس شخص نے کس بے دردی سے سامنے والے کو ٹکر مار دی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مہذب دنیا کے بارے میں ایک عمومی تاثر ہے کہ وہاں سب لوگ اپنا اپنا کام کرتے ہیں۔ کم سے کم مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دنیا انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
سوشل میڈیا پر آپ کے ساتھ اچھے لوگوں کا ہونا بہت ضروری ہے۔ ہو سکتا ہے میری یہ رائے بھی کسی صاحب علم کو سویپنگ سٹیٹمنٹ ہی لگے یا پھر تشریح طلب مگر میں اتنا ضرور کہوں گی کہ میری عمر کے لوگوں کے لئے یہ ایک درسگاہ ہے اور آپ کا انتخاب اس سلسلے میں بڑا اہم ہے۔ وہ لوگ جن کا مزاج سیکھنے سکھانے والا ہے، علم کی دنیا سے ہیں تو ایسے لوگ آپ کی راہنمائی کرتے ہیں۔ آپ ان کی پوسٹس سے کچھ نہ کچھ سیکھ رہے ہوتے ہیں۔ آخر میں ایک بار پھر میں رانا محمد منیر صاحب کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ آرٹیکل کا بیشتر حصہ انہی کے خیالات پر مبنی ہے۔ انہوں نے وقت نکال کر میری راہنمائی کی اور ایک منطقی بحث کو ممکن بنایا۔
