چیکو کی افادیت (Benefits of sapadilla)

چیکو کا نباتاتی نام (Manilkara zapota) ہے۔
جبکہ انگریزی میں اسے Sapadilla کہا جاتا ہے۔
یہ سدا بہار پھل دار پودا ہے جس کی کاشت موسم برسات اور موسم بہار میں بہترین تصور کی جاتی ہے۔ اس پودے کی کاشت ہر قسم کی زمین میں ہو سکتی ہے لیکن ریتلی زمین اس کی کاشت کے لیے بہترین ہے۔ یہ پودا تیسرے سال پھل دینا شروع کر دیتا ہے جبکہ پانچویں اور چھٹے سال اس کی پیداوار بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ تیس سال تک یہ پودا خوب پھل دیتا ہے بعد ازاں پھل کی پیداوار کم ہو جاتی ہے۔ اس پودے سے سالانہ دو فصلیں حاصل ہوتی ہیں۔
موسم سرما میں اکتوبر تا دسمبر اور موسم گرما میں اپریل سے جون تک اس کا پھل خوب ملتا ہے۔ اس کا چھلکا آلو کی طرح ہوتا ہے لیکن پکنے کے بعد نرم ہو جاتا ہے جسے آسانی سے اتار کر کھایا جا سکتا ہے۔ اس کی شکل سیب یا ناشپاتی جیسی ہوتی ہے۔ ذائقہ کے اعتبار سے یہ کسیلا اور میٹھا ہوتا ہے۔ اس میں دو سے دس تک کالے بیچ پائے جاتے ہیں جو گول یا بیضوی شکل کے ہوتے ہیں۔ یہ جسم کو بھرپور توانائی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے کیونکہ اس میں گلوکوز کی بھاری مقدار ہوتی ہے جو ایک اتھلیٹ کے لئے بہت ضروری ہے۔ دنیا کے جن ممالک میں چیکو کی پیداوار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ان میں انڈیا، پاکستان، تھائی لینڈ، ملائشیا، کمبوڈیا، انڈونیشیا، بنگلہ دیش، میکسیکو اور ویت نام شامل ہیں۔
جبکہ پاکستان میں چیکو بلوچستان اور سندھ خاص طور پر ٹھٹھہ، ملیر، حیدرآباد، نواب شاہ اور میرپور خاص میں پایا جاتا ہے۔ سو گرام والے چیکو میں غذائی ترتیب کچھ اس طرح ہے۔ کلوریز 83، رائبو فلیون B 2,0.2 ملی گرام
فیٹ 1.1 گرام، سوڈیم 12 ملی گرام، پوٹاشیم 193 ملی گرام، کاربوہائیڈریٹس 20 گرام، ڈائٹری فائبر 5 گرام، نیاسین B 3، 0.3 ملی گرام، وٹامن B 6، 0.037 ملی گرام، فولیٹ B 9، 14 مائیکرو گرام، کیلشیم 21 ملی گرام، فاسفورس 12 ملی گرام، پروٹین 0.4 گرام پائی جاتی ہے۔
آئیے اس کے کچھ طبی فوائد پر روشنی ڈالتے ہیں۔
1۔ آنکھوں کی صحت : (Eye ’s Health)
چیکو میں دیگر پھلوں کی طرح وٹامن اے پایا جاتا ہے جو آنکھوں کی صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اکثر بچوں اور بڑوں میں وٹامن اے کی کمی کے باعث بینائی کمزور ہو جاتی ہے۔ جس کی ضرورت اور طلب وٹامن اے کی صورت میں پوری ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں وٹامن اے سے بھرپور پھلوں اور غذاؤں کا استعمال کرنا چاہیے۔
2۔ کیلشیم سے بھرپور : (Rich in calcium)
اس پھل میں آئرن فاسفورس اور کیلشیم پایا جاتا ہے جو ہڈیوں کے بیرونی حصے کو مضبوط بناتا ہے۔ یہ پھل ہڈیوں کو مضبوط اور انہیں زیادہ وزن اٹھانے کے قابل بنا دیتا ہے جب کہ آئرن ہڈیوں کی اندرونی ساخت کو مضبوط کرتا ہے۔
3۔ حاملہ خواتین : (Pregnant women)
حاملہ خواتین کے لیے یہ پھل انتہائی مفید ہے۔ اس میں کاربوہائیڈریٹس کی موجودگی حاملہ خواتین کو توانائی مہیا کرتی ہے۔ خاص طور پر حمل کے ابتدائی دنوں میں اس کا استعمال بہت سود مند ثابت ہوتا ہے۔ اس کا ذائقہ اور خوشبو متلی، قے، کمزوری اور چکر کو دور کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں فائبر پایا جاتا ہے جو جسم کو مختلف انفیکشن اور نقصان دہ جراثیم سے بچاتا ہے۔ چیکو نہ صرف حمل کے دوران کھانا چاہیے بلکہ زچگی کے بعد بھی اس کا استعمال مفید ہے۔
4۔ دافع سوزش : (Anti۔ inflammatory)
طبی لحاظ سے یہ اینٹی انفلیمیٹری پھل ہے جو سوزش دور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ خاص طور پر ایسی خواتین جن کے جسم کا کوئی حصہ یا ہڈیاں سوجھ جائیں۔ انہیں اپنی خوراک میں اس کا استعمال کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ جن مریضوں کو گنٹھیا کی شکایت ہو وہ بھی اس کے استعمال سے اپنی تکلیف بہت حد تک کم کر سکتے ہیں۔
5۔ اخراج خون : (Bleeding)
اس پھل میں خون روکنے کی زبردست صلاحیت موجود ہے۔ خاص طور پر بواسیر اور زخموں سے رسنے والا خون اس کے استعمال سے رک جاتا ہے۔ خون کا بہاؤ خواہ جسم کے کسی بھی مخارج سے کیوں نہ ہو۔ یہ پھل خون روکنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
6۔ نفسیاتی عوارض :
(Psychological disorders)
ایسے مریض جو مختلف نفسیاتی عوارض میں مبتلا ہیں۔ خاص طور پر بے چینی اور ڈپریشن کے مریضوں کو اس پھل کا لازمی استعمال کرنا چاہیے۔ یہ پھل کھانے سے ان کے اعصاب پرسکون ہو جاتے ہیں۔ ذہنی سوچ اور صحت بہتر ہو جاتی ہے۔ ظاہر ہے جب مریض ذہنی طور پر پرسکون ہو گا تو وہ اعصابی طور پر بھی مضبوط ہو گا۔
7۔ پتھری کا اخراج : (Stone emission)
جہاں یہ پھل بہت سی خصوصیت کا حامل ہے وہاں یہ گردوں اور مثانہ سے پتھری کے اخراج میں بھی اتنا ہی مددگار ہے۔ اس کے علاوہ یہ گردوں کے دیگر مسائل اور بیماریوں سے بچاتا ہے۔
8۔ ہڈیوں کی مضبوطی : (Bone strength)
چیکو بڑھاپے میں خواتین کا بہترین دوست بھی ہے۔ کیونکہ اس میں کیلشیم پایا جاتا ہے جو ہڈیوں کو بھربھرے پن سے بچاتا ہے۔ خاص طور پر ایسی خواتین جو آسٹیو پروسیس کی شکار ہوں۔ انہیں اپنی خوراک میں چیکو کا استعمال لازمی کرنا چاہیے تاکہ ہڈیاں قبل از وقت بھربھرے پن کا شکار نہ ہو سکیں۔
9۔ دل اور خون کی شریانیں :
(Heart and blood vessels)
معدنی غذائیں دل اور شریانوں کے لیے بہت مفید ہوتی ہیں۔ جو دل کو مختلف پیچیدگیوں خاص طور پر ہائی بلڈ پریشر اور دیگر امراض سے بچاتی ہیں۔ ان کے استعمال سے خون کی روانی بہتر ہوجاتی ہے۔ فولیٹ اور آئرن سے خون کے نئے سلیز بنتے ہیں۔ پوٹاشیم خون میں سوڈیم کی مقدار برقرار رکھتا ہے۔ چیکو دل اور خون کی شریانوں کی صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کا استعمال مضر اثرات اور دل کی بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔
10۔ آئرن کی کمی : (Iron deficiency)
غذائی ماہرین کے مطابق آئرن کی کمی والے مریضوں کے لیے یہ پھل بہت مفید ہے۔ اس کے استعمال سے پرانے سے پرانے چکر اور تھکاوٹ دور ہوجاتی ہے۔ اکثر جن لوگوں کا بلڈپریشر لو رہتا ہو یا خون کی کمی کا شکار ہوں ایسے مریضوں کے لیے یہ پھل نعمت خداوندی ہے۔
11۔ ڈائریا اور پیچش :
(Diarrhea and dysentery)
ڈائریا اور پیچش میں اس پھل کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے۔ ایسے مریض جنہیں پرانا ڈائریا اور پیچش کی شکایت ہو
وہ اس پھل کو اپنی خوراک کا حصہ بنا کر اپنی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
12۔ معدہ کے مختلف امراض :
(Various diseases of the stomach)
اس پھل میں ڈائٹری فائبر پایا جاتا ہے جو معدہ کے نظام کو بہتر بناتا ہے۔ یہ قبض اور دیگر امراض جیسے الٹی، متلی، قے، اور اپھارہ سے چھٹکارا دیتا ہے۔
13۔ توانائی کا حصول : (Energy gain)
چیکو کا شمار توانائی کے حصول کے چند پھلوں میں کیا جاتا ہے۔ کیونکہ زندگی میں کام اور کامیابی کے لیے جسم و روح کا صحت مند ہونا بہت ضروری ہے۔ کم توانائی زندگی پر منفی اثرات چھوڑ دیتی ہے۔ خاص طور پر پست حوصلہ، تھکاوٹ کا احساس، سستی، لاپرواہی اور بزدلی جیسے عناصر شامل ہیں جو انسان کی ترقی اور کامیابی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ پھل بہت کارآمد ہے جو توانائی کے حصول میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

