اسلام میں عورت کا سماجی مقام و مرتبہ


8مارچ بین الاقوامی طور پر عالمی یوم خواتین کے طور پر منایا جاتا ہے، گو کہ ابتداً اسے مزدور یا پیشہ ور خواتین کے حقوق کے دن کی حیثیت سے رائج کیا گیا، لیکن ہمیشہ کی طرح، اینٹیں چنتی، مزدوری کرتی، چوڑیاں بیچتی عورت کہیں بہت پیچھے رہ گئی۔ اور ان کے نام پر، کرولا کے نئے ماڈلوں سے اترنے والی میڈموں کی کانفرنسز سجنے لگیں۔ ہمارے ملک میں تو بس، اخباری مضامین کی سرخیاں خوبصورت ہو گئیں اور بیرونی امداد حاصل کرنے کے ایک دو اور چور دروازے کھل گئے۔

گھر میں قید ہے مشرق کی عورت، تعلیم کی آزادی نہیں۔ حجاب اور پردہ ظلم ہے۔ نوکریاں نہیں کرنے دی جاتیں۔ رٹے رٹائے جملے، اور ان جملوں کے سر تال پر اپنے ملک اور مذہب کو گالیاں دینے والے استاد محو رقص۔ مجھے نہ تو کوئی مغربی فوبیا ہے نہ عورت کے حقوق سے مسئلہ، کہ ہمارے دین اسلام اور پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عورت کو جو مقام دیا، دنیا میں اس جیسا کوئی مقام دے ہی نہیں سکتا۔ یہ ہی میرا ایمان ہے

عورت اس کائنات کی ایک عظیم ہستی ہے کیوں کہ یہ بنی نوع انسان میں شامل ہے۔ دین اسلام آنے سے پہلے تمام آسمانی مذاہب کے علاوہ بت پرست، آتش پرست اور کئی مذاہب اس دنیا میں موجود تھے لیکن جو عزت، حقوق، حفاظت، پیار، محبت اور مقام عورت کو اسلام نے دیا، دنیا کے کسی مذہب نے نہیں دیا۔

اسلام سے پہلے عورت کو محض ایک زرخرید غلام سے زیادہ کی حیثیت حاصل نہیں تھی، اس کے تمام حقوق بے دردی سے غصب کیے جاتے تھے لیکن اسلام نے عورت کو اس کے جائز حق سے نوازا۔

سب سے پہلا حق جسے پامال کیا جاتا تھا وہ عورت کی پیدائش کی خوشی تھی قرآن مجید اس بارے میں اعلان کرتا ہے کہ: ”جب ان کو بیٹی کی پیدائش کی خوش خبری دی جاتی ہے تو ان کے چہرے مرجھا جاتے ہیں جیسا کہ وہ غمگین ہیں“ (النحل آیت: 58 )

عرب میں دختر کشی کی بہیمانہ رسم کو اسلام نے غیر انسانی فعل قرار دیا اور بیٹی کی پیدائش اور اس کی پرورش پر جنت کا پروانہ بزبان نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جاری ہوا، چناں چہ نبی محترم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان عالی شان ہے :

حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : ”جس شخص کی بیٹی ہو اور وہ اسے زندہ دفن نہ کرے اور نہ اس کی اہانت کرے اور نہ ہی وہ اپنے بیٹے کو اس پر ترجیح دے تو اللہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔“ رواہ ابوداؤد۔

ایک عورت اگر اس دنیا میں کامیابی و کامرانی، عزت و عافیت، قلبی و روحانی سکون کی آرزو مند ہے، اور وہ موت کی سختیوں، برزخ کی ہولناکیوں، قیامت کی ہوش ربا پریشانیوں، اور جہنم کی تباہ کاریوں سے نجات کے لیے سنجیدہ اور فکر مند ہے تو اسے اسلامی شریعت کی پاس داری کرنی ہوگی اور خود کو احکام الٰہیہ کا پابند بنانا ہو گا خواہ وہ اس کے مزاج و رواج کے موافق ہوں یا مخالف۔

خلقی اور پیدائشی طور پر عورت مرد کی طرح کائنات کی تمام چیزوں سے افضل و برتر ہے۔ قدرت نے اسے بھی ان تمام خوبیوں سے مزین کیا ہے جن کی بنا پر وہ ہر مخلوق سے ممتاز، کائنات کی مخدوم، اور قدرت کا شاہ کار ہونے میں مرد کے ساتھ برابر کی شریک ہے۔ قدرت نے اسے کرامت و شرافت کا تاج پہنایا ہے، تخلیق کے بہترین سانچے میں ڈھال کر اسے سر بلند کر کے چلنا سکھایا ہے، نسل انسانی کے تسلسل میں اسے بنیادی عنصر کی حیثیت دی گئی ہے۔

اسلام میں عورت کا مقام متعین کرنے کے سلسلے میں فطرت کو پیش نظر رکھا گیا چونکہ اسلام دین فطرت ہے لہذا اسلام نے مرد و عورت دونوں کو یکساں معاشرتی درجہ دیا البتہ دونوں کا دائرہ کار الگ متعین کر دیا; حالاں کہ اسلام سے پہلے عورت کو بالکل بے کار اور فضول سمجھا جاتا تھا جیسا کہ بخاری شریف میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول مروی ہے کہ مکہ میں تو عورتوں کو بالکل ہیچ سمجھا جاتا تھا، لیکن جب اسلام آیا اور عورتوں کے متعلق آیات نازل ہوئیں تو ہمیں ان کی قدر و منزلت معلوم ہوئی، اسی طرح حضرت ابن عباس سے ایک طویل روایت حضرت عمر کے حوالے سے منقول ہے کہ حضرت عمر فرماتے ہیں کہ ہم عورتوں کا کسی معاملے میں دخل اندازی کرنا پسند نہیں کرتے تھے اور نہ ہی عورتوں کو اہمیت دیا کرتے تھے۔

حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ:

میں عمر رضی اللہ عنہ سے ان عورتوں کے بارے میں جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے معاملہ میں اتفاق کر لیا تھا، پوچھنے کا ارادہ کرتا رہا لیکن ان کا رعب سامنے آ جاتا تھا۔ ایک دن ( مکہ کے راستہ میں ) ایک منزل پر قیام کیا اور پیلو کے درختوں میں ( وہ قضائے حاجت کے لیے ) تشریف لے گئے۔ جب قضائے حاجت سے فارغ ہو کر واپس تشریف لائے تو میں نے پوچھا انہوں نے بتلایا کہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما ہیں پھر کہا کہ جاہلیت میں ہم عورتوں کو کوئی حیثیت نہیں دیتے تھے۔

جب اسلام آیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر کیا ( اور ان کے حقوق ) مردوں پر بتائے تب ہم نے جانا کہ ان کے بھی ہم پر کچھ حقوق ہیں لیکن اب بھی ہم اپنے معاملات میں ان کا دخیل بننا پسند نہیں کرتے تھے۔ میرے اور میری بیوی میں کچھ گفتگو ہو گئی اور اس نے تیز و تند جواب مجھے دیا تو میں نے اس سے کہا اچھا اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی۔ اس نے کہا تم مجھے یہ کہتے ہو اور تمہاری بیٹی نبی کریم ﷺ کے سامنے بھی اپنی اختلاف رائے پیش کرتی رہتی ہیں۔

میں ( اپنی بیٹی ام المؤمنین ) حفصہ کے پاس آیا اور اس سے کہا میں تجھے تنبیہ کرتا ہوں کہ اللہ اور اس کے رسول کے سامنے اختلاف رائے کرے۔ نبی کریم ﷺ سے (اختلاف رائے ) کو تکلیف پہنچانے کے معاملہ میں سب سے پہلے میں ہی حفصہ کے یہاں گیا پھر میں ام سلمہ کے پاس آیا اور ان سے بھی یہی بات کہی لیکن انہوں نے کہا کہ حیرت ہے تم پر عمر! تم ہمارے معاملات میں دخیل ہو گئے ہو۔ صرف رسول اللہ ﷺ اور آپ کی ازواج کے معاملات میں دخل دینا باقی تھا۔

( سو اب وہ بھی شروع کر دیا ) انہوں نے میری بات رد کر دی۔ قبیلہ انصار کے ایک صحابی تھے جب وہ نبی کریم ﷺ کی صحبت میں موجود نہ ہوتے اور میں حاضر ہوتا تو تمام خبریں ان سے آ کر بیان کرتا تھا اور جب میں نبی کریم ﷺ کی صحبت سے غیر حاضر ہوتا اور وہ موجود ہوتے تو وہ نبی کریم ﷺ کے متعلق تمام خبریں مجھے آ کر سناتے تھے۔ آپ کے چاروں طرف جتنے ( بادشاہ وغیرہ ) تھے ان سب سے آپ کے تعلقات ٹھیک تھے۔ صرف شام کے ملک غسان کا ہمیں خوف رہتا تھا کہ وہ کہیں ہم پر حملہ نہ کر دے۔

میں نے جو ہوش و حواس درست کیے تو وہی انصاری صحابی تھے اور کہہ رہے تھے کہ ایک حادثہ ہو گیا۔ میں نے کہا کیا بات ہوئی۔ کیا غسان چڑھ آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بھی بڑا حادثہ کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی۔ میں جب ( مدینہ ) حاضر ہوا تو تمام ازواج کے حجروں سے رونے کی آواز آ رہی تھی۔ نبی کریم ﷺ اپنے بالا خانہ پر چلے گئے تھے اور بالا خانہ کے دروازہ پر ایک نوجوان پہرے دار موجود تھا میں نے اس کے پاس پہنچ کر اس سے کہا کہ میرے لیے نبی کریم ﷺ سے اندر حاضر ہونے کی اجازت مانگ لو پھر میں اندر گیا تو آپ ایک چٹائی پر تشریف رکھتے تھے جس کے نشانات آپ کے پہلو پر پڑے ہوئے تھے اور آپ کے سر کے نیچے ایک چھوٹا سا چمڑے کا تکیہ تھا۔

جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ چند کچی کھالیں لٹک رہی تھیں اور ببول کے پتے تھے۔ میں نے نبی کریم ﷺ سے اپنی ان باتوں کا ذکر کیا جو میں نے حفصہ اور ام سلمہ سے کہی تھیں اور وہ بھی جو ام سلمہ نے میری بات رد کرتے ہوئے کہا تھا۔ نبی کریم ﷺ اس پر مسکرا دیے۔ آپ نے اس بالا خانہ میں انتیس دن تک قیام کیا پھر آپ وہاں سے نیچے اتر آئے۔

یقیناً عورت ”صنف نازک“ ہے اور اس کی نزاکت و لطافت کی وجہ سے تصویر کائنات رنگین و دل کش ہے، وہ مرد کی بہ نسبت کم زور و کم ہمت ہے، جلد غصہ ہونے والی اور جلد گھبرا جانے والی ہے لیکن گھریلو اور چھوٹے کاموں میں اس کا ذہن خوب چلتا ہے، بچوں کی نفسیات سمجھنے اور ان کی پرورش و تربیت میں اس کا کوئی ثانی ہے نہ بدل۔ یہی قدرت کا فیصلہ اور فطرت کا ضابطہ ہے۔

اس عنوان پر آگاہی کی اشد ضرورت اس لیے ہے کہ عورت کی آزادی کے نام پر جو دجل سادہ لوح خواتین کو موجودہ زمانے میں دیا جا رہا ہے اور جو خناس ان کے اذہان میں انڈیلا جا رہا ہے اس سے خواتین کو آگاہ کیا جائے۔ حالانکہ اسلام نے عورت کو آزادی دی ہے یقیناً اسلام میں عورتوں کی آزادی کا حق اتنا ہی ہے جتنا کہ مرد کو حاصل ہے خواہ وہ دینی معاملہ ہو یا دنیاوی۔ اس کو پورا حق ہے کہ وہ دینی حدود میں رہ کر ایک مرد کی طرح اپنی رائے آزادانہ استعمال کرے۔

ایک موقع پر حضرت عمر نے فرمایا کہ : ”تم لوگوں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ عورتوں کی مہر زیادہ نہ باندھو، اگر مہر زیادہ باندھنا دنیا کے اعتبار سے بڑائی ہوتی اور عنداللہ تقویٰ کی بات ہوتی تو نبی ﷺ اس کے زیادہ مستحق ہوتے۔ (ترمذی)

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس تقریر پر ایک عورت نے بھری مجلس میں ٹوکا اور کہا کہ آپ یہ کیسے کہہ رہے ہیں ؛ حالاں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

”ان میں سے ایک کو ڈھیر سارا مہر دے چکے ہو، تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو۔“ (النساء:)

جب اللہ پاک نے جائز رکھا ہے کہ شوہر مہر میں ایک قنطار بھی دے سکتا ہے تو تم اس کو منع کرنے والے کون ہوتے ہو۔ حضرت عمر نے یہ سن کر فرمایا کلکم اعلم من عمر۔ اس عورت کی آزادی رائے کو مجروح قرار نہیں دیا کہ حضرت عمر کو کیوں ٹوکا گیا اور ان پر کیوں اعتراض کیا گیا؛ کیوں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گفتگو اولیت اور افضیلت میں تھی۔ نفس جواز میں نہ تھی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں عورتوں کو اپنی آزادی رائے کا پورا حق ہے

اس کائنات میں مرد و عورت دونوں کو الگ الگ ذمہ داریاں دی گئی ہیں اور اللہ پاک نے سیدھا راستہ بھی بتا دیا ہے اور شیطان کا راستہ بھی، اب اگر کوئی شیطان کے راستے پر چل نکلتا ہے اور توبہ سے پہلے موت آ جاتی ہے تو اللہ پاک کے سامنے ایک ایک منٹ کا جواب دینا ہو گا، اس لیے اس عنوان اور اس کتاب کے ذریعے سے تمام مسلمان خواتین سے درخواست کی گئی ہے کہ خدارا، شیطانی راستوں پر نہ چلیں اور کفر کی انجیوز، آزادی مارچ کے نام پر جو کہ اصل میں آپ سے آزادی چھیننے کی کوشش کر رہی ہیں اور کفر کا غلام بنانے، چند دن کی زندگی کو فحاشی و عریانی کی طرف مائل کرنی کی کوشش کر رہی ہیں ایسے ہتھکنڈوں سے بچیں اور کفر کے آلہ کار بننے سے اپنے آپ کو بچائیں۔ اپنے آپ کو پاک اور صاف رہنے والوں میں شمار رکھیں۔ یہی دنیا و آخرت کی کامیابی ہے

Facebook Comments HS