چند سوالات


کیا ملک درست سمت میں چل پڑا ہے؟ کیا اداروں کی اب سیاست میں مداخلت بند ہو جائے گی؟ کیا سویلین اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان عدم اعتماد کا خلاء پر ہو جائے گا؟ کیا پاکستان دوبارہ معاشی طور پر مضبوط ہو سکتا ہے؟ کیا فوج، عدلیہ اور دیگر اداروں کے نئے چہرے اپنے اداروں کا وقار بحال کر پائیں گے؟ کیا ملک کی بہتری کے لئے سیاسی جماعتوں میں کوئی اتفاق رائے قائم ہو سکتا ہے؟ کیا مذہبی جماعتوں کی پارلیمنٹ میں بھرپور نمائندگی ہو سکتی ہے؟

کیا حزب اختلاف یا حکومتی خواتین کی تذلیل کا سلسلہ بند ہو سکتا ہے؟ کیا سیاست میں عدم برداشت کی بجائے قوت برداشت پیدا ہو سکتی ہے؟ کیا سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگانے کا سلسلہ بند ہو سکتا ہے؟ کیا اسٹبلشمنٹ اور سیاستدانوں کے درمیان شروع ہوئی لڑائی آخری لڑائی ہو سکتی ہے؟ کیا ملک سے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہو سکتا ہے؟ کیا لاپتہ افراد کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے؟ کیا بلوچ قوم پرستوں کے جائز مطالبات حل ہو سکتے ہیں؟

کیا بلوچستان کی محرومیاں ختم ہو سکتی ہیں؟ کیا عوام کے منتخب کردہ ارکان اسمبلی کو ضمیر فروشی کے لیے مجبور کرنے کا سلسلہ بند ہو سکتا ہے؟ کیا مسئلہ کشمیر حل اور بھارت سے بہتر تعلقات قائم ہو سکتے ہیں؟ کیا جو مہنگائی میں جو اضافہ ہو چکا ہے وہ ختم ہو سکتا ہے؟ کیا غریب کا بچہ بھی بڑا افسر بننے کا خواب دیکھ سکتا ہے؟ کیا ہمارے گلی محلوں کے مسائل ہو سکتے ہیں؟ یہ چند وہ سوالات ہیں جو زبان زدعام ہیں۔ ان سوالوں کا جواب واشنگٹن، بیجنگ، لندن، ریاض، ماسکو، دبئی، قطر، دہلی، تہران یہ کابل کے پاس نہیں بلکہ اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور اور لاڑکانہ کے پاس ہے یا وزیراعظم، چیف جسٹس، آرمی چیف یا دیگر اداروں کے سربراہان کے پاس ہے۔

چھہتر سالوں سے قوم اسی سوچ میں گھوم ہے کہ شاید ہمیں کبھی تو کوئی مسیحا ملے گا جو ان سوالوں کا جواب دے گا اور ان کو حل کرے گا۔ ہماری تین نسلیں انہی سوالوں کے جواب اور حل کے انتظار میں دنیا سے کوچ کر گئی ہیں لیکن ہم ابھی تک اسی کشمکش میں مبتلا ہیں کہ شاید کوئی تو ایسا ہو گا جو اپنی جیبیں بھرنے، بینک اکاؤنٹ بھرنے، اپنے بچوں کے لئے لمبی چوڑی جاگیریں چھوڑیں، اپنے دوستوں کو نوازنے کی بجائے صرف ملک و ملت کا سوچے گا اور ان مسائل کو حقیقی معنوں میں حل کرے گا۔

چھہتر سالوں سے قوم سنتی آ رہی ہے۔ جانے والی ہر حکومت خزانہ خالی چھوڑ کر گئی، ملک مشکل حالات سے گزر رہا ہے، ملک ایسے حالات کا متحمل نہیں ہو سکتا ، حزب اختلاف کا ایجنڈا ملک دشمن کا ہے۔ یہ مخصوص قسم کے سوالات سن سن کر قوم تنگ آ چکی ہے۔ صاحب اختیار اور با اختیار حکمران کبھی اپنے ناکامی کا ملبہ سابقہ حکومتوں پر نہیں ڈالتا کیونکہ ملک کے سیاہ سفید کا مالک وہ ہوتا ہے۔ لیکن پھر اس کے باوجود سابقہ حکومت پر الزام تراشی روایتی مشغلہ بن چکا ہے۔

آج کل ملک پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتیں موجودہ حکمران عمران خان کے خلاف میدان میں نکلی ہیں اور ان کو گھر بھیجنا چاہتی ہیں۔ ایک لمحے کے لئے سوچیں اگر حزب اختلاف عمران خان کو ہٹانے میں کامیاب ہو بھی جاتی ہے تو کیا اوپر پوچھے گئے سوالوں کے جوابات اور ان مسائل کا حل ممکن ہو سکے گا؟ ہرگز نہیں بلکہ ان مسائل میں مزید اضافہ ہو گا۔ آئندہ کوئی بھی نئی حکومت آئے گی تو اگر وہ اگلے پانچ سال بھی قائم رہے تو مہنگائی میں جو اضافہ ہو چکا ہے وہ دوبارہ واپس پرانے پاکستان والی قیمتوں پر لانا ناممکن ہو گا۔

ان سب مسائل کا ایک ہی حل ہے، گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ۔ پاکستان کی تمام سیاسی، مذہبی، عسکری، تمام قوم پرستوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں، ججز اور دیگر اہم شعبوں سے وابستہ افراد پر مشتمل ایک مضبوط اور با اختیار کمیٹی بنائی جائے۔ جو ہر ماہ ملکی مسائل پر جائزہ میٹنگ کرے اور ان مسائل کے حل کے لئے ایک پلان بنائے۔ یہ صرف تب ممکن ہو سکتا ہے جب تمام جماعتیں اور ادارے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کی بجائے صرف ملک پاکستان اور قوم کو مضبوط بنانے کے لئے جدوجہد کریں گے۔ خدارا ہماری تین نسلیں اس کشمکش میں آگے کو نکل گئی ہیں اب بس کریں۔

Facebook Comments HS