تبدیلی کا راز


”سائیں! کرایہ دے دے۔“ کنڈکٹر کی آواز کے ساتھ ہی سب کا ہاتھ جیب میں رینگ گیا۔
”بیس روپے اور دے۔“ میں نے نظر اٹھا کر دیکھا، وہ اگلے مسافر سے مخاطب تھا۔
”کس چیز کے بیس روپے؟ ابھی کل ڈیڑھ سو میں آیا ہوں۔“ مسافر جھٹ سے بولا۔
”نہ صاب! ہمیں بھی آگے حساب دینا ہوتا ہے۔ دیکھتے نہیں آج بھی پٹرول بڑھ گیا ہے۔“ کنڈکٹر جھگڑنے لگا۔
”ایک تو اس مہنگائی نے نچوڑ کر رکھ دیا ہے۔“ میرے سامنے بیٹھے بابا جی بڑبڑائے۔

” یار ظلم کی انتہا ہے۔ ابھی دس روپے بڑھائے ہفتہ نہیں ہوا آج پھر تین روپے بڑھا دیے۔“ پاس بیٹھا شخص بولا۔

”بھائی کب اس ظلم سے جان چھوٹے گی؟“ اس نے جیسے خود کلامی کی۔
”جب ہمارا شعور بیدار ہو گا۔“ میرے منہ سے بے ساختہ نکلا۔
”کون سا شعور؟ بیٹے! سب کو آزماتے بالوں میں سفیدی آ گئی ہے۔“ بابا جی سوالیہ انداز میں بولے۔

”یہی تو المیہ ہے بابا جی! کہ ہم ابھی تک ٹیسٹ ہی کر رہے ہیں، اور ٹیسٹ آ بھی رہا ہے۔“ میں نے جواب دیتے ہوئے دائیں بائیں دیکھا۔

دیگر مسافر بھی دلچسپی سے ہماری جانب متوجہ ہو گئے تھے۔
”سائیں! تو آپ کے نظر میں اور حل کیا ہے؟“ ساتھ بیٹھے شخص نے پوچھا۔

”دیکھیں تبدیلی چاہے شخصیت کی ہو یا معاشرے کی۔ ایک سسٹم اور طریقہ کار کے ساتھ ہی آتی ہے۔ زندگی میں انقلاب لانا ہو یا ملک و معاشرے میں، سب سے پہلے آپ کی منزل واضح ہونی چاہیے۔ جس چیز کو آپ تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کے پاس متبادل کیا ہے؟

اب آپ ہی بتائیں کہ ہم میں سے کتنے ہیں جو ووٹ دیتے وقت امیدواروں سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟ اس کا تعین کیے بغیر جدوجہد کرنا اندھیرے میں تیر مارنے کے مترادف ہے۔ ”

”تو یہ نعرے یہ دستور و منشور کیا ہوتے ہیں؟“ اب کی بار پچھلی سیٹ پہ بیٹھے صاحب بولے۔

”معذرت سے بھائی جی! دکھانے کو تو یہ پروگرام ہر تنظیم کے پاس ہوتا ہے۔ مگر آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ان کے اپنے ورکرز بھی اس پروگرام کے لیے الیکشن مہم کے علاوہ کچھ سرگرمی دکھاتے ہیں؟“

میں وضاحت کرتے ہوئے مزید بولا:

”منزل اور نصب العین کے بعد دوسرا قدم تنظیم سازی ہے۔ آپ جس چیز تک پہنچنا چاہ رہے ہیں، اس کے لیے آپ کی شخصیت کتنی منظم ہے؟ اوقات متعین ہیں؟ اجتماعی کام میں آپ کا ایک ایک ہم سفر آپ کی طرح ذہنی طور پر کلیئر ہے؟ حسن انتظام کے بغیر منزل کا حصول ایک خواب ہی رہ جائے گا۔“

اتنا ٹائم کس کے پاس ہے سائیں! سب کو کام دھندا کرنا ہے۔ وہ بولے۔

”بھائی یہی تو راز ہے اس ساری صورتحال کا۔ لذیذ ڈش ہمیشہ ہلکی آنچ پر پکتی ہے۔ بیشک بعض اوقات دیر کرنے کا ٹائم نہیں ہوتا۔ مگر منظم لائحہ عمل میں ذرا سی گڑبڑ ساری جدوجہد پہ پانی پھیر سکتی ہے۔“

”ہمارے حکمران کبھی کسی ملک کی مثالیں دیتے ہیں، کبھی کسی کی۔ ستر سال سے کسی ایک کو آئیڈیل ہی نہیں بنا سکے۔“ بابا جی بولے۔

”یہی تو مسئلہ ہے کہ ہم نہ تو خود آئیڈیل بنتے ہیں، نہ کسی کو آئیڈیل بناتے ہیں۔ کچھ بننے کے لئے رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے بعد لائحہ عمل کا مرحلہ آتا ہے کہ قدم بہ قدم کس طرح منزل مقصود تک پہنچنا ہے۔“

میں ذرا رک کر مزید بولا: ”ہم کوئی آئیڈیا رکھتے ہیں، تو اس کے لیے عملی میدان میں کردار ادا کرنا پڑے گا۔ سیاست کاروبار نہیں رضاکارانہ خدمات کا نام ہے۔“

”بس اللہ رحم کرے۔“ ساتھ بیٹھے شخص کے منہ سے نکلا۔

”بیشک کرے گا، بشرطیکہ ہم اپنے حصے کا کام کریں۔ جو ووٹ مانگنے آئے، اسے پلان مانگیں۔ جو بار بار آئے، اسے حساب مانگیں۔

مگر۔ ”میری گفتگو درمیان میں رہ گئی۔
”روک روک۔“ کنڈیکٹر نے گاڑی کھڑکائی۔ ہمارا اسٹاپ آ چکا تھا۔
”بابا جی! کمی بیشی معاف۔ بھائی جان! اللہ حافظ۔“ میں اترتے ہوئے بولا۔
بابا جی نے مسکرا کر ہاتھ ہلایا اور گاڑی چل پڑی۔

Facebook Comments HS