عورت مارچ: تعصب کا خاتمہ


تاریخی طور سے ہر سال آٹھ مارچ عورتوں کے عالمی دن کی حیثیت سے دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ اس سال کا سلوگن ”تعصب کا خاتمہ“ اس بات کی عکاس ہے کہ اب عورتوں کے خلاف جبری تشدد، متعصب فیصلے، امتیازی سلوک اور حق رائے کی صلبی جیسی روایات کو دم توڑنا ہو گا۔

دہائیوں پر محیط پاکستان کے پس منظر میں خواتین کے لیے قدغن اور برابری کے مواقع اور برابر مواقع دونوں ہی ناپید رہے۔ باوجود اس کے چند عورتیں بند دروازوں کے رخنوں سے رستے پانی کی مانند اپنا آہنی کردار منوانے میں کامیاب رہیں اور بہت سی عورتوں کے لیے مشعل راہ بھی بنیں، چاہے پھر میدان سیاست ہو، انسانی حقوق کی علمبرداری یا ملک کے وزیراعظم کی کرسی۔ عورت نے ثابت کیا کہ اگر سماجی تعصب توڑ دیا جاتا تو کامیاب عورتوں کی فہرست اتنی محدود نہ ہوتی جسے محض غیر معمولی عورت کہ کر روایت برقرار رکھی جا سکتی۔

ہماری کتب اور بیانیے نے بھی عورتوں کی تصویر کشی کے ساتھ انصاف نہیں برتا۔ ماضی کی چند مثالیں محترمہ فاطمہ جناح، بیگم رعنا لیاقت علی خان، سلمیٰ تصدق، بیگم جہاں آرا شاہنواز، شائستہ اکرام اللہ، ماضی قریب میں بیگم نسیم ولی خان، بینظیر بھٹو اور عاصمہ جہانگیر کے کردار کو کبھی نہیں بھلایا جا سکتا۔ مگر ان جیسوں کا تذکرہ بطور بہادر عورت اور رول ماڈل ڈھونڈنا پڑتا ہے۔ عورت کے مثبت کردار کو کلچر، مذہب اور استعداد کے نام پر کچلنا کم عقلی کی علامت ہے۔

دور حاضر میں سیاسی جلسے اور جلوس ہوں، ریلی یا واک ہو یا کوئی عملی جدوجہد ہو، عورت کا مرکزی کردار اب محض ترقی یافتہ مغربی دنیا کی مثال نہیں بلکہ پاکستانی عورت ہر میدان میں اپنی لیڈرشپ صلاحیتوں کو بروئے کار لا چکی ہے۔ سیاسی لیڈر، فوج میں لیفٹیننٹ جنرل کا عہدہ، جنگی جہاز اڑانے سے لے کر ایرو اسپیس انجینئر، سماجی کارکن اور کرکٹ سٹار ہر شعبہ زندگی میں پاکستانی عورت اپنا مقام رکھتی ہے۔

جب بات سیاستدان لیڈر کی ہو تو دو پاکستانی خواتین کا ذکر ناگزیر ہے۔ ایک محترمہ بینظیر بھٹو (مرحوم) اور دوسری دور حاضر کی خاتون لیڈر محترمہ مریم نواز شریف۔ دونوں جزوی مماثلت کے ساتھ ساتھ انفرادی حیثیت اور شخصیت کی مالک ہیں۔ قومی دھارے کی سیاسی لیڈر، روایت سے ہٹ کر دونوں اپنے اپنے والد کی وراثت کو لے کر چلیں، مخالفین کے سیاسی انتقام کا سامنا کیا اور پاکستان کی عوام کی علمبردار ثابت ہوئیں مگر دونوں الگ الگ ادوار میں اپنی انفرادی سیاسی پہچان اور شناخت رکھتی ہیں۔

بینظیر بھٹو نے پاکستان کی عورت کو مشکل حالات میں بہادری سے مقابلہ کرنا سکھایا۔ آج کی مریم نواز نے جرات کو عورت کے ساتھ منصوب کیا۔ ملک گیر عورتوں کو موبلائز کر کے یہ حوصلہ دیا کہ آج صحافت، وکالت، سیاست ہر میدان میں عورت کی پہچان مقابلہ اور میرٹ ہے۔

ایک ایسے معاشرے میں جہاں عورت کو برابری کی سطح پر مقابلے کا میدان میسر نہ ہو۔ بلکہ بنیادی حقوق جیسے کہ تعلیمی ترجیحات، پروفیشنل کیریر، زندگی کے ساتھی کا چناؤ کی گنجائش نہ دی جائے اور فیصلہ سازی کی قوت سے دور رکھا جائے۔ رائج عام جملے ”چادر اور چار دیواری عورت کی پہچان“ ، ”شریف عورت وہ ہے جس کی آواز سنائی نہ دے اور جو خوش اسلوبی سے اپنی خواہشات کا گلہ دبانا جانتی ہو“ ۔ نڈر اور مضبوط اعصاب کی عورت جو علم اٹھانا جانتی ہے، مخالف سمت میں چلنے والی ہواؤں کا مقابلہ کرنا جانتی ہے، طوفانوں میں بیڑہ پار لگانا جانتی ہے اسے بد لگام، بد لحاظ اور بدکردار جیسے القاب کے ساتھ جوڑ کہ دہائیوں تک عورت کے اصل تصور اور تصویر کو پس پشت ڈالے رکھا۔ مگر در حقیقت علم اٹھانے والی عورت اپنے کردار کی پختگی اور فرائض سے باخوبی واقف ہے۔ مثلہ عورت کے حقوق کو تسلیم نہ کرنے کا ہے۔

اکیسویں صدی کے آغاز تک پاکستان میں پیشہ کے اعتبار سے عورت کا کردار ڈاکٹر، نرس اور ٹیچر تک محدود تھا۔ ماسوائے دیہی عورت کے جسے زراعت، غلہ بانی اور مویشی پالنے جیسے حساس اور مشکل کام موسمی شدت کے باوجود سر انجام دینے پڑتے ہیں، چاہے شمالی علاقہ جات کے سنگلاخ پہاڑ ہوں، میدان یا صحرا، مگر اس کی کٹھن محنت کا نام لیوا کوئی نہیں۔

چند دہائیوں سے شہری علاقوں میں عورتوں کی شمولیت افرادی قوت میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ جس کی ایک واضح وجہ معاشی دباؤ ہے۔ عورت گھر میں مالی معاونت کے آلہ کار کے طور پر قابل قبول ہے نتیجہ تن عورت کے لیے اعلی تعلیم، نوکری اور روزگار کے مواقع میں حصہ لینے کے دروازے کھول دیے گئے ہیں۔ اس کی وجہ سماجی رویوں کی عظمت نہیں بلکہ وقت کی ضرورت ہے۔

وجہ جو بھی ہو دروازہ کھلتے ہی عورت نے ثابت کیا کہ وہ میدان عمل میں کسی سے کم نہیں۔ دوسری طرف عورتوں کے لیے نوکری، سیاست اور مقابلے کے امتحان میں مختص کوٹا سسٹم کی مخالفت سننے کو ملتی ہے۔ ایسے افراد کی یاد دہانی کے لیے یہ بتانا ضروری ہے کہ کوٹا سسٹم عورت پہ احسان نہیں بلکہ اس کا مقصد عورت کی شمولیت کو ممکن بنانا اور عمومی دھارے میں لانا ہے۔ کسی بھی ریس کے میدان میں آپ دس سالہ ریہرسل کیے ہوئے کھلاڑی کا مقابلہ نئے آنے والے سے نہیں کروا سکتے۔ مقابلے کے لیے لیول فیلڈ ہونا ضروری ہے۔ عورتوں کو مختص ہونے والے کوٹے کی وجہ ستر سالوں میں ہونے والا استحصال ہے۔ عورت کی بڑھتی ہوئی شمولیت اس بات کی یقین دہانی ہے کہ عورتیں ہر قسم کے مقابلے کے لیے تیار ہیں چاہے تعلیم کا میدان ہو یا ورک فورس کا حصہ بننا ہو۔

خواتین کے بڑھتے ہوئے معاشی، سماجی اور سیاسی کردار کو جس بھی نظر سے دیکھنے کی کوشش کر لیں جواب نفی میں نہیں ملے گا۔ اب خواتین کو ان کی انفرادی شناخت اور کردار کے ساتھ ماننا ہی حل ہے

Facebook Comments HS

سلمیٰ بٹ

سلمیٰ بٹ کا تعلق پاکستان مسلم لیگ (ن) سے ہے اور وہ پنجاب اسمبلی کی رکن ہیں۔ ان کی خاص دلچسپی خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے میں ہے۔

salma-butt has 6 posts and counting.See all posts by salma-butt