کواڈ اجلاس سے دہشت گردی تک


پاکستان اور اس کے گردونواح میں ایسا بہت کچھ ہو رہا ہے کہ جس میں مضبوط اور متحرک خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے۔ مگر کوارڈ اجلاس سے لے کر افغانستان تک سوائے مجرمانہ خاموشی کے اور کچھ موجود نہیں۔ حالات سے لاتعلقی اس حد تک ہے کہ کوئی حکمت عملی تیار کرنا تو درکنار اس پر سوچنے کی بھی وزیر خارجہ کو فرصت نہیں کہ وہ اس سے زیادہ ضروری کام سندھ میں جلسے جلوس کرنا ہے ورنہ جب حال ہی میں جو بائیڈن حکومت نے امریکہ کی انڈو پیسیفک سٹریٹجی جاری کی تو اس میں صاف نظر آ رہا تھا کہ امریکہ انڈو پیسیفک میں اختلافات کو گفت و شنید سے حل کرنے کی بجائے تنازعات کو ایسے رنگ میں رنگ دینا چاہتا ہے کہ جس سے انڈو پیسیفک میں ایک مستقل طور پر کشیدگی کی فضا برقرار رہے۔

یہ واضح ہے کہ انڈیا کی اس اسٹریٹجی میں موجودگی پاکستان کے لئے کیا معنی رکھتی ہے کیونکہ یہ بالکل واضح ہے کہ انڈیا کا اصل ہدف جنوبی ایشیا، اس کے سمندروں میں اپنی تھانیدارانہ حیثیت کو قائم کرنا ہے اور اس کی اس خواہش میں حائل صرف پاکستان ہے۔ جو بائیڈن حکومت کی انڈو پیسیفک سٹریٹجی میں انڈیا کے کلیدی ( لیڈنگ ) کردار کا ذکر اس کو آپے سے سے باہر کر دینے کے لیے کافی ہے اور اس کو آپے سے باہر کرنا اس لئے ضروری ہے کہ چین کی بڑھتی طاقت کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو مشتعل کیا جا سکے تاکہ تائیوان کے معاملے میں اس کی تحمل کی حکمت عملی کو برباد کیا جا سکنا ممکن بنایا جائے کیونکہ دنیا میں یہ تصور قائم کرنا کہ یہ سب امریکہ تو امریکہ انڈیا کے بھی خوف سے چین نہیں کر رہا ہے اس کو مشتعل کرنے کے لیے کافی ہے۔

مگر یہ تمام حربے استعمال کرنے کے باوجود چینی صدر شی نے اپنی فوجی حکمت عملی میں فرق نہیں ڈالا ہے اور انہوں نے وہ راستہ اختیار نہیں کیا ہے جو صدر پیوٹن نے یوکرائن کے معاملے میں اختیار کر لیا ہے۔ چین کو اشتعال دلانے کی غرض سے اس وقت از سر نو کوشش جاری ہے۔ روس یوکرائن جنگ کے حوالے سے یہ کہا گیا کے کواڈ ممالک ( امریکہ، جاپان، آسٹریلیا، انڈیا ) کہ حکومتی سربراہوں کا غیر معمولی ورچوئل اجلاس ہو رہا ہے اور اس حوالے سے یہ چاروں ممالک معاملات پر اپنے نقطہ نظر کے تحت غور کریں گے مگر جب اس اجلاس کے بعد بیان سامنے آیا تو اس میں رسمی طور پر تو یوکرائن کا ذکر کیا گیا مگر تمام کا تمام مرکزی نکتہ یہ بیان کیا گیا کہ ہم انڈو پیسیفک میں کوئی ”چینی جارحیت“ نہیں ہونے دیں گے حالانکہ یہ بالکل واضح ہے کہ چین نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا ہے کہ جس سے ذرہ بھر بھی یہ شائبہ موجود ہو کہ چین تائیوان کے خلاف کسی قسم کی جنگی کارروائی کا کوئی ارادہ رکھتا ہے

ویسے بھی روس یوکرائنی تنازعہ دو آزاد ممالک کا تنازعہ ہے کہ جس کی بین الاقوامی سرحدیں روس کی بھی تسلیم شدہ ہیں مگر تائیوان تو چین کا ایک جزیرہ ہے جو بہرحال چین کا حقیقی طور پر حصہ ہے اور انقلاب چین کے وقت سے وہاں انقلاب مخالفوں کا قبضہ ہے اس سے زیادہ اس کی چین سے علیحدگی کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

مگر پھر بھی چین کے ایسے کوئی عزائم ظاہر نہیں ہوتے کہ وہ بزور طاقت چین کو مرکزی چینی حکومت کے تابع کرنا چاہتا ہے مگر کواڈ کے اجلاس نے ایسے بڑھکیں ماری ہیں جیسے وہ جنگ کے دہانے پر ہو۔ آسٹریلیا کے وزیراعظم نے تو ”کمال“ ہی کر دیا جب انھوں نے یہ بیان جاری کیا کہ چھوٹی طاقتوں کو بڑی طاقتوں سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے حالانکہ اسی قسم کی طفل تسلیوں پر ہی یوکرائن کو ایسی حکمت عملی اختیار کرنے کی جانب راغب کیا گیا کہ جس کے بعد روس اس پر چڑھ دوڑا اور پابندیوں کا ڈرامہ کر کے بس فرض ادا کر دیا گیا مگر ہمارے لئے اس بہانے انڈیا کی مزید فوجی طاقت کو بڑھتا دیکھنا اور اس کو ہلہ شیری دیتے ہوئے دیکھنا۔

اس صورت حال کے زبردست نتائج ہو ہوں گے جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ہم اپنے خطے میں کسی صورت بھی بھارتی بالادستی کو قبول نہیں کر سکتے ہیں اور بھارتی عزائم کوئی پاکستان سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں کیونکہ یہ کوئی ماضی بعید کا قصہ نہیں جب بھارت نے اپنا ہر زور لگا دیا تھا کہ وہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کر دے۔ ویسے تو بدقسمتی سے اس وقت بھی افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے حوالے سے لگاتار کوششیں کی جا رہی ہیں اور سرحدی معاملات پر تو کابل کی طرف سے نا صرف کے اختلاف کیا جا رہا ہے بلکہ پاک افغان سرحد پر ہونے والے ناخوشگوار واقعات، سرحدی جھڑپوں کے حوالے سے بھی پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے کہ جیسے ابھی کچھ ایام قبل بھی ویش چمن سرحد پر ہونے والے تصادم کا الزام پاکستان پر دھر دیا گیا تھا۔

اور بات صرف انتظامات تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ واضح طور پر نظر آ رہا ہے کہ وہاں پر سیاسی تبدیلی اور پاکستان میں دہشتگردی سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی میں ضعف ہونے کی وجہ سے دہشت گردی کے واقعات میں خاص رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے اور پاکستان میں موجود فالٹ لائنز کو ہدف بنا کر پاکستان میں انتشار کی کیفیت اور بداعتمادی کو دوبارہ قومی زندگی میں شامل کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا گیا۔ کابل پر براہ راست الزام لگانا تو شاید مناسب نہیں ہو گا لیکن اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں ہو گا کہ افغانستان کی زمین پر بیٹھ کر پاکستان کو خون رنگ کیا جا رہا ہے جس کو روکنا کابل کی ذمہ داری ہے۔

Facebook Comments HS