وزیر اعظم کا خطاب اور تحریک عدم اعتماد


پیپلز پارٹی کے ”مہنگائی مارچ“ اور متحدہ اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم لانے کے اعلان نے جہاں وزیر اعظم عمران خان کو قوم سے خطاب کرنے پر مجبور کر دیا وہاں انہیں ایک بار پھر ان کی حکومت کو قائم رکھنے والی بیساکھیوں ( مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم، جی ڈی اے اور بلوچستان عوامی پارٹی) کی محبت موجزن ہو گئی ہے اور وہ ان کے ناز نخرے اٹھانے کے لئے ان کے دروازوں پر دستک دے رہے ہیں۔ عام تاثر تھا۔ وزیر اعظم موجودہ ملکی سیاسی صورت حال کے پیش نظر اہم سیاسی اعلان کریں گے لیکن انہوں نے کوئی سیاسی اعلان کیا اور نہ ہی تحریک عدم اعتماد بارے میں لب کشائی کی انہوں نے اپنے خطاب یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ انہیں تحریک عدم اعتماد بارے میں کوئی پریشانی ہے اور نہ ہی وہ اپوزیشن کے سامنے سرنڈر کرنے کے لئے تیار ہیں بلکہ وہ آخری دم تک اپوزیشن کا مقابلہ کریں گے۔

وزیر اعظم کی تقریر حکومت کی 4 سالہ کارکردگی کی رپورٹ تھی جسے اپوزیشن نے مسترد کر دیا وزیر اعظم کا دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے 4 سال میں ناموافق معاشی حالات کے باوجود ملک کو ترقی کی راہ پر ڈال دیا ہے۔ اس سلسلے میں وزیر اعظم وزارت خزانہ کی طرف سے فراہم کردہ اعداد و شمار اور اشاریوں کا سہارا لے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان میں ”خوشحالی“ کا دور دورہ ہے اور دودھ و شہد کی نہریں بہنا شروع ہو گئی ہیں۔

وزراء کے پیٹ اتنے ہلکے ہیں کہ وزیر اعظم کے قوم سے خطاب سے پہلے ہی انہوں نے اپنی تقاریر میں پٹرول اور بجلی قیمتیں کم کرنے کا اعلان کر کے وزیر اعظم کے خطاب کی اہمیت کم کر دی جس کا خود وزیر اعظم نے بھی برا منایا۔ وزیر اعظم نے یہ اعلانات بر وقت کیوں نہیں کیے؟ اب جب ایک طرف پیپلز پارٹی کا مہنگائی مارچ اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہے۔ دوسری طرف متحدہ اپوزیشن ہفتہ عشرہ کے دوران ان کے خلاف پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد لانے کی تیاریاں کر چکی ہے۔ اگر وزیر اعظم کے حالیہ اعلانات سے مہنگائی کے ہاتھوں پریشان لوگوں کے چہرے کی مسکراہٹ واپس آ سکتی ہے لیکن جب ملک میں مہنگائی کا طوفان برپا ہو ان اعلانات سے عام آدمی کی زندگی میں کوئی بہتری نہیں آ سکتی۔

وزیر اعظم کے حالیہ اقدامات پر ”اونٹ کے منہ میں زیرہ“ کی ضرب مثل درست ثابت ہوتی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی ”باڈی لینگویج“ سے شکست خوردگی نمایاں تھی۔ ایسا دکھائی دیتا تھا کہ کپتان جنگ ہار چکا ہے اور وہ اس طرح اقدامات سے ہاری ہوئی جنگ کو کامیابی میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ وہ آخری وقت تک اپوزیشن سے شکست قبول نہیں کرے گا خواہ اس کی کتنی ہی قیمت ادا کرنی پڑے وہ اپنے ساتھ کچھ لوگوں کو بھی لے جانا چاہتا ہے۔

جہاں تک میری اطلاع ہے، متحدہ اپوزیشن کے 80 ارکان نے دستخط کر دیے ہیں۔ مولانا فضل الرحمنٰ نے اسلام آباد میں ڈیرے ڈال دیے ہیں۔ اپوزیشن کے پاس گنتی پوری ہو چکی ہے۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ عدم اعتماد کے لئے نمبرز مطلوبہ تعداد سے زیادہ ہیں۔ اپوزیشن تحریک عدم اعتماد پر دستخط کرنے والوں میں اتحادی جماعتوں کے ارکان کو بھی شامل کرنا چاہتی ہے تاکہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کی صورت میں سپیکر پی ٹی آئی کے باغی ارکان کو کو شمار کرنے سے انکار نہ کر دے یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن سب سے پہلے سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا سوچ رہی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں ”پیکا آرڈیننس“ کا موثر دفاع کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ ”آزاد صحافت کو پیکا ترمیمی آرڈیننس سے کوئی خطرہ نہیں“ کوئی ذی شعور یہ استدلال تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”آزادی صحافت کے نام پر یہاں مافیاز بیٹھے ہوئے ہیں۔“

ایسا دکھائی دیتا ہے۔ امریکی صدر کا فون نہ آنے پر وزیر اعظم پاکستان کو امریکی بلاک سے نکال کر روسی اور چینی بلاک میں شامل ہونے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہے ان کا یہ کہنا بھی درست نہیں کہ پاکستان کی سابق حکومتوں نے ڈرون حملوں پر احتجاج نہیں کیا وزیر اعظم کی سوئی ابھی ”جادو ٹونے“ پر اٹکی ہوئی ہے۔ ان کے خطاب میں جادو ٹونے کی خبریں دینے والے صحافی تختہ مشق بنے رہے۔

متحدہ اپوزیشن کی طرف سے تحریک عدم اعتماد کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے جہاں پارلیمانی جماعتوں سے رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ وہاں مولانا فضل الرحمنٰ، نواز شریف، آصف علی زرداری اور شہباز شریف کے درمیان تحریک عدم اعتماد کے ٹائم لائن پر بھی مشاورت ہوئی ہے۔ آصف علی زرداری بھی اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان بھی تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کے لئے سرگرم عمل ہو گئے ہیں اور تحریک عدم اعتماد کا محاذ خود سنبھال لیا ہے۔

انہوں منگل کو ہونے والا وفاقی کابینہ کا اجلاس منسوخ کر کے چوہدری برادران سے ملاقات کے لئے لاہور پہنچ گئے چوہدری برادران سے وزیر اعظم عمران خان کی ملاقات کے حوالے سے تین چار کہانیاں ”سیاسی بازار“ میں فروخت ہو رہی ہیں۔ کسی کہانی کے مصدقہ ہونے کے بارے میں نہیں کہا جا سکتا چوہدری برادران نے خود کنفیوژن کی فضا پیدا کر رکھا ہے کیونکہ وہ تحریک عدم اعتماد کی حمایت یا مخالفت کی بھاری قیمت وصول کرنا چاہتے ہیں۔

چوہدری برادران نے شہباز شریف سے تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں مسلم لیگ (ن) اور (ق) کے درمیان تعلقات کار اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے سوالات اٹھائے ہیں۔ مسلم لیگ ق وزارت اعلیٰ سے کم پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار نہیں۔ ملاقات کے بعد حکومتی حلقوں نے یہ تاثر دیا ہے۔ چوہدری برادران کہیں نہیں جا رہے عمران خان کے ساتھ کھڑے رہیں گے جس پر طارق بشیر چیمہ نے عمران خان اور چوہدری برادران ملاقات بارے بیان جاری کر دیا ”ہم نے حکومت کی حمایت کرنے کے متعلق کوئی بیان نہیں دیا وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین کی عیادت کے لئے تشریف لائے تھے۔ وزیراعظم نے ادھر ادھر کی گفتگو کے بعد اپنے دورۂ روس بارے میں اعتماد میں لیا تحریک عدم اعتماد پر سرے سے کوئی بات ہی نہیں ہوئی“

بظاہر مسلم لیگ (ن) کی اعلی قیادت چوہدری پرویز الہی کو وزارت اعلیٰ دینے بارے ہچکچا رہی تھی لیکن رانا ثناء اللہ نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ کہا ہے۔ کہ ”ملک پر مسلط عذاب سے جان چھڑانے کے لئے مسلم لیگ (ق) کو وزارت اعلیٰ دینا ممکن ہے“ جب کہ فواد چوہدری نے مسلم لیگ (ن) حمایت میں بیان داغ دیا ہے کہ ”پیپلز پارٹی کو وزارت عظمیٰ اور مسلم لیگ (ق) کو وزارت اعلیٰ دینی ہے تو کیا خود مسلم لیگ (ن) پکوڑے بیچے گی؟“

وزارت اعلیٰ کی کنٹرا ورسی میں نواز شریف کے ترجمان محمد زبیر بھی شامل ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانا مسلم لیگ نون کی ترجیح نہیں ہے۔

پیپلز پارٹی مہنگائی مارچ پنجاب میں داخل ہو گیا ہے۔ مہنگائی مارچ 9 مارچ کو اسلام آباد پہنچے گا۔ جہاں سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر روات کے قریب اس کا استقبال کریں گے۔ پی ڈی ایم نے مارچ میں لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے برطانیہ میں زیر علاج پی ٹی آئی رہنما جہانگیر خان ترین سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے ان کی خیریت دریافت کی وزیر اعظم نے ایک سال میں پہلی بار جہانگیر ترین سے رابطہ قائم کیا ہے۔ تحریک عدم اعتماد کے تناظر میں ان کا ٹیلی فونک رابطہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جہانگیر ترین ایک بار پھر عمران خان کو گرم پانیوں سے نکالنے میں مدد دیتے ہیں کہ نہیں۔

Facebook Comments HS