رنی کوٹ قلعہ دراصل قدیم نیرون کوٹ قلعہ ہے

رنی کوٹ قلعہ کو کچھ لوگ اردو میں رانی کوٹ لکھتے ہیں جو درست نہیں۔ اس قلعہ پر نام کسی رانی (Queen) کے حوالے سے نہیں پر قلعہ میں سے بہتی ہوئی برساتی ندی کی وجہ سے پڑا ہے۔ عظیم دیوار سندھ رنی کوٹ قلعہ سندھ کے موجودہ ضلع جامشورو کے شہر سن کے مغرب میں 35 کلومیٹر کے فاصلے پر کیرتھر سلسلے کی لکی پہاڑیوں پر موجود ہے۔ اس قلعہ کا احاطہ یا لمبائی 32 کلومیٹر ہے۔ رنی کوٹ کے چار دروازے ہیں۔ مغرب میں موہن گیٹ، شمال میں آمری گیٹ جو پہلے بودھی (بدھ مت کی) پل کے نام سے تاریخ میں درج ہے مگر بعد میں آمری گیٹ سے مشہور ہوا، تیسرا جنوب میں شاہ پر یا شاہ پیر گیٹ جو ایران کے شہر شاپور کی نشاندہی ہے۔ چوتھا سن گیٹ جو بعد کا نام لگتا ہے۔
رنی کوٹ کے نام پر غور کرتے ہیں تو یہ نام قلعہ کے درمیان میں سے بہتی برساتی ندی کی وجہ سے پڑا۔ برساتی ندی کو سندھی زبان میں ’نئں یا نئے‘ کہتے ہیں۔ رنی کوٹ میں سے بہتی ندی کو اب ’رنی‘ کہتے ہیں مگر اس کا قدیم نام ’نئں یا نئے رون‘ تھا جس کا ذکر کتاب چچ نامہ میں ہے۔ رون کا سندھی زبان میں مطلب ہے، پانی جب کسی بند یا دیگر جگہ سے چھپے انداز میں اندرونی طور سوراخ کر کے باہر بہنے لگے۔ جیسے دریا کے بند کو اندر سے چھپے انداز میں سوراخ ہوتا ہے اور بڑھتا ہے تو شگاف کی صورت اختیار کرتا ہے۔ اس طرح برساتی ندی یا نئں موہن گیٹ سے رون (سوراخ) کی طرح بہتی سن گیٹ سے باہر نکلتی ہے۔ اس ندی میں قدرتی چشموں کا پانی مستقل بہتا رہتا ہے۔ مقامی لوگ رنی کوٹ کے اندر چھوٹی سی وادیوں کی زمین سیراب کرتے اور فصل اگاتے ہیں۔ رنی کوٹ میں اس پانی سے وادیاں سرسبز اور سحر انگیز نظر آتی ہیں۔
اس نئں یا برساتی ندی کو پہلے نئں رون بعد میں نئں رون سی نئں رونی، نئں رونی سے نئں رینی اور پھر رنی کہا گیا۔ اس نئں سے گھرا ہوا کوٹ یا قلعہ رنی کوٹ ہے۔ محمد بن قاسم کی مہم کے دوران عربوں نے اسے نیرون (نئں رون) کوٹ کہا اور بعد میں اسے رونی کوٹ۔ بعد میں رنی کوٹ کہا گیا اور اب تک رنی کوٹ سے ہی مشہور ہے۔
رنی کوٹ قلعہ کے احاطے میں تین چھوٹے قلعے ہیں۔ میری کوٹ، شیر گڑھ اور موہن کوٹ۔ میری کوٹ رنی کوٹ قلعہ کے مرکز میں اونچی پہاڑی پر ہے۔ شیر گڑھ میری کوٹ کے شمال میں بلند چٹان پر ہے جب کہ موہن کوٹ مغرب میں موہن گیٹ کے قریب جنوبی بلند پہاڑی پر ہے۔ میری کوٹ دفاعی قلعہ کے ساتھ ساتھ شاہی رہائشی قلعہ بھی ہے۔ شیر گڑھ قلعہ ایسی جگہ پر ہے جو سر کرنا بہت مشکل ہے۔ میرے خیال کے مطابق یہ وہ قلعہ تھا جسے سر کرنے یا فتح کرنے سے پورا رنی کوٹ قلعہ فتح ہو جاتا ہو گا۔ اس وقت شیر گڑھ کا راستہ کچھ بہتر کیا گیا ہے اور سیاح تھوڑی تکلیف کے بعد سر کر سکتا ہے۔ شیر گڑھ قلعہ کی تعمیر میری کوٹ سے ملتی جلتی ہے۔ جب کہ موہن قلعہ کی تعمیر کچھ قدر سادہ ہے۔ رنی کوٹ کی طرح میری کوٹ، شیر گڑھ قلعہ اور موہن قلعہ پر بھی چلنے کے لئے فوٹ پیریاں اور دفاعی مورچے ہیں۔
رنی کوٹ قلعہ کی تاریخ کو جان بوجھ کر متضاد بنایا گیا ہے۔ پہلی متضاد رائے سندھ کے محقق ڈاکٹر نبی بخش بلوچ (لغاری) نے ایک شاعر کے ذکر سے دی ہے اور لکھا ہے کہ سندھ میں تالپور حکمرانوں کے حکم پر نواب ولی محمد لغاری نے رنی کوٹ تعمیر کروایا تھا۔ بلوچ کی رائے کسی تاریخی ماخذ کے حوالے کے بغیر صحتمند نہیں لگتی۔ تاہم اکثر محققوں نے بلوچ کی تقلید کی۔ یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ تالپور حکمرانوں نے قلعہ کے کچھ حصوں کی مرمت کروائی ہو۔ سندھ کی تاریخ میں حوالہ جات موجود ہیں کہ تالپوروں سے پہلے کلہوڑا حکمرانوں نے رنی کوٹ کو دارالحکومت بنانے کا فیصلہ کیا تھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رنی کوٹ تالپوروں سے پہلے موجود تھا۔
معروف آرکیالوجسٹ پائلو بائیجی اور ان کے ساتھیوں نے رنی کوٹ قلعے کی کاربن ڈیٹنگ کی تھی مگر اس کا سیمپل سن گیٹ سے باہر بعد کے تعمیر کیے گئے پلر سے لئے تھے۔ کاربن ڈیٹنگ کے بعد ثابت کرنے کی کوشش کی کہ رنی کوٹ قلعہ 1812 ء میں تعمیر ہوا تھا۔ اکثر محققین نے پائلو بائجی کی کاربن ڈیٹنگ کو رد کیا ہے اور کہا ہے کہ کاربن ڈیٹنگ کے لئے سیمپل رنی کوٹ کی کسی پرانی دیوار سے لئے جاتے تو یقین کیا جا سکتا تھا۔
سندھ کے مشہور مورخ ایم ایچ پنہور نے لکھا ہے کہ 1526 ء میں مغل بابر نے ہندستان پر حملے کے وقت رنی کوٹ میں قیام کیا تھا۔
بلا شبہ رنی کوٹ بہت قدیم ہے۔ میری کوٹ کے دروازے ہر سورج مکھی پھول نقش ہے جو ایران کے علاوہ ہندو اور دوسرے مذاہب میں متبرک ہے۔ کنول کے پھولوں کی نقش نگاری بدھ مت کو ظاہر کرتی ہے۔ مور پرندے کی نقش نگاری جو مختلف غیر مسلم مذاہب کی مذہبی علامت ہے، رنی کوٹ قلعہ کے اندر اور باہر شاہ پر گیٹ کے قریب زرتشتی آثار ہیں جو سندھ پر ایرانی غلبے کی نشاندہی کرتے ہیں اور قلعہ کی قدامت پر روشنی ڈالتے ہیں۔
رنی کوٹ کی تعمیر اور ایران کے ساسانی دور کے گورگان اور فلک الفلک قلعوں میں مماثلت بھی اس قلعہ کی قدامت کی شاہد ہے۔ سن گیٹ کے قریب گنبد والی تعمیر کو بدھ مت کی یادگار مانا جاتا ہے کیوں کہ یہ مسجد ہوتی تو اس کا محراب ہوتا۔ اگر اس میں قبر ہوتی تو مقبرہ مانا جاتا۔ اس کے علاوہ بدھ مت کے دوسرے آثار اور باقیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ قلعہ تالپور اور کلہوڑا دور سے قدیم ہے۔ بڑی بات کہ رنی کوٹ کے موہن گیٹ اور موہن قلعہ کا نام غیر اسلامی ہے جو قلعے کی تالپور دور سے پہلے ہونے کی تصدیق کرتا ہے۔ کیوں کہ مسلمان موہن نام نہیں رکھ سکتا۔ جید مورخین کی رائے ہے کہ رنی کوٹ سندھ پر ساسانی حکمرانی کے دور میں تعمیر ہوا تھا۔
رنی کوٹ میں پہاڑوں پر قدیم تحریریں بھی نقش ہیں۔ یہ تحریریں کسی مقامی قدیم رسم الخط میں نقش کی گئی ہیں۔ تحریریں قدیم براہمی رسم الخط یا کسی اور علیحدہ رسم الخط میں نقش کی گئی ہیں۔ پہاڑوں پر نقش کی گئی یہ تحریریں بھی رنی کوٹ کی قدامت پر روشنی ڈالتی ہیں اور ثابت کرتی ہیں کہ رنی کوٹ تالپور دور سے پہلے قائم تھا اور لوگ پہلے مقیم تھے۔
کچھ مورخوں اور محققوں کی رائے ہے کہ یہ قلعہ سندھ میں راء خاندان کے دور میں تعمیر ہوا۔ راء خاندان اور برہمن خاندان کے دور میں نیرون کوٹ کے نام سے موجود تھا۔ چچ نامہ کے مطابق یہ قلعہ برہمن خاندان کے دور میں نیرون کوٹ کے نام سے صفحہ ہستی پر تھا۔ سندھ کی تاریخ پر پہلی کتاب چچ نامہ سے ظاہر ہوتا ہے کی محمد بن قاسم دیبل فتح کرنے کے بعد ساکرو (موجودہ ضلع ٹھٹھا) سے نیرون کوٹ کی طرف بڑھا تھا اور نیرون کوٹ کی فتح کے بعد میں سیوستان (سیہون) کی طرف بڑھا تھا۔ چچ نامہ میں نیرون کوٹ کا دیبل سے فاصلہ، نیرون کوٹ کا راستہ، محل وقوع اور کوٹ کے جو دروازے بیان کیے گئے ہیں وہ رنی کوٹ کو ظاہر کرتے ہیں۔ میری رائے کے مطابق رنی کوٹ قلعہ ہی قدیم نیرون کوٹ قلعہ ہے جو سندھ پر ساسانی دور حکومت کی یادگار ہے۔









