لڑکی ان پڑھ ہو یا پڑھی لکھی؟


ایک صاحب نے سوال کیا کہ: شادی کا ارادہ ہے، اکثر ساتھیوں نے مشورہ دیا ہے کہ اگر ان پڑھ لڑکی سے شادی کرو گے تو سکون پاؤ گے۔ اس بارے میں آپ کیا

کہتے ہیں؟

عرض کیا: اگر آپ کے دوست ان پڑھ لڑکی سے شادی کا مشورہ اس لیے دیتے کہ ان پڑھ لڑکی بھی انسان ہے، ممکن ہے غربت یا کسی اور مجبوری کی وجہ سے نہ پڑھ سکی ہو، اب اگر ہم بھی ایسی لڑکیوں سے شادی نہ کریں یا ان کو اچھا رشتہ نہ ملے تو ان کی الجھنیں بڑھ کر ساری عمر احساس کمتری میں مبتلا رہیں گی جو ان کے ساتھ زیادتی ہے، تو یقیناً یہ ایک مثبت سوچ ہوتی جو عورتوں کے حوالے سے ان کے اچھے احساس پر دلالت کرتی، اور اگر آپ بھی اسی سوچ کے تحت کسی ان پڑھ، بے بس اور غریب لڑکی سے شادی کرتے ہیں تو یہ بھی یقیناً باعث اجر ہو گا لیکن آپ کے دوستوں کے اس جملے ”سکون پاؤ گے“ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی نیت درست نہیں ہے۔

وجہ اس کی یہ ہے کہ اس قسم کے مرد ان پڑھ لڑکی سے شادی کرنا اس لیے پسند کرتے ہیں کہ عموماً اس بے چاری کو اپنے حقوق کا پتہ نہیں ہوتا، وہ ہر بات پر شوہر کے ہاں میں ہاں ملاتی ہے، اگرچہ اس کی بات غلط اور وہ پرلے درجے کا نالائق کیوں نہ ہو، وہ شوہر کے ساتھ ساتھ ہر وقت ساس، نند، جیٹھ اور جیٹھانی کی تابعدار رہتی ہے، شوہر دوسری سے شادی رچائے تو یہ اس کی خادمہ خاص بن جاتی ہے۔

اسے نیچا دکھایا جاسکتا ہے، پورے گھر میں کوئی بھی کسی بھی وقت کچھ بھی سنا کر اس کی عزت نفس مجروح کر سکتا ہے، شوہر نامدار اگر دیہات کا رہنے والا ہو اور اس کے گھر میں ایک عدد بھینس، گائے یا بکری ہو تو دن کو گھر کے کام کاج کے ساتھ اس کی دیکھ بھال اور پانی چارے کا انتظام بھی اسی ان پڑھ نے بغیر چوں چرا کے کرنا ہوتا ہے اور پھر رات کو اسے خوش بھی کرنا ہوتا ہے۔ نہیں، تو سرتاج نے اس ان پڑھ کے معقول اور غیر معقول تمام تر عذار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جھٹ سے تنور والی حدیث سنا دینی ہے، کیونکہ ان پڑھ کو آسانی سے قائل کیا جاسکتا ہے کہ بیوی شوہر کی ملکیت ہوتی ہے اور وہ جیسا چاہے اس کے ساتھ سلوک کر سکتا ہے۔

ان پڑھ بیوی پر کسی بھی وقت بلا وجہ اپنی فرسٹریشن اور غصہ نکالا جاسکتا ہے، اسے مارا، دبایا بھی جاسکتا ہے اور گالیاں بھی دی جا سکتی ہیں۔ الغرض ان پڑھ بیوی ایک ایسے پھل کی ما نند ہوتی ہے کہ جس کا ذائقہ بھی میٹھا ہوتا ہے اور دیکھنے میں بھی اچھا لگتا ہے، اس کے ساتھ زندگی گزارتے ہوئے شوہر بے شمار زیادتیوں کا مرتکب ہوتا ہے لیکن وہ اپنی سادگی اور بھولے پن کی وجہ سے اس کے ظلم کے سامنے رکاوٹ نہیں بنتی اور یوں میاں صاحب آسانی کے ساتھ بارعب شوہر اور اچھا خاصا نامور ظالم بن کر ساری زندگی جی لیتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ اپنے ظالم ہونے کا احساس اس کو آخر تک نہیں ہوتا۔

اور کیونکہ ایسے لوگوں کو نرم اور شفیق بننے کی بنسبت ظالم بننا زیادہ اچھا لگتا ہے اس لیے انہیں ان پڑھ خود بھی پسند ہوتی ہے اور دوسروں کو بھی یہی مشورہ دیتے ہیں۔ انہوں نے ساری زندگی شوہر کی بربریت، وحشیت اور ظلم سہنے والی لڑکی کا نام مظلوم کے بجائے ”شریف اور خاندانی عورت“ رکھا ہے۔ اور اگر وہ اس وحشیانہ برتاؤ کے خلاف بغاوت کرے تو پھر وہ شریف رہتی ہے اور نہ ہی خاندانی۔ کیونکہ انہیں اس ان پڑھ کو زد و کوب کرنے کی باہر تک آتی آوازیں قبول ہیں مگر تشدد اور بربریت کے خلاف آواز اٹھانا یا انصاف مانگنا قبول نہیں۔

وہ ماں کی تو بہت عزت کرتے ہیں مگر بیوی کو وہ اپنی اولاد کی ماں کا درجہ دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ پڑھی لکھی لڑکی۔ البتہ ایسی نہیں ہوتی۔ وہ تھوڑی سی بولڈ ہوتی ہے، پوچھتی ہے، غصہ کرتی ہے، سوال کرتی ہے، اپنا حق مانگتی ہے اور نہ ملنے کی صورت میں آپ کے خلاف قانونی کارروائی بھی کر سکتی ہے، اس کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہوئے مگر شوہر کئی برائیوں کے ارتکاب سے بچ جاتا ہے، ہاں! اس کے اندر کے فرعون کو فرعونیت دکھانے کا موقع البتہ زیادہ نہیں ملتا اور بظاہر لگتا یہی ہے کہ آپ کو مشورہ دینے والے دوست یہی نہیں چاہتے۔ چنانچہ آج بھی ہمارے ہاں دیہاتوں میں جاہل تو رہے ایک طرف بے شمار دینی اور عصری علوم کے فیض یافتہ بھی آپ کو اسی سوچ کے حامل نظر آئیں گے ”

المیہ مگر یہ ہے کہ ایک طرف کچھ لوگ ہمارے معاشرے میں صنف نازک کے ساتھ روا رکھے جانے والے ناروا سلوک اور اس کے ساتھ ہونے والی بے انصافی ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں، جبکہ دوسری طرف دو تین سالوں سے (میرا جسم میری مرضی) والی تحریک کی آنٹیاں عورت ذات کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتی نظر آتی ہیں۔

انہوں نے ”میں آوارہ میں بدچلن“ لو جی! بیٹھ گئی صحیح سے ”عورت بچہ پیدا کرنے کی مشین نہیں ہے“ مجھے کیا معلوم تمہارا موزہ کہاں ہے ”وغیرہ جیسے سلوگنز کا نام عورت کے حقوق رکھا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ چونکہ حیا انسانی جبلت کا جزء لا ینفک ہے، خاص کر عورت چاہے کتنی ہی آوارہ کیوں نہ ہو جائے، وہ اپنی ذات سے شرم و حیا کو یکسر ختم نہیں کر سکتی، اور جب یہ آنٹیاں اپنے جسم پر اپنی مرضی جتا رہی ہوتی ہے تو اس وقت فطرت انہیں اندر سے ملامت کرتی رہتی ہے جس کی وجہ سے یہ مسلسل کلپنے، کی کیفیت سے دوچار رہتی ہیں، سو!

اسی درد سے بچنے، اپنی فطرت کو مسخ کرنے اور بے حیائی کے لیے ماحول سازگار بنانے کے لیے ہی ان کی یہ ساری جنگ جاری ہے۔ جہاں تک بات مرضی کی ہے تو جب خود یہ آنٹیاں چادر اور چاردیواری سے اپنی مرضی سے باہر نکل چکی ہیں، شرٹ اور سکرٹ زیب تن کر چکی ہیں، حیا اور ردائے حیا کو پرے پھینک چکی ہیں اور کوئی ان پر دوپٹہ یا برقعہ اڑنے کے لیے زبردستی بھی نہیں کر رہا تو پھر یہ ہر سال باہر نکل کر چیخنے، چلانے کا سوائے اس کے اور کیا مطلب ہو سکتا ہے کہ یہ آنٹیاں در اصل دیگر اسلام پسند خواتین کو ان کی مرضی کے برخلاف اپنی صف میں لانا چاہتی ہیں۔

اگر بات مرضی ہی کی ہے تو جیسے بے پردگی میں ان کی اپنی مرضی شامل ہے ایسے ہی باپردہ رہنے والی خواتین بھی پردہ اپنی مرضی ہی سے تو کرتی ہیں۔ خلاصہ یہ ہوا کہ ایک مائنڈ سیٹ عورت کے ساتھ برتی جانی والی نا انصافی کا انکاری ہے اور دوسرے نے واہیات کا نام حقوق رکھا ہے۔ جب تک درمیانی راہ اختیار کرتے ہوئے عورت کے جائز حقوق اور اس کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں نہیں کی جائیں گی تب تک اصل مظلوم عورت بدستور مظلوم ہی رہے گی۔

Facebook Comments HS