تحریک عدم اعتماد پر 86 دستخط، سیاسی پینترے اور فضل الرحمنٰ کی دھمکی

وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو یا ناکام ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا آنا ان کا مقدر بن چکا تھا۔ سو اپوزیشن کے 86 ارکان کے دستخطوں سے سابق سپیکر ایاز صادق، رانا ثنا اللہ، خواجہ سعد رفیق، پیپلز پارٹی کے رہنما شازیہ مری، سید خورشید شاہ اور نوید قمر نے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کے لئے اپنی ریکوزیشن سپیکر چیمبر میں جمع کرا دی۔
وزیراعظم عمران خان نے تحریک عدم اعتماد پر فوری رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ”اپوزیشن کو کو ایسی شکست دیں گے کہ یہ 2028 تک اٹھ نہیں سکے گی۔ کپتان اپنی حکمت عملی نہیں بتاتا، نومبر بہت دور ہے جب وقت آئے گا تو فیصلہ کریں گے۔ جہانگیر ترین کو جانتا ہوں وہ کبھی چوروں کا ساتھ نہیں دیں گے۔ اپوزیشن کے پیچھے ایک نہیں بلکہ کئی بیرونی ہاتھ ہیں۔ ارکان کو 18,18 کروڑ کی آفرز کی جا رہی ہیں۔ ارکان سے کہا کہ ان سے پیسے لیں اور غریبوں میں بانٹ دیں۔ حکومت کہیں نہیں جا رہی بلکہ وہ مزید تگڑی ہو کر آئے گی۔ میں خوش ہوں کہ یہ ان کی آخری واردات ہو گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار آسان ٹارگٹ ہیں۔ جو وزیراعلیٰ کے امیدوار ہیں۔ صرف ان کو عثمان بزدار برا لگتا ہے۔ اپوزیشن کے ساتھ عوام نہیں تو اب یہ کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ساتھ ہے۔ اس وقت مائنڈ گیم چل رہی ہے اور میں مائنڈ گیم کا ماسٹر ہوں“ وزیراعظم عمران خان نے شعر پڑھتے ہوئے کہا کہ خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کر دے
مولانا فضل الرحمنٰ نے دھمکی کا جواب دیا ہے۔ عمران ہوتے کون ہیں جو ہمیں دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ہمارے کارکنوں کے پاس تیل میں بھگوئے ڈنڈے موجود ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ”عوامی مارچ“ کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم کو دھمکی دی ہے کہ وہ خود ہی مستعفی ہو کر چلے جائیں ورنہ ہم ان پر ”حملہ آور“ ہو جائیں گے۔ تاہم انہوں نے غیر سیاسی بات کی ہے کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی 100 فیصد ضمانت نہیں دی جا سکتی جب کہ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن خاصے پر امید دکھائی دیتے ہیں کہ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے ”نگ“ پورے ہو گئے ہیں، سلیکٹیڈ حکومت کے خاتمے کے لئے ہماری تیاریاں مکمل ہیں، تحریک عدم اعتماد ضرور کامیاب ہو گی۔
تازہ ترین اطلاع کے مطابق بلوچستان سے جمعیت علما اسلام کے ایک رکن نے بغاوت کر دی ہے۔ اسے تحریک عدم اعتماد میں غیر ملکی سازش کی بو آ گئی ہے۔
لندن میں زیر علاج پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کو ڈاکٹروں نے سفر کی اجازت دے دی ہے۔ جہانگیر ترین کی ایک دو روز میں لندن سے روانگی کا امکان ہے۔ سر دست پاکستان مسلم لیگ (ق) تحریک عدم اعتماد کی کی دوڑ سے باہر ہو گئی ہے۔ اس کی جگہ جہانگیر ترین گروپ نے لے لی ہے جو ہر قیمت پر عمران خان کی چھٹی کروانے پر تلا ہوا ہے۔ سیاسی افق پر جہانگیر ترین کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے جوں جوں تحریک عدم اعتماد کی تاریخ قریب آ رہی ہے، وزیر اعظم عمران کے لب و لہجہ میں تلخی بڑھ رہی ہے۔ اب تو وزیر اعظم اپوزیشن کو دھمکیاں دینے پر اتر آئے ہیں۔
میلسی میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں اپوزیشن کو چیلنج دیا ہے کہ ”میں تحریک عدم اعتماد کے لئے تیار ہوں اس کی ناکامی کے بعد میں جو اس کے ساتھ کروں گا وہ اس کے لئے تیار رہے“ گویا وہ اپوزیشن کو ڈرا دھمکا رہے ہیں کہ اگر تحریک عدم اعتماد ناکام ہو گئی تو ان کا جینا دوبھر کر دوں گا۔
خان صاحب نے پہلے اپوزیشن کو سکھ کا سانس لینے دیا ہے۔ پچھلے پونے چار سال کے دوران انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین کا عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے۔ وزیر اعظم کا میلسی میں خطاب سن کر ایسا دکھائی میں دیتا ہے۔ ان سے اقتدار چھیننے کی کوششوں پر وہ بہت برہم ہیں۔ غصہ کے عالم میں انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین کو خوب رگیدا ہے اور ذاتی حملے کیے جو ایک وزیر اعظم کے شایان شان نہیں تھے۔
یہ سب کچھ ان کی گھبراہٹ ہی تو تھی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں سیاسی مخالفین کو ”بھگوڑا، فضلو، ڈیزل، بلیکیا، ٹین پرسنٹ، شو باز“ جیسے القابات سے نوازتے رہے انہوں نے کہا لندن میں بیٹھے ہوئے بھگوڑے سے اگر پیسہ واپس آ گیا تو پٹرول، ڈیزل کی قیمت آدھی کردوں گا۔ شہباز شریف کو کوئی بھی بوٹ نظر آئے تو وہ اس کی پالش شروع کر دیتے ہیں۔ فضل الرحمن کو مولانا نہیں کہوں گا کیوں کہ جو ڈیزل کے پرمٹ کو بیچ کر پیسے بنائے وہ معتبر نہیں، 25 سال قبل ان کا مقابلہ کرنے آیا تھا جب تک جسم میں خون ہے، مقابلہ کروں گا۔ میری پوری تیاری ہے کہ یہ جو بھی کریں ان کا مقابلہ کروں گا۔
وزیراعظم عمران خان نے جنوبی پنجاب کے لئے مزید 500 ارب روپے مختص کرنے اور اسے الگ صوبہ بنانے کے لئے قومی اسمبلی میں آئینی ترمیمی بل پیش کرنے کا اعلان کاہے انہوں یہ اعلان اس وقت کیا جب ان کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد آ رہی تھی۔ انہوں نے کہا ہے۔ ”سپریم کورٹ نے نواز شریف کو سزا دی وہ اداکاری کر کے منتیں کر کے باہر چلا گیا۔ کیا کبھی گیدڑ بھی لیڈر بن سکتا ہے؟ لیڈر دوسری بار دم دبا کر بھاگ گیا“ ۔
انہوں نے کہا کہ جیل میں نواز شریف کے آنسو پونچھتے پونچھتے ٹشو کے ڈبے ختم ہو گئے۔ تین بار ملک کا وزیراعظم شاپنگ، عید اور چھٹیاں باہر، یہ کون لوگ ہیں جو عدم اعتماد کی تحریک چلا رہے ہیں۔ یہ ہے وہ نمبر ون جو تحریک عدم اعتماد لانا چاہتا ہے تا کہ ملک دوبارہ لوٹے، شہباز شریف کا پتہ کروانا ہو تو کہیں سے مقصود چپڑاسی کو لے آئیں، شہباز شریف اب زمانہ بدل گیا ہے۔ اب آپ کو جواب دینا ہو گا۔ انہیں جیل جانے کا ڈر ہے اس لئے وہ تحریک عدم اعتماد کی کوشش کر رہے ہیں۔
نواز شریف، شہباز شریف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن یہ چار لوگ عدم اعتماد لا رہے ہیں۔ اب تو سرکاری ترجمانوں نے یہ راگ بھی الاپنا شروع کر دیا ہے۔ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں غیر ملکی قوتوں کا ہاتھ ہے۔ اس سے حکومت کی بوکھلاہٹ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
تحریک عدم اعتماد کی وجہ سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا ہے۔ مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے طویل عرصے بعد دارالحکومت اسلام آباد جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ چوہدری شجاعت حسین بھی اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر و اپوزیشن لیڈر شہباز شریف بھی اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ انہوں مسلم لیگ (ن) کی قومی اسمبلی میں پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کی اور پارٹی ارکان کو تحریک عدم اعتماد کے بارے میں اعتماد میں لیا۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ق) کے ترجمان نے تردید کی ہے۔ کہا کہ چوہدری شجاعت حسین کا اسلام آباد جانے کا کوئی پروگرام نہیں، ڈاکٹروں نے انہیں سفر کی اجازت نہیں دی پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن میاں شہباز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیان طویل ملاقات کے بعد منگل کو وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لئے ریکویزیشن بھی جمع کرا دی ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی کا اجلاس 14 روز کے اندر بلانے کا پابند ہے۔ اس مدت کے اندر تحریک عدم اعتماد زیر بحث لانا اور ووٹنگ کرانا سپیکر کی آئینی ذمہ داری ہے۔
مسلم لیگ (ق) کے صدر اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے وزیراعظم عمران خان کے نام پیغام میں کہا ہے کہ وہ اپنے مشیروں سے محتاط رہیں، مجھے حیرانی ہے کہ تحریک انصاف کی طرف سے میڈیا ہاؤسز کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟ وزیر اعظم کے مشیر غلط بیانی سے حکومت اور میڈیا کے درمیان خلیج حائل کر رہے ہیں۔ آزادی اظہار رائے جمہوریت کا حسن ہے۔ وزیر اعظم نے مجھے میڈیا ہاؤسز اور حکومت کے درمیان پیکا آرڈیننس کے حوالے سے معاملات سلجھانے کا ٹاسک دیا ہے۔
چوہدری پرویز الہی نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ تحریک انصاف کے ارکان کو میڈیا میں جانے سے روکنے کی اطلاعات ہیں۔ اپنے ارکان کو مخصوص چینلز میں نہ جانے دینے پر تشویش ہے۔ اس سے تحریک انصاف اپنا نقطہ نظر متوازن طریقے سے عوام کے سامنے نہیں رکھ پائے گی۔ وزیر اعظم اور پارٹی قیادت سے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کرتے ہیں۔
چند اخبارات اور میڈیا ہاؤسز کے اشتہارات بند کرنے پر بھی اظہار تشویش کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا ہے کہ آزادی اظہار رائے جمہوریت کا حسن ہے۔ وزیر اعظم نے مجھے میڈیا ہاؤسز اور حکومت کے درمیان پیکا آرڈیننس کے حوالے سے معاملات سلجھانے کا ٹاسک دیا ہے۔ لیکن مجھے حیرانی ہے کہ تحریک انصاف کی طرف سے میڈیا ہاؤسز کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اشتہارات پر پابندی بظاہر پیکا آرڈیننس کے تناظر میں لگائی گئی ہے۔ سرکاری اشتہارات عوام کے پیسے ہیں جن کو مخصوص اخبارات اور چینل کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد جو اپنی وزارت کی طرف کم توجہ دیتے ہیں، عمران خان کے سیاسی محاذ پر اپنی اہمیت بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں قبل از وقت انتخابات کے لئے اپوزیشن کو حکومت کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش کر دی اور کہا ہے کہ بات چیت ہونی چاہیے، حالات ہی ایسے ہیں۔ اتحادیوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن میں شامل جماعتوں سے بھی مذاکرات ہوں اور یہ کہ مل بیٹھ کر بات کرنے سے مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا ”جو انتخابات پانچ سال بعد ہونے ہیں۔ وہ ایک سال، چھ ماہ پہلے بھی ہو سکتے ہیں۔ اگر چھ مہینے پہلے بھی الیکشن ہو جائیں تو کیا قیامت آ جائے گی؟ آئیں ہم سے بات کریں“ ۔ تاہم بعد ازاں شیخ رشید نے وضاحت کر دی کہ کہ یہ میرا ذاتی خیال ہے۔ حکومت کی پالیسی نہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کو پاکستان تحریک انصاف کے ناراض رہنما اور سابق سینئر صوبائی علیم خان نے بھی ”بغاوت“ کر دی ہے اور باقاعدہ جہانگیر ترین گروپ میں شمولیت کا اعلان کر دیا اور کہا ہے کہ ”وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد آئی تو ہم جہانگیر ترین اور دیگر رہنماؤں سے مشورہ کریں گے کہ کس کا ساتھ دینا ہے۔ فی الوقت کوئی فیصلہ نہیں کیا، 4 دنوں میں 40 سے زیادہ ارکان صوبائی اسمبلی سے ملاقات کر چکا ہوں، اکثریت نے پنجاب میں طرز حکمرانی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ میں نے وزیراعلیٰ پنجاب بننے کے لئے عمران خان کا ساتھ نہیں دیا تھا بلکہ میرے پاس پنجاب حکومت سے زیادہ اچھی گاڑیاں اور جہاز ہیں۔“
جہانگیر ترین گروپ کا لاہور میں اہم مشاورتی اجلاس ہوا جہانگیر ترین لندن سے ویڈیو لنک پر شریک ہوئے۔ اجلاس میں 3 صوبائی وزرا سمیت مجموعی طور پر پنجاب کے 19 ارکان شریک ہوئے، ایم این ایز کو اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ ان کا اجلاس الگ طلب کیا جائے گا۔ علیم خان سے ملاقات کرنے والوں میں صوبائی وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک، صوبائی وزیر ہاشم ڈوگر، صوبائی وزیر وائلڈ لائف اینڈ فشریز صمصام بخاری، صوبائی وزیر خصوصی تعلیم محمد اخلاق شامل تھے۔
اس موقع پر سعید اکبر نوانی اور نعمان لنگڑیال نے کہا کہ ہم اپنے گروپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ علیم خان اور ترین گروپ نے فارورڈ بلاک بنانے، بزدار کو ہٹانے کے لئے جدوجہد کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں جہانگیر ترین گروپ کے ارکان نے موقف اختیار کیا ہے کہ عثمان بزدار کو ہٹانے سے کم پر بات نہیں ہو گی۔ گروپ کے ارکان کی اکثریت نے اہم فیصلوں کا اختیار قیادت کو سونپ دیا، جہانگیر ترین اور علیم خان پی ٹی آئی کے دیگر اراکین سے بھی رابطے کریں گے۔ ارکان کی تعداد 50 سے زائد ہونے پر پاور شو کیا جائے گا۔
مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ عمران خان کے ساتھ جو ہو رہا ہے۔ وہ مکافات عمل کے سوا کچھ نہیں، کرسی اور طاقت کا غلط استعمال اور اس کو دائمی سمجھ لینے والے کا انجام ایسا ہی ہوتا ہے۔ عمران خان کو دیکھ کر عبرت ہوتی ہے۔ انسان کو انسان نا سمجھنے والے کا یہی انجام ہے۔ مجھ سمیت سیاست اور زندگی کے طالب علم ضرور غور کریں، خان صاحب نے صرف مخالفین کو ہی نہیں بلکہ دوسرے ممالک کو بھی گالیاں اور دھمکیاں نہ دیں، اپنی سیاسی مخالفت میں پاکستان کا نقصان کرنے کا اختیار ان کو کس نے دیا؟ ان کو کمرے میں بند کریں ورنہ بندر کے ہاتھ ماچس آ جائے تو آگ لگنے کا خطرہ ہے۔ سیاست میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔ اور حکومت بھی آنی جانی شے ہے۔ تکبر اور ظلم انسان کے آگے آتا ہے۔ نواز شریف پر شاید ذاتی اور سیاسی زندگی کا مشکل ترین وقت تھا۔ ایسے بدترین حالات کے باوجود نواز شریف کا کوئی ساتھی انہیں چھوڑ کر نہیں گیا۔ تکبر اور گھمنڈ کا پہاڑ آج جب ان لوگوں کے در پر حاضری دے رہا ہے جن سے ہاتھ ملانے کو وہ اپنی توہین سمجھتا تھا۔
گزشتہ روز حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کے درمیان ملاقات ہوئی ہے جس میں تحریک عدم اعتماد پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ”عمران خان کون ہوتا ہے جو ہمیں دھمکیاں دے، انہیں پتہ نہیں کہ ہمارے کارکنوں کے گھروں میں تیل میں بھگوئی ہوئی لاٹھیاں پڑی ہوئی ہیں اور ہم ان کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔“
وزیراعظم عمران خان نے ناراض پارٹی رہنماؤں کو منانے کا ٹاسک گورنر سندھ عمران اسماعیل اور وزیر دفاع پرویز خٹک کے سپرد کر دیا ہے۔ اس بات کا فیصلہ پی ٹی آئی کور کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا جو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک اور خصوصی طور جہانگیر ترین اور علیم خان کے اتحاد پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں سینئر پارٹی رہنماؤں نے وزیراعظم کو ناراض ارکان سے خود رابطے کا مشورہ دیا، رہنماؤں کا اصرار تھا کہ وزیراعظم جہانگیر ترین اور علیم خان سے خود رابطہ کریں
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا مہنگائی مارچ اسلام آباد پہنچ گیا سر دست حکومت نے مہنگائی مارچ کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی فی الحال بلاول بھٹو زرداری نے عمران خان سے کہا ہے کہ ان کے پاس 24 گھنٹے ہیں۔ مستعفی ہو جاؤ، اسمبلیاں توڑو اور ہمارا مقابلہ کرو، آپ کو لگ پتہ جائے گا کہ عوام کس کے ساتھ ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے پارٹی کے تمام ارکان پارلیمنٹ کو بیرون ملک سفر سے روک دیا۔ شہباز شریف نے پارٹی ارکان کو سپیکر کے بیرون ملک دوروں میں بھی شامل ہونے سے منع کر دیا ہے۔ صدر مسلم لیگ نون نے ہدایت کی ہے کہ تمام پارٹی ارکان ملک میں موجودگی کو یقینی بنائیں۔
اپوزیشن کا دعوی ہے کہ نمبر پورے ہو گئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیر اعظم تحریک عدم اعتماد کا مقابلہ کرتے ہیں یا استعفیٰ دیتے ہیں۔ اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ تاہم اب تحریک عدم اعتماد جمع ہو جانے کے بعد وزیر اعظم قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس نہیں دے سکتے یہ پاکستان کے چوتھے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد ہوگی چوہدری محمد علی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تھی جب کہ بے نظیر بھٹو اور شوکت عزیز کے خلاف تحاریک عدم اعتماد ناکام ہو چکی ہیں۔
