سازشی تھیوری اور ہمارے وزیراعظم صاحب


عمران خان اور ان کے حواریوں نے تحریک عدم اعتماد کو غیر ملکی سازش کا شاخسانہ قرار دیا تھا۔ ہم تو پہلے ہی لکھ چکے ہیں کہ پی ٹی آئی اب یہی سازش والا چورن بیچے گی۔

عمرانی سیاست چلتی ہی کھوکھلے نعروں اور سبز باغ کی بنیاد پر ہے۔ ان کی عقل سے ماورا باتوں پر سوائے شدید ترین یوتھیوں کے اور کوئی کان دھرنے پر آمادہ نہیں۔

یہ بیرونی ہاتھ اور سازش اگر امریکہ نے کی ہے تو اس کے سارے مطالبات تو آپ نے مان لیے۔ سی پیک پر کام روک دیا، سٹیٹ بینک آئی ایم ایف کے حوالے کر دیا، روپے کی قیمت گراتے گراتے اسے زمیں بوس کر دیا۔ پھر امریکہ سازش کیوں کرے گا؟

اگر یہ سازش بھارت کر رہا ہے تو اس کے وزیراعظم مودی کے الیکشن جیتنے کی دعائیں اور تمنائیں آپ تواتر سے کر رہے تھے اور جب مودی الیکشن جیت گیا تو آپ کی توقع کے عین مطابق اس نے کشمیر ہڑپ کر لیا۔ اب تو یہ بات پائے ثبوت تک پہنچ چکی ہے کہ کشمیر آپ نے امریکہ کے ساتھ مل کر بھارت کو پلیٹ میں رکھ کر پیش کیا تھا۔ سقوط کشمیر کے بعد آپ کی حکومت نے حسب وعدہ رسمی سا احتجاج کیا تھا۔ بھارت پر آپ نے اتنی بڑی مہربانی کی پھر وہ سازش کیوں رچائے گا؟

رہ گیا اسرائیل تو آپ کی پارٹی سے وہاں سے پارٹی فنڈز کی شکل میں ڈھیر سارے ڈالرز ملے ہیں۔ اسرائیلی حکومت کے کل پرزوں سے آپ کی ذاتی دوستیاں ہیں۔ آپ کے وزرا اور اراکین اسمبلی ببانگ دہل اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کرتے ہیں۔ اتنی نوازشوں کے بعد اسرائیل سازش کیوں کرے گا؟

بیرونی طاقتوں میں روس ایک بہت بڑی طاقت ہے۔ یوکرین کے خلاف جنگ میں نہ صرف آپ روس کے ساتھ کھڑے ہیں بلکہ جنگ کا افتتاح بھی آپ نے کیا تھا۔ پوتن کے بارے میں آپ کی پہنچی ہوئی ہستیاں ایسے ایسے انکشافات فرما رہی ہیں کہ اس کے امام مہدی ہونے پر گمان ہونے لگتا ہے۔ لہٰذا روس کے بھی اس سازش میں ملوث ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

پیچھے رہ گئی یورپین یونین۔ تو اس کا سرغنہ اور سرخیل برطانیہ آپ کا سسرالی ہے۔ اگر وہ ملک اتنا ہی سازشی ہوتا تو آپ اپنے بیٹوں کو وہاں کیوں رکھتے؟ اور یوں بھی اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد آپ نے سیدھا برطانیہ بھاگ جانا ہے۔ پھر برطانیہ اور یورپی یونین آپ کے خلاف کیسے سازش کر سکتے ہیں؟

اب پاکستان کے عوام بہت باشعور اور سمجھدار ہو چکے ہیں۔ اس لیے وہ ایسے چورن اور منجن خریدنے کے لیے ہرگز تیار نہیں۔ یہ ملک یوتھستان نہیں پاکستان ہے۔ اس لیے اس طرح کی بے پر کی اڑانے کے بجائے سیدھے سبھاوٴ اپنے سیاسی بلنڈرز تسلیم کریں۔ تبدیلی کے بجائے تباہی کا جرم مان لیں۔ اپنے جھوٹے بیانات اور منافقانہ طرز عمل پر عوام سے معافی مانگیں۔ عدم اعتماد کی تحریک سے پہلے ہی تھوڑی سی خودداری اور ہمت دکھائیں۔ جن اتحادیوں، پارٹی کے وفادار لوگوں اور بہی خواہوں کو آپ نے ساڑھے تین سال سے مسلسل نظرانداز کیے رکھا، آخری وقت میں ان کی چوکھٹ پر جبہ رسائی نہ کریں۔ میدان میں آئیں۔ اپنے جرائم تسلیم کر کے اسمبلیاں تحلیل کریں اور نئے الیکشن کا اعلان کریں۔ آپ نہ صرف ایوان میں اپنی توقیر گنوا چکے ہیں بلکہ عوامی اعتماد سے بھی مکمل طور پر ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

Facebook Comments HS