سانحہ پشاور اور نوجوانوں میں مذہب سے بے گانگی


جو اپنوں کے شر سے غیر محفوظ ہوں کیا وہ دوسروں کو تحفظ کی ضمانت دے سکتے ہیں؟ یہ وہ سنجیدہ سوال ہے جس پر غور کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے، کچھ عرصہ پہلے نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورے پر آئی تھی کچھ خطرناک قسم کے الرٹ ملنے وجہ سے عین وقت پر میچ کھیلے بغیر ٹیم دورہ ملتوی کر کے واپس چلی گئی تھی۔ اس کے بعد حکومتی و عوامی غصہ کافی دنوں تک عروج پر رہا سوشل میڈیا پر مختلف طبقہ ہائے فکر کی طرف سے نیوزی لینڈ کے اس ”انسلٹنگ جیسچر“ پر کافی غم و غصہ کا اظہار کیا جاتا رہا اور یہاں تک کہا گیا کہ ہمارے خلاف انٹرنیشنل لیول پر بہت بڑی سازش کی گئی ہے جس میں امریکہ اور بھارت سرفہرست ہیں اور نیوزی لینڈ نے ان کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔

قصہ مختصر کانسپریسی تھیوریز کا ایک نہ تھمنے والا بے لگام سلسلہ شروع ہو گیا جو کہ محض جذباتی ردعمل تھا اور حقیقی یا لوجیکل پیمانوں سے اس کا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں تھا۔ ہم ان قوموں کی سنجیدہ فکری کو سمجھ ہی نہیں سکتے جو وہ اپنی عوام کے متعلق رکھتے ہیں ان کی عوام ان کا قیمتی اثاثہ و سرمایہ ہوتے ہیں اور ان کے تحفظ کی خاطر وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں اور اس دورے کی تو ان کی نظروں میں کوئی اہمیت ہی نہیں تھی۔

ذرا سا الرٹ سائن ملنے کے بعد جو کہ ہماری حکومت کے مطابق ایک فیک الرٹ تھا مگر انہوں نے کوئی رسک لیے بغیر اپنی ٹیم کو واپس بلوا لیا۔ تقریباً 24 سال بعد آسٹریلیا کی ٹیم پاکستان کے دورے پر آ چکی ہے مگر قصہ خوانی بازار پشاور میں شیعہ مکتب فکر کی ایک مسجد میں جمعہ کی نماز کے دوران دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں اب تک 80 کے قریب شیعہ مسلمان ہلاک ہو چکے ہیں جس کے بعد یہ خدشات جنم لینے لگے ہیں کہ کہیں آسٹریلیا کی ٹیم کا یہ وزٹ بھی اس دھماکے کی نذر نہ ہو جائے۔

لیکن یہاں ایک بہت بڑا سوال پیدا ہوتا ہے کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم کے پیچھے ایک بین الاقوامی سازش تھی اور اب موجودہ صورتحال میں اگر آسٹریلیا کی ٹیم بھی واپس چلی جاتی ہے تو اس کا الزام ہم کس کے کندھے پر ڈالیں گے؟ پشاور کی مسجد میں جو دلخراش حادثہ پیش آیا جس کے نتیجہ میں درجنوں مسلمانوں کی جانیں گئ ہیں کیا یہ بھی انٹرنیشنل کانسیپریسی ہے؟ کیا ہمارے دشمن اتنے ویلے ہیں کہ وہ ہر وقت ہمارے بارے میں ہی سوچتے رہتے ہیں؟

جس دیس میں مذہب کے نام پر آبادی کو بڑھانے کا جواز دیا جائے، پینے کا صاف پانی ناپید ہو، علاج کی سہولیات ناقص ہو، انفراسٹرکچر انتہائی ناقص ہو، کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہی ہوں اور آٹا چینی اور گھی حاصل کرنے کے لیے غرباء لائنوں میں رل رہے ہوں ایسے تباہ حالوں کے خلاف بھلا کون سازش کرنے کا رسک لے سکتا ہے؟ آج کے دور میں رسک کا بھی ایک اسٹینڈرڈ ہے بڑی بڑی معاشی منڈیوں کے مالکان ان کے لیے رسک اٹھاتے ہیں جو کم از کم اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں اور ہم تو گرے لسٹ میں ہونے پر بھی بغلیں بجا رہے ہیں کہ شکر ہے ہم کم ازکم بلیک لسٹ میں تو نہیں اور یہ بھی قدرت کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے۔ ڈھٹائی کا یہ لیول ہے کہ ہر بڑے سانحے کے بعد ہماری حکومتوں کا مذمتی بیانات کی صورت میں وہی گھسا پٹا اور غیر سنجیدہ قسم کا رویہ سامنے آتا ہے اور قوم ان کلیشے ٹائپ جملوں کی عادی ہو چکی ہے۔

1۔ یہ ایک بزدلانہ اقدام تھا۔
2۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
3۔ ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔
4۔ معصوم لوگوں کا خون رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔
5 اس دردناک واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی گئی ہے۔
6۔ مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔
7۔ ہم دشمنوں کی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

اس کے بعد ہمارے علماء کا رویہ دیکھ لیں جب بھی کوئی ایسا سانحہ ہوتا ہے جس میں کئی لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یا تحفظ مذہب کے نام پر کسی کو گستاخ ڈیکلیئر کر کے اس کی موب لنچنگ کر دی جاتی ہے تو فیس سیونگ کی خاطر اس قسم کا ردعمل دیکھنے کو ملتا ہے۔

1۔ مذہب میں اس قسم کے ظالمانہ رویے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
2۔ جنہوں نے بھی مسجد میں خود کش دھماکہ کیا ہے ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
3۔ موب لنچنگ کرنے والے رویہ کی مذہب قطعی طور پر اجازت نہیں دیتا۔
4۔ جنہوں نے بھی یہ سب کچھ کیا ہے ان کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔
5۔ اسلام تو امن و آشتی اور بھائی چارے کا مذہب ہے۔

اس قسم کے بیانات بھی وہ علماء دیتے ہیں جو کسی نہ کسی طرح سرکار سے جڑے ہوتے ہیں یا دربار شاہی میں بلا جھجک آتے جاتے رہتے ہوں یا یوٹیوب چینل کی وجہ سے عوام میں مقبولیت کا درجہ حاصل کر چکے ہوں۔ وہ علماء کا قطعی طور پر آگے آ کر مذمت نہیں کرتے جن کی وجہ سے ہمارا معاشرہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مذہب امن و آشتی کی ضمانت دیتا ہے تو پھر ایک ہی مذہب کے ماننے والوں میں فرقوں کے نام پر اتنی عداوت و بغض و نفرت کیوں؟

ایک ہی مذہب کے ماننے والوں کی درجنوں فرقوں کے نام پر اتنی مسجدیں کیوں؟ ہر فرقے کے علماء کے جلسے و جلوسوں میں دوسرے فرقے کے لوگوں کے خلاف اتنی زہر زبانی کیوں؟ میں یہاں یہ ایک مسلمان خاتون کا حوالہ دینا چاہتا ہوں جو کہ یوٹیوبر ہیں اور اپنے خیالات کا اظہار اکثر کھلے ڈلے لفظوں میں کرتی رہتی ہیں، اس فاطمہ نامی خاتون نے ہمارے فرقہ باز مولویوں کو ایک الرٹ نیوز دے کر جگانے کی کوشش کی ہے۔

”کہنے کو 97 فیصد لوگ مسلمان ہیں لیکن کیا یہ واقعی مسلمان ہیں؟ جتنے فرقے بن چکے ہیں اور انہیں فرقوں کی بنیاد پر ہماری جنریشن کو سنی، بریلوی، اہل حدیث، دیوبندی یا شیعہ کی بنیاد پر تقسیم کیا جا چکا ہے، ہمیں علماء سے سوال کرنا چاہیے کہ کیا مذہب کی رو سے ان فرقوں کی کوئی گنجائش ہے یا یہ سب شکم پروری کا چکر ہے؟ ہمارے علماء کیا اس بات سے بے خبر ہیں کہ ان کے ان فرقہ وارانہ اور گروہی فکر کے اثرات آج کی نسل پر کوئی زیادہ اچھے نہیں پڑ رہے ہیں بلکہ نوجوانوں کی اکثریت مذہب سے بےگانہ ہو رہی ہے۔ اس رجحان کے پھیلاؤ میں ہمارے علماء کا کردار بہت زیادہ ہے کیونکہ یہ مذہبی سوالوں کا جواب کلیئر کٹ یا لوجیکل بنیادوں پر دینے کی بجائے ہزاروں گول مول قسم کی تاویلیں گھڑ کر دیتے ہیں جس کا نتیجہ انتشار ذہن یا کنفیوژن کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ چونکہ ہمارے علماء سوال کرنے والوں کو مشکوک نظروں سے دیکھنے لگتے ہیں اس لیے نوجوان سوال کرنے سے کترانے لگتے ہیں اور ایکسٹریم پوزیشن پر چلے جاتے ہیں۔ ہم نے اوروں کو کیا مسلمان کرنا ہے ہمارے اپنے بندے ہی ہم سے اور مذہب سے بدظن ہوتے جا رہے ہیں“

فاطمہ کی یہ گفتگو ان علماء کے لیے ہے جو خود کو بہت بڑے علامہ یا سکالر سمجھتے ہیں مگر سوالات سے گھبراتے ہیں اور سوال کرنے والے اپنے ہی بندوں کو دائرہ مذہب سے خارج کرنے کے لیے جلدی میں رہتے ہیں کہ کہیں ان سوالات کی بھنک ہمارے پکے پیروکاروں کو نہ لگ جائے جن کی وجہ سے ہماری یہ بلندیاں قائم ہیں اور گلشن کا کاروبار زوروں پر ہے۔

Facebook Comments HS