سات دن کی نومولود بیٹی کو قتل کرنے والا باپ گرفتار
پنجاب پولیس کے مطابق ”میانوالی پولیس نے نومولود بچی کو فائرنگ کر کے قتل کرنے والے درندہ صفت باپ کو گرفتار کر لیا ہے۔ آئی جی پنجاب نے ڈی پی او میانوالی کو تفتیش کی نگرانی خود کرنے اور ملزم کو عبرتناک سزا دلوانے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلی پنجاب اور آئی جی پنجاب نے اس واقعہ کا نوٹس لیا تھا۔“
بی بی سی نے اس بارے میں مندرجہ ذیل خبر رپورٹ کی ہے
صوبہ پنجاب کے ضلع میانوالی میں اتوار 6 مارچ کو ایک شخص نے مبینہ طور پر اپنی سات دن کی بیٹی کو اس لیے فائرنگ کر کے قتل کر دیا کہ وہ بیٹی کی پیدائش سے خوش نہیں تھے۔ اس واقعے کے عینی شاہد ہدایت اللہ نے بتایا کہ 22 سالہ ملزم شاہ زیب نے ان کے سامنے اپنی بیوی سے بیٹی کو چھین کر زمین پر پٹخا اور پستول سے بچی پر فائر کر دیے۔
ہدایت اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ خود داؤد خیل کے رہنے والے ہیں جو میانوالی سے 35 کلومیٹر دور ہے۔
انھوں نے کہا کہ ان کی بھتیجی مشعل کی شادی صرف پونے دو سال پہلے ہی ملزم شاہ زیب سے ہوئی تھی اور شاہ زیب اور ان کا خاندان میانوالی شہر میں رہتے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مشعل کے بھائی کلیم اللہ نے بتایا کہ شاہ زیب نے انٹر پاس کیا تھا اور ڈسپنسر کا کورس کر رکھا تھا لیکن بے روزگار تھا اور نوکری کی تلاش میں تھا۔
انھوں نے بتایا کہ ملزم ان کی خالہ کا بیٹا تھا اور یہ کزنز کی شادی تھی جس کے بعد سے میاں بیوی کے درمیان تعلقات خوشگوار رہے اور ’کبھی کوئی جھگڑے کی بات نہیں سنی تھی۔‘
ہدایت اللہ نے بتایا کہ جس وقت وہ اپنی بھتیجی کے گھر پہنچے اس وقت شاہ زیب گھر پر موجود نہیں تھا۔ ’تھوڑی دیر بعد وہ گھر آیا تو غصے میں تھا اور شور و واویلا کر رہا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ میں اپنی بیٹی کو زندہ نہیں چھوڑوں گا۔‘
ان کے دیکھتے ہی دیکھتے شاہ زیب اپنے کمرے میں داخل ہوا جہاں اس نے اپنی بیوی سے بیٹی کو چھینا اور بچی کو زمین پر پھینک دیا۔ اس کے بعد ملزم نے بچی پر پانچ فائر کیے جو بچی کو دائیں جانب لگے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق ہدایت اللہ نے اس موقع پر جب ملزم کو پکڑنے کی کوشش کی تو شاہ زیب نے ان پر اسلحہ تان لیا اور موقع سے فرار ہو گیا۔
اسی بارے میں: سات دن کی بچی کو پانچ گولیاں: ’شاہ زیب بیٹی کی پیدائش سے خوش نہیں تھا‘

