عدم اعتماد: کیا وہ واقعی نیوٹرل ہو گئے ہیں؟


نواز شریف کو جس طریقے سے وزارت عظمیٰ سے ہٹایا گیا اور جیسے عمران خان کو لایا گیا وہ بھی ایک دلچسپ مرحلہ تھا۔ ان دنوں ہر کسی کی زبان پر ایک ہی بات تھی کہ عمران خان کو دس سالہ پلان کے تحت وہ بھی مکمل تعاون کے ساتھ لایا گیا ہے۔ جتنی محنت عمران خان کو لانے میں کی گئی اس سے کہی زیادہ محنت کو چلانے میں کی گئی اور اس سے بڑھ کر ان کو دو بار باقاعدہ بچانے کی محنت اس سے کہی زیادہ بھرپور قوت کے ساتھ کی گئی۔ پہلی مرتبہ مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کے وقت ان کو بچایا گیا دوسری بار اعتماد کا ووٹ دلا کر بچایا گیا۔

اس کے بعد حزب اختلاف کی توپوں کا رخ حال ہی میں پشاور تعینات ہونے والے ایک افسر کی جانب ہو گیا۔ کیا کریں برداشت اور تنقید بھی ایک حد ہوتی ہے۔ جب تنقید قوت برداشت سے باہر ہوئی تو مالک اپنے کھلاڑی کا عین اس وقت ساتھ چھوڑ گئے ہیں جب ان کے پسندیدہ کھلاڑی کو ان کی اشد ضرورت ہے۔ مالک کے عمران خان کا ساتھ چھوڑنے کی دو بڑی وجوہات بنیں۔ پہلی مہنگائی دوسرا نواز شریف کے سنگین الزامات۔ جس کے بعد ادارے کے اندر بھی ہر سطح پر ان دو معاملات پر بحث و تکرار ہونے لگی۔

اب مالک اپنا امیج بہتر کرنے کی بھرپور کوشش بھی کر رہے ہیں اور مختلف ذرائع سے نیوٹرل ہونے کے دعوے بھی کر رہے ہیں۔ نیوٹرل ہونے کا پیغام ملنے کے فوراً بعد شہباز شریف اور آصف زرداری بھی کھل کر میدان میں آ گئے اور عمران خان کو گھر بھیجنے کی کمر کس لی۔ حزب اختلاف کے اتحاد نے ساتھ ہی عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک جمع کرا دی۔ حزب اختلاف کے ذرائع کے مطابق ان کے پاس 182 ممبر ہیں۔ اگر تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں تو اپوزیشن کے کچھ لوگوں کی جانب سے اس نمبر گیم پر بھی تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اس سے قبل صادق سنجرانی کے الیکشن میں بھی اپوزیشن کے نمبر پورے تھے پھر اچانک کم کیسے ہو گئے؟

ان کے خدشات بھی اپنی جگہ بالکل درست ہیں۔ لیکن حزب اختلافات کے قائدین کے مطابق جو ہمارے نمبر کم کرتے تھے وہ اب نہیں رہے اور جو ہیں ان کو سیاست میں مداخلت میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اس لیے ہم پرامید ہیں کہ ہماری عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو گی۔ اگر وہ واقع نیوٹرل ہو گئے ہیں تو اب ساری گیم عمران خان کے ہاتھ سے نکل ان کے ایم این اے اور اتحادیوں کے ہاتھ میں آ چکی ہے۔ حزب اختلاف کی جانب سے بار بار دعوی کیا جا رہا ہے کہ ہمیں حکومت کے 24 ارکان کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

ان میں 16 ارکان مسلم لیگ (ن) کو مکمل یقین دہانی بھی کرا چکے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) اس کے بدلے میں ان کو آئندہ الیکشن میں پارٹی ٹکٹ بھی جاری کرنے کی یقین دہانی کرا چکی ہے۔ جبکہ دو ارکان کی حمایت کا دعوی مولانا فضل الرحمن اور چھ پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اب عمران خان کے دو یار غار جہانگیر ترین اور علیم خان بھی کھل کے عمران خان کے فیورٹ عثمان بزدار کے خلاف میدان میں آچکے ہیں۔ یہ دونوں دوست عثمان بزدار کا صرف نام استعمال کر رہے ہیں حقیقت میں یہ عمران خان کے خلاف دوبارہ ایکٹیو ہوئے ہیں۔

مسلم لیگ (ق) ، ایم کیو ایم، جی ڈی اے، باپ اور علیم، ترین کے متعلق عوام میں ایک عام تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ ان کے بندے ہیں اور انہی کے اشاروں پر رخ تبدیل کرتے ہیں۔ جیسے ہی وہ نیوٹرل ہوئے یہ سب بھی نیوٹرل ہو گئے ہیں۔ ان کے نیوٹرل ہونے اور ان کے بھی نیوٹرل ہونے کے بعد عمران خان کا پلڑا ہلکا اور حزب اختلاف کا پلڑا بھاری ہو چکا ہے۔ لیکن ابھی بھی ایک ہی بات زیر گردش ہے کہ اگر وہ سچ میں نیوٹرل ہو گئے تو عمران خان وزیراعظم نہیں رہیں گے اور تحریک انصاف بھی عمران خان کے جانے کے بعد تتر بتر ہو جائے گی جیسے پرویز مشرف کے جانے کے بعد مسلم لیگ (ق) تتر بتر ہو گئی تھی۔ اگر وہ سچ میں نیوٹرل ہو گئے تو پھر وہی ہو گا جو شہباز شریف اور آصف زرداری کا پلان ہے۔

Facebook Comments HS