خود کو محفوظ کیے بغیر طالبان کی وکالت کے خطرات: پشاور لہو لہو

ہم عوام کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنائے بغیر عالمی تنازعات میں کود پڑے ہیں۔ اس کے نتیجے یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کے بقول ہماری ”عبادت گاہوں“ سے خون بہہ رہا ہے۔
گزشتہ جمعہ ( 4 مارچ) کو پشاور کے قصہ خوانی بازار میں ایک شیعہ مسجد پر بندوق اور بم حملے کی مذمت کرنے کے لیے گوٹیرس بہت سے پاکستانی سیاست دانوں سے زیادہ بروقت تھے۔
دہشت گردی کے کچھ دیر بعد ہی انہوں نے کہا، ”عبادت گاہوں کو پناہ گاہیں ہونی چاہئیں، نہ کہ دہشت گردی کا نشانہ۔ میں آج پاکستان کے شہر پشاور میں ایک مسجد پر نماز جمعہ کے دوران ہونے والے ہولناک حملے کی مذمت کرتا ہوں۔ ان لوگوں کے ساتھ میری تعزیت ہے جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا ہے، اور می پاکستان کے لوگوں سے یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں۔“
وہ اعتماد جس کے ساتھ سیاہ لباس میں ملبوس دہشت گرد تنگ راستے سے ہوتا ہوا مسجد کے ہال کی طرف جاتا ہے، ہمارے حفاظتی اداروں کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اب تک 60 سے زائد افراد، جن میں سے 10 کم عمر بچے بھی شامل ہیں، شہید ہو چکے ہیں اور بہت سے لوگ ہسپتال میں داخل ہیں۔
کچھ لاشیں ناقابل شناخت ہو گئی تھیں تھیں جب سیاہ کار دہشت گرد نے ہال میں خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
اسلامک اسٹیٹ (داعش) ۔ خراسان (خراسانی داعش) نے ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ یہ تنظیم افغانستان میں قائم ہے۔
بہت سے تجزیہ کار غلطی سے خراسانی داعش کو ٹی ٹی پی کے ساتھ ملا رہے ہیں۔
ہمیں محسود قبیلے کے عمائدین کے جرگہ کی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے کے بعد ٹی ٹی پی کے 40 سے زائد افراد کو قید سے رہا کرنے پر حکومت پر تنقید کو اس دہشت گردی سے نہیں جوڑنا چاہیے۔
یہ سچ ہے کہ ٹی ٹی پی، آئی ایس۔ کے اور افغان طالبان قتل کرنے والی مشینیں ہیں، جو انسانی زندگی اور اس کی علامتوں کے لیے بے حس ہیں۔ لیکن جذبات کی رو میں بہہ کے ہمیں ان سب کو ایک نہیں سمجھا چاہیے۔ ایسے ہم سانپ کے سر تک نہیں پہنچ پائیں گے۔
جب طالبان نے اشرف غنی کی حکومت گرائی تو پاکستان نے افغان طالبان کی حمایت کی، حالانکہ اقوام متحدہ میں غنی دھڑے کو اب بھی افغانستان کا نمائندہ تسلیم کیا جاتا ہے۔
اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد افغان طالبان نے اپنے تمام مخالفین بشمول خراسانی داعش کے ارکان کو بے رحمی سے ختم کیا۔ خراسانی داعش بنیادی طور پر انتہا پسند سلفیوں کا ایک گروہ ہے، جو اعتدال پسند سیلفیوں سمیت ہر اس شخص پر حملہ کرنے سے گریز نہیں کرتے جو کوئی بھی ہو۔
اگرچہ افغان طالبان، ٹی ٹی پی اور آئی ایس۔ کے کے لیے شیعہ ایک مشترکہ ہدف ہیں، لیکن اعتدال پسند سلفی بھی، خاص طور پر افغانستان میں، اس وقت خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ سعودی عرب نے بھی اس خطے میں اپنے جہادی منصوبے کو سمیٹ لیا ہے۔
پاکستان کی اس پالیسی کے نتیجے میں طالبان کے علاوہ تمام افغان پاکستان کو ناپسند کرتے ہیں۔
افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں گھائل ہونے کے بعد خراسانی داعش افغان طالبان پر جوابی حملہ کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ قبائلی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ صلاح الدین سالارزی کا خیال ہے کہ خراسانی داعش اور ٹی ٹی پی میں زیادہ فرق نہیں ہے کیونکہ یہ دونوں انتہا پسند سلفی بیانیہ کو بڑھاوا دیتے ہیں۔
چنانچہ پاکستان کو افغان طالبان کے ساتھ نتھی کر کے، خراسانی داعش جنگ کو پاکستان کی سڑکوں پر لے جانے کی کوشش کر رہا ہے۔
پشاور کی مسجد پر حملہ اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس حملے کے دو دن بعد کے پی پولیس نے ایک بیان جاری کیا جس میں پاکستانیوں کو 23 مارچ کو راولپنڈی سمیت بڑے شہروں میں ممکنہ دہشتگردانہ حملوں سے خبردار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ خودکش حملہ آوروں سمیت 20 دہشت گردوں کو افغانستان کے صوبہ کنڑ سے پاکستان بھیجا گیا ہے۔
یہ ہے اس دہشتگردانہ حملے کا بین الاقوامی پیش منظر۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بھی سکیورٹی فورسز پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
اب ہم اس پشاور والے حملے کے عالمی پہلو کو دیکھتے ہیں۔ مسجد حملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بیان خیبر پختونخوا پولیس کی وارننگ کے بعد آیا۔
سلامتی کونسل نے تمام ممالک پر دباؤ ڈالا کہ وہ اس طرح کی دہشتگردانہ کارروائیوں کو روکنے میں پاکستان کی مدد کریں۔ جب یہ بیان جاری ہوا تو ہمارے وزیراعظم عمران خان اور ان کی جماعت عوامی فورمز پر یہ تاثر دے رہی تھی کہ عالمی طاقتیں انہیں وزیراعظم ہاؤس سے نکالنے کی سازش کر رہی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات کی نمائندہ لانا ذکی نسیبہ نے، جو اس ماہ کے لیے سلامتی کونسل کی صدارت کر رہی ہے، یہ بیان جاری کیا۔
”بزدلانہ“ حملے کی مذمت کرنے کے علاوہ، سلامتی کونسل نے کہا، ”سلامتی کونسل کے اراکین نے دہشت گردی کی ان قابل مذمت کارروائیوں کے مجرموں، منتظمین، مالی معاونت کرنے والوں اور اسپانسر کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت پر زور دیا اور تمام ریاستوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت اس سلسلے میں حکومت پاکستان اور دیگر تمام متعلقہ حکام کے ساتھ فعال تعاون کریں۔“
اسی طرح، چینی صدر شی جن پنگ نے پیر کے روز اپنے پاکستانی ہم منصب کو ایک تعزیتی پیغام بھیجا جب مؤخر الذکر خواتین کو با اختیار بنانے کے لیے رسمی اجتماعات میں مصروف تھے۔ بہرحال چینی صدر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا۔
چینی وزیر اعظم لی کی چیانگ نے اپنے پاکستانی ہم منصب کو بھی ایسا ہی پیغام بھیجا، جو اس وقت یوٹیوبرز کو بلا کے بتا رہے تھے کہ وہ اپنے مخالفین کو نہیں چھوڑ گے کیونکہ وہ انہیں ڈی سیٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یورپی یونین، جرمنی، اقوام متحدہ، برطانیہ، ڈنمارک وغیرہ نے بھی اپنے تعزیتی پیغامات میں پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی۔
افغان طالبان کے حق میں سفارتی صلیبی جنگ شروع کرنے سے پہلے پاکستان کو اپنے شہروں اور کمزور برادریوں خصوصاً شیعہ کو محفوظ بنانا تھا۔ تمام جدید عالمی طاقتوں نے افغان طالبان کو ان کی افادیت کا جائزہ لینے کے بعد مسترد کر دیا ہے۔ افغان طالبان اپنے تنازعات کو اپنی سرحدوں تک محدود نہیں رکھ سکتے۔ لیکن پاکستان نامعلوم اسٹریٹجک فوائد کے لیے افغان طالبان کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ یہ فوائد خواہ کچھ بھی ہوں، پاکستانیوں کی جانوں سے زیادہ قیمتی نہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہماری حکومت اپنے شہریوں کے جینے کے حق کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داری اٹھائے۔
ڈاکٹر حسن شہزاد انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں ابلاغیات کے پروفیسر ہیں اور ان کا یہ کالم ایڈیٹ ہو کے بول انگلش میں چھپا ہے

