اگر عدم اعتماد ناکام ہوا تو ۔ ۔ ۔


اپوزیشن جماعتیں وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لے آئی ہیں۔ جس سے اس کی ممکنہ کامیابی یا ناکامی کے حوالے سے بحث مباحثے کا میدان گرم ہو گیا ہے

اپوزیشن اپنی طرف سے پراعتماد ہے کہ ان کی یہ تحریک کامیاب ہو گی جبکہ دوسری طرف حکومت کا دعوی ہے کہ اس تحریک کو منہ کی کھانی پڑے گی۔

عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوتی ہے یا نا کام اس کا پتہ تو شاید اگلے چند ہفتوں میں لگ جائے گا۔ اگرچہ بیشتر سیاسی مبصرین کے خیال میں اس کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔

اس ضمن میں ان کی ایک بڑی دلیل یہ ہے کہ اس بار اسٹیبلشمنٹ چونکہ نیوٹرل لگتی ہے اس لیے مقابلہ خالصتاً سیاسی قوتوں کے مابین ہے۔ اور اسی مقابلے میں اپوزیشن جماعتوں کا پلڑا اس لیے بھاری ہے کہ ایک تو تمام اپوزیشن جماعتیں متحد اور یکسو ہیں جبکہ دوسری طرف نہ صرف حکومت کی اتحادی جماعتیں ڈانواں ڈول نظر آتی ہیں بلکہ حکومت کے بہت سارے اپنے ارکان بھی اس سے بغاوت پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔ یوں بادی النظر میں حکومت کی پوزیشن فی الوقت کمزور ہے

تاہم اس کے نا کام ہونے کو بھی خارج امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ ایک تو اس کا کوئی ٹھوس اور واضح ثبوت نہیں ہے کہ اسٹیبلشمنٹ واقعی نیوٹرل ہو گئی ہے۔ پھر اگر ایسا ہے تو اس کی بھی کوئی پکی گارنٹی نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اپنی نیوٹریلٹی ختم نہیں کرے گی۔

جہاں تک اتحادی جماعتوں اور پی ٹی آئی کے مبینہ ناراض ارکان کا مسئلہ ہے تو حکومت ان کے تحفظات اور شکایات رفع کر کے ان کو راضی رکھنے کی بوجوہ کامیاب کوشش بھی کر سکتی ہے۔ اگر حکومت ان کو ساتھ رکھنے میں کامیاب ہو گئی تو پھر اپوزیشن کو مطلوبہ نمبرز پورا کرنا مشکل ہو جائے گا۔

اس کے علاوہ حکومت تحریک کو ٹیکنیکل بنیاد پر ناکام بنانے کے لیے کوئی حکمت عملی یا حربہ بھی اختیار کر سکتی ہے۔

مطلب یہ کہ اس تحریک کا ناکام ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے

اب بالفرض اگر یہ تحریک کامیاب نہ ہو سکی تو سیاسی تجزیہ کاروں کے پاس چند دنوں کے لیے اگلا اہم موضوع اس کی ناکامی کی وجوہات اور مضمرات رہے گا

ایسے میں سیاسی تجزیہ کاروں کی رائے میں اس مفروضہ ناکامی کی ممکنہ وجوہات یا عوامل کیا کیا ہو سکتے ہیں؟

اس حوالے سے یہاں محض عام دلچسپی کے لیے اندازے سے کام لیا جائے تو مفروضہ ناکامی کا جائزہ لینے میں بعض تجزیۂ کار غالباً اسٹیبلشمنٹ کو اس کی اہم وجہ قرار دیں گے

اس ضمن میں شاید کچھ تجزیہ کار کا خیال یہ ہو کہ اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل نہیں تھی بلکہ اس کے بارے یہ تاثر محض ایک قیاس یا حسن ظن تھا۔

یا یہ کہ اس نے بوجوہ اپنی نیوٹریلٹی کو معطل کر دیا۔

یا یہ کہ اسٹیبلشمنٹ کا اصل مقصد حکومت کا خاتمہ نہیں بلکہ عمران خان کو ذرا رگڑا دے کر تھوڑا سبق سکھانا تھا۔

دوسری بڑی وجہ ان کے ہاں اپوزیشن جماعتوں کے حوالے سے ہو سکتی ہے۔ اس سلسلے میں ان کے رہنماؤں کی غلطیوں، حکمت عملی اور غلط اندازوں وغیرہ کو تنقید کا نشانہ بنا کر ان کو ناکامی کا سبب قرار دیں گے۔ یا شاید یہ کہیں کہ اپوزیشن جماعتوں کے رہنما آپس میں مخلص نہیں تھے۔ سب

اپنے جماعتی مفادات کے اسیر تھے
ان کے پاس کسی واضح اور جامع متفقہ ایجنڈا نہیں تھا
وغیرہ وغیرہ
اس کے ساتھ کچھ تجزیہ اس کا کریڈٹ شاید حکومت اور عمر ان خان کی بہتر حکمت عملی کو دیں گے۔

اگر تحریک عدم اعتماد کی ناکامی میں کہیں ٹیکنیکل طریقے سے بھی کچھ کام لیا گیا ہو تو اس کی ایک وجہ حکومت کے قانونی یا غیر قانونی ہتھکنڈوں کو بھی قرار دیا جائے گا۔

مذکورہ ممکنہ وجوہات کے علاوہ شاید بعض تجزیہ کار کئی دوسرے عوامل کو بھی سوجھ لیں۔ تاہم پیشتر کا زور غالباً ۔اسٹیبلشمنٹ کے فیکٹر پر رہے گا۔

Facebook Comments HS