پی ٹی آئی کا سندھ حقوق مارچ ایک رپورٹر کی نظر سے
پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت کے خلاف مارچ کا اعلان کیا تو تحریک انصاف نے بھی سندھ میں سندھ حقوق مارچ کی نوید سنائی تحریک انصاف کے سندھ حقوق مارچ میں کمو شہید گھوٹکی سے کراچی تک سفر کرنے کا موقع ملا جس سے اندازہ ہوا کہ تحریک انصاف سندھ میں کہاں کھڑی کا تنظیم کا ڈسپلن کیا ہے۔ قیادت کا ویژن کیسا ہے۔
پچیس فروری 2022 کو کراچی سے اس مارچ کے لیے پی ٹی آئی سندھ کے صدر اور وفاقی وزیر علی زیدی کی سربراہی میں قافلہ سیہون میں عثمان مروندی المعروف لعل شہباز قلندر کے مزار پہ حاضری دیتے ہوئے سکھر کے لیے روانہ ہوا کراچی کو حیدر آباد سے ملانے والے موٹر وے ایم نائن سے جب یہ کارواں روانہ ہوا تو اس میں بارہ پندرہ بڑی گاڑیاں شریک تھیں سکھر پہنچنے کے بعد قافلے کے گاڑیوں کی تعداد اور اس کی رفتار میں اس حد تک اضافہ ہوا کہ عام سندھیوں کے لیے اس کا ساتھ دینا ممکن ہی نہ تھا۔
کمو شہید گھوٹکی پہ جب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بذریعہ ہیلی کاپٹر میں پہنچے تو ان کے ہزاروں مرید ہاتھ استقبال کے لیے تیار کھڑے تھے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ شاہ محمود قریشی کو منفی کر دیں تو تحریک انصاف کے مارچ کی رہی سہی کسر بھی نکل جاتی کمو شہید پہنچنے کے بعد شاہ محمود قریشی بڑی سی گاڑی میں سوار ہو کر علی زیدی کی سربراہی میں مرکزی قافلے سے ملنے کے لیے روانہ ہو گئے میں کمو شہید میں اس ہیلی کاپٹر سے قدرے فاصلہ پہ اس جم غفیر میں پھنس چکا تھا۔ جہاں ہزاروں پاکستان ہیلی کاپٹر کے دوبارہ پرواز کرنے کا منظر دیکھنے جمع تھے۔
سیکیورٹی اہلکار شہریوں کو دور ہونے کے احکامات جاری کرتے رہے یہاں تک کہ دھول اڑاتا ہیلی کاپٹر بلند ہوا اور سب کچھ غبار میں چھپ گیا اس کے بعد ہمیں نکلنے کا موقع ملا کمو شہید میر پور ماتھیلو اور ڈھرکی میں سڑک کنارے شاہ محمود قریشی کے مریدوں کی قطاریں لگی تھیں خواتین دودھ پیتے بچوں اور نوجوان بزرگوں کو لے کر اپنے پیر کی ایک جھلک دیکھنے کئی گھنٹوں سے کھڑے تھے اور یہی لوگ سندھ کے کئی شہروں میں اس مارچ کی اصل طاقت تھے۔
شاہ محمود قریشی اور علی زیدی یکجا ہوئے تو فیصلہ ہوا کہ بقیہ مارچ کی قیادت اس مشہور آزادی کنٹینر پہ سوار ہو کر کی جائے گی جو ڈی چوک اسلام آباد میں عمران خان کے زیر استعمال رہا اور نواز شریف حکومت کے خلاف 126 دن کا دھرنا دیا گیا حسب معمول پی ٹی آئی کے کنٹینر پہ چھوٹے بڑے رہنماؤں کا رش تھا۔ مجھے دنیا نیوز کے اپنے ساتھی مونس احمد کے ساتھ بمشکل اوپر جانے کا موقع ملا ہمارا مقصد شاہ محمود قریشی اور علی زیدی کا انٹرویو کرنا تھا۔
انٹرویو کے بعد ہم اس کنٹینر سے اتر آئے مگر اندازہ تھا کہ اس پہ سفر اتنا آسان نہیں اور پھر وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ پی ٹی آئی گھوٹکی کے جواں سال رہنما میر افتخار لونڈ ایمرجنسی بریک لگنے کی وجہ سے کنٹینر سے نیچے گر کر شدید زخمی ہو گئے حلیم عادل شیخ انہیں لے کر اسپتال روانہ ہوئے اور پوری قیادت کو کنٹینر سے اتار کر گاڑیوں میں سوار کر لیا گیا مارچ کا پہلا بڑا جلسہ سکھر میں تھا۔ رات نو بجے جب سندھ حقوق مارچ کے شرکا سکھر پہنچے تو نصف پنڈال خالی تھا۔
اس کے بعد شاہ محمود قریشی کی خالی کرسیوں سے خطاب متعلق ویڈیو وائرل ہوئی سکھر جلسہ کے بعد تحریک انصاف سندھ کے اراکین سندھ و قومی اسمبلی کی بڑی تعداد کراچی لوٹ گئی گویا وہ سب ویک اینڈ منانے آئے تھے۔ وہ منا کر حاضری لگا کر واپس چلے گئے دلچسپ بات تو یہ بھی تھی کہ عامر لیاقت حسین سمیت کراچی کے اراکین سندھ اسمبلی کی اکثریت اس مارچ میں شریک ہی نہیں ہوئی جو شریک ہوئے ان میں آفتاب حسین صدیقی فہیم خان عطا اللہ ایڈوکیٹ شامل تھے۔
بقیہ گیارہ ایم این ایز نے مارچ میں سرے سے شرکت ہی نہ کی سندھ کے مختلف شہروں بشمول گھوٹکی عمر کوٹ مٹھی تھر پارکر ٹنڈو محمد خان ٹنڈو الہ یار اور شکار پور وغیرہ میں غوثیہ جماعت کے ماننے والے بڑی تعداد میں بستے ہیں اور شاہ محمود قریشی ان کے لیے پیر کا رتبہ رکھتے ہیں لیکن سنا ہے کہ یہ ووٹ سیاسی بنیادوں پہ ہی دیتے ہیں۔ حقوق سندھ مارچ کا لاڑکانہ میں جلسہ پی ٹی آئی کا بڑا شو تھا۔ لاڑکانہ کا بھٹو خاندان پی ٹی آئی کی سندھ قیادت میں شامل ہے اور عباسی خاندان جی ڈی اے کا حصہ ہے۔
مگر وفاق اور صوبے میں تحریک انصاف کا اتحادی ہے۔ ان دونوں کے سبب لاڑکانہ کا جلسہ کامیاب رہا مگر ایک دلچسپ پہلو تحریک انصاف کے تنظیمی اختلافات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لاڑکانہ کے پی ٹی آئی کے سینٹر سیف اللہ ابڑو لاڑکانہ جلسے کا حصہ نہیں تھے کیونکہ پی ٹی آئی سندھ کی نو منتخب قیادت انہیں خاص پسند نہیں کرتی البتہ رتو ڈیرو میں ایک اجتماع کر کے انہوں نے نہ صرف اپنی اہمیت جتائی بلکہ شاہ محمود قریشی اور علی زیدی کی موجودگی میں تقریر کرتے ہوئے لاڑکانہ کے بھٹوز کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے یہ ضرور کہا کہ اگر قیادت انہیں حکم کرے تو وہ لاڑکانہ کی گلی (اس مرکزی چوک کی طرف اشارہ تھا جہاں جلسہ ہوا ) میں نہیں بلکہ مرکزی اسٹیڈیم میں جلسہ کر کے اسے بھر کر دکھائیں گے۔
خیر اختلافات تحریک انصاف میں عام بات ہے۔ اس کا ایک مظاہرہ ٹنڈو الہ یار میں دیکھا جہاں محض چند سو میٹر کے فاصلے پہ پی ٹی آئی کے دو کیمپ لگے تھے اور میڈیا جس کیمپ پہ موجود تھا۔ قیادت نے وہاں نہیں آنا تھا پھر میڈیا کو دوسرے کیمپ بلوایا گیا مگر چلتے چلتے کنٹینر سے اس سے بھی خطاب کروایا گیا۔ شکار پور اور بدین میں پی ٹی آئی کے اچھے جلسے ہوئے مگر شکار پور کا جلسہ جی ڈی اے اور بدین کا جلسہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے مرہون منت رہا اور سچی بات تو یہ ہے کہ بدین کا جلسہ اس پورے مارچ کی جان تھا۔ جہاں جوش و جذبے اور بھرپور افرادی قوت نے بدین میں بلاول بھٹو زرداری کے جلسے کو بہت پیچھے چھوڑ دیا تھا۔
بدین میں ذوالفقار مرزا کے حامیوں کا ترانہ ”اساں مرزا جا ماڑوں“ ہر ایک کے لبوں پہ تھا۔ پی ٹی آئی کے ذرائع نے بتایا کہ ذوالفقار مرزا سندھ حقوق مارچ کے حق میں تھے لیکن اس کی اہمیت کا اندازہ انہیں تب ہوا جب بلاول کے مارچ نے یہاں پڑاؤ ڈالا اور تقریر کی جس کے جواب میں ذوالفقار مرزا نے موقع سے فائدہ اٹھا کر نہ صرف بڑا جلسہ کیا بلکہ اپنی اہمیت بھی بتائی سندھ حقوق مارچ کی بڑی گاڑیاں ایک سو چالیس ایک سو بیس کی رفتار سے دھول اڑاتی جب جیکب آباد پہنچیں تو شہر کے مرکزی ڈی سی چوک میں کھڑے ٹرک پہ شاہ محمود قریشی اسد عمر علی زیدی اور میاں محمد سومرو جیسے چار اہم وفاقی وزرا موجود تھے۔
مگر یقین کیجئیے کہ خطاب سننے والے بھی چار سو سے زائد نہ تھے۔ خود پی ٹی آئی والے بھی حیران تھے کہ یہ ہوا کیا ہے۔ جیکب آباد کے ذکر پہ یہ بات کہنا ضروری ہے کہ جیکب صاحب کے بعد اس تاریخی شہر کو کسی نے بنانے کی کوشش نہیں پیپلز پارٹی کی تو خیر یہ ترجیح میں ہی نہیں جیکب آباد گھومتے ہوئے آپ کو لگے گا کہ ایک جنگ زدہ علاقے کا دورہ ہو رہا ہے۔ جہاں سڑکیں اور گلیاں نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتیں جہاں گندا پینے کا پانی طبی مراکز کی بدترین صورتحال کئی صدیاں پرانے زمانے کی یاد دلاتی ہے۔
سندھ میں لاڑکانہ سکھر نوابشاہ حیدر آباد اور کراچی کا انفراسٹرکچر پھر بہتر ہے۔ (گو کہ ان کا موازنہ لاہور پنڈی فیصل آباد گجرانوالہ سے پھر بھی ممکن نہیں ) مگر اس کے علاوہ سندھ کے شہر اس بھٹو کی توجہ کے منتظر ہیں جو ابھی تک زندہ ہے۔ حیدر آباد جو کہ شہری علاقہ ہے۔ وہاں بھی پی ٹی آئی کے جلسوں کا احوال خوب رہا حیدر آباد کے مضافاتی علاقے ٹنڈو جام میں تو جلسہ زبردست رہا مگر شہری علاقے اور شہر کے مرکز حیدر چوک میں مشکل سے دو ڈھائی سو بندے کھڑے تھے اور صورتحال اتنی مایوس کن تھی کہ اسد عمر جلسہ گاہ آ کر لوٹ گئے اور شاہ محمود قریشی نے آنے کی ہی زحمت نہ کی۔
مارچ کے دوران شاہ محمود قریشی اور علی زیدی کے ساتھ سفر کرنے کا موقع ملا میں نے دونوں سے سوال کیا جب آپ یہاں ہیں تو وزارتیں کون چلا رہا ہے؟ معاملات بحری امور کے ہوں یا یوکرین سے پاکستانی طلبہ کے انخلا کے اسے کون دیکھے گا؟
شاہ محمود قریشی نے اپنی روایتی تحمل والے انداز میں کہا کہ مارچ کے دوران کام نہیں چھوڑا پولینڈ و یوکرین کے وزرائے خارجہ سے گفتگو کر چکا ہوں جو بچے وہاں پھنسے ہیں ان کے والدین سے بھی رابطے میں ہوں۔ علی زیدی نے اپنا موبائل دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ ڈیجٹل زمانہ ہے۔ وزارت کے لیے سافٹ وئیر بنا ہوا ہے اور موبائل پہ سارے معاملات دیکھتا ہوں
شاہ محمود قریشی کے حوالے سے یہ بات مشاہدے میں آئی کہ جگہ جگہ خطابات کرتے ہوئے وہ اپنے آبا و اجداد سے مقامی رہنماؤں سے تعلق کا حوالہ دیتے ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی تعریف کرتے یاد دلاتے کہ بھٹو ملتان آمد پہ یوسف رضا گیلانی نہیں ان کے یہاں قیام کرتے اور پوری پیپلز پارٹی میں صرف آصف علی زرداری کو ٹارگٹ کرتے کہ زرداری سے بھٹوز سے کوئی تعلق نہیں ایک موقع پہ سابق وزیر اعلی سندھ ارباب غلام رحیم کی موجودگی میں انہوں نے مجھے کہا کہ پرویز مشرف نے مجھے وزیر اعظم بننے کی آفر دی مگر پارٹی قیادت سے وفاداری کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے انہوں نے اسے رد کر دیا مگر بے نظیر بھٹو کے بعد وہ زرداری کو اور زرداری انہیں بالکل سمجھ نہ آئے تو رستے جدا کر لیے
دوران سفر ایک بار شاہ محمود قریشی کا کوئی مرید گاڑی سے رہ گیا تو انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قافلہ رکوا کر اسے گاڑی میں سوار کرایا ایک دلچسپ بات یہ نوٹ کی کہ شاہ محمود قریشی کا اپنے مریدوں سے گہرا تعلق ہے۔ وہ دس لوگوں کو بھی دیکھ کر رکے اور بڑے مجمعے کو بھی مارچ کے دوران ان کا قیام اپنے مریدوں کے یہاں ہی رہا بھلے سے اس کے لیے دور دراز اور تنگ گلیوں ہی میں کیوں نہ جانا پڑتا، مرید بھی ایک جھلک دیکھنے سر پہ ہاتھ رکھوانے اور نومولود بچوں کا نام رکھوانے کے لیے ان سے ملاقاتیں کر رہے تھے۔
اس مارچ کا اختتام چھے مارچ کو قائد آباد کراچی میں ہوا۔ قائد آباد کراچی کا مضافاتی علاقہ اور شہر کو نیشنل ہائے وے سے منسلک کرتے ہوئے سندھ کے دیگر شہروں سے مربوط کرتا ہے لیکن یہاں ہونے والا جلسہ بھی توقعات سے خاصا کم رہا پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کا اپنے مارچ کے حوالے سے ایک فرق تیاریوں کا رہا پیپلز پارٹی نے مارچ سے پہلے ہی کراچی میں مارچ کا ماحول بنا دیا تھا۔ شہر میں مختلف سرگرمیاں ہوتی رہیں مگر تحریک انصاف نے کوئی سرگرمی نہیں رکھی اور خاموشی سے کراچی سے نکلے اور واپسی پہ جلسے میں روایتی جوش و خروش کی کمی نظر آئی۔
کیا تحریک انصاف کا حقوق سندھ مارچ ناکام تھا؟
اس سوال کے کئی پہلو ہیں۔ مثلاً گزشتہ پچاس برس میں سیاسی طور پہ پیپلز پارٹی کو خاص چیلنج نہیں ملا آمرانہ ادوار الگ معاملہ ہے۔ مگر تب بھی پیپلز پارٹی اس کے خلاف تحریک چلاتی رہی البتہ پرویز مشرف سے بے نظیر بھٹو کے معاہدے کی خبریں عام تھیں اس صورتحال میں سندھ کے تقریباً ستر فیصد شہروں گوٹھوں میں پیپلز کے خلاف کسی کا نکلنا بذات خود اہمیت رکھتا ہے۔ قومی سطح کی قیادت جیسا کہ نواز شریف نے ہمیشہ سندھ کو سیاسی طور پہ نظر انداز رکھا دو ہزار آٹھ کے بعد انہوں کچھ ملاقاتیں تو کیں مگر بات آگے نہ بڑھ سکی۔
تحریک انصاف نے ایک کوشش کی ہے گو کہ یہ کوشش پیپلز پارٹی کے مارچ کے ردعمل میں ہے۔ مگر علی زیدی کہتے ہیں کہ اس سے پارٹی الیکشن کی تیاریوں کے لیے منظم ہوگی تحریک انصاف کے سندھ اسمبلی کے اراکین مختلف شہروں میں جاکر وہاں کی طبی تعلیمی صورتحال دکھاتے رہے ہیں اور اس سے پیپلز پارٹی کو قدرے پریشانی بھی ہوئی تو اس صورتحال میں تحریک کا نکلنا اس حد تک ضرور اہمیت رکھتا ہے۔ پیپلز پارٹی کی مخالف عوامی سرگرمی شروع ہوئی اس کا تسلسل ہی کامیابی کی راہ سجھا سکتا ہے۔
سندھ میں بھٹو کا ووٹ ہونے کے ساتھ پیپلز پارٹی کی سیاسی انتظامی گرفت بھی اہمیت رکھتی ہے۔ سندھ بھر کے وڈیروں کی اکثریت پیپلز پارٹی کے ساتھ ہے۔ پیپلز پارٹی کے مخالفین دعویٰ کرتے ہیں کہ جو ان کے ساتھ نہیں جاتا انہیں مقامی وڈیروں کے ذریعے ڈرایا دھمکایا جاتا ہے جس پھر پولیس کے ذریعے مقدمات درج کر کے پیچھے ہٹنے پہ مجبور کیا جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے ناقدین کہتے ہیں۔ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ سندھ میں کوئی کھل کر پیپلز پارٹی کے خلاف سامنے نہیں آتا۔


