قوم کو تحریک عدم برداشت مبارک ہو


وہ عوام جنہوں نے تازہ ہوا اور تبدیلی کے شوق میں اتنے در بنا لئے کہ پوری دیوار چھلنی ہونے کے بعد گرنے کے درپے آ گئی، ان کے فیصلہ کا وقت آ گیا ہے کہ شکر کریں یا صبر۔ مگر اپنا تو یہ عالم کہ اب عادت سی ہو گئی ہے، کوئی تعریف کرے یا تنقید، فوری اس پر خوش یا نالاں اب نہیں ہوا جاتا۔ غمی ہو یا خوشی جب یہ دہلیز پار کر کے اندر آئے تو اپنے اور اس کے درمیان تھوڑا سا خلا رہنے دیں، اس معمولی وقفہ کے بعد اپنے آپ کو یا دوسرے کو ردعمل دیں۔ ضروری نہیں محنت، صبر اور حکمت کا تقاضا کرنے والی ہر چیز مصیبت ہی ہو کوئی چیلنج بھی تو ہو سکتا ہے یا تبدیلی!

سیاست اور ریاست دونوں ایسی چیزیں ہیں جنہیں اعتدال کا دامن چھوڑ کر نہیں چلایا جاسکتا۔ کسی لیڈر کو جب عوام چاہنے لگیں، تو دو ہی باتیں ہو سکتی ہیں، اول یہ وہ زیرک اور صاحب نظر ہونے کے سبب چاہا جانے لگا ہے، دوم عوامی چاہت میں حب علی نہیں بغض معاویہ ہے، متذکرہ دونوں پہلوؤں کا آمیزہ بھی ہو سکتا ہے۔ اگر وسعت نظر اور پریکٹیکل پرسن ہونے سبب چاہا گیا ہے تو وہ قیادت ہے، بصورت دیگر سیاست دان ہے۔ اچھا لیڈر ان عوامل کو دوربین اور خوردبین سے دیکھ کر پہلے الگ الگ جدول میں رکھتا ہے، اور پھر آگے چلتا ہے تاکہ گلشن کا کاروبار چلے۔

اور کسی لیڈر کے پرستاروں اور دوسری و تیسری صف کے سیاستدانوں کا بھی ایک نمایاں کردار ہوا کرتا ہے، کہ وہ اپنے لیڈر کی حرکات و سکنات کے ساتھ تخریب کار یا تنقید نگار بن کر نہیں تعمیر ساز بن کر جڑے رہیں، اپنی گزارشات و نگارشات قائد کے سامنے رکھیں، صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنے کی جرآت رکھیں گو یہ ہمارے کلچر کا حصہ نہیں۔ گر یہ کلچر کا حصہ نہیں تو جمہوریت کلچر کا حصہ کیسے ہو سکتی۔

اصولاً تو جمہوریت کو اب کلچر نہیں تہذیب ہو جانا چاہیے تھا۔ مانا کہ میاں نواز شریف اینڈ فیملی کہاں سنتی ہے، میاں نواز اسمبلی میں اپنے ایم این ایز کو کہا قربتیں بخشتے تھے؟ پھر حال ہوا اسے زمانے نے دیکھا، پنجاب اور کے پی نے شریف خاندان کے تجربے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عمران خان کی ناتجربہ کاری کو جلا بخش دی۔ لیکن ایک بات بہرحال یاد رکھئے میڈیا مینجمنٹ اور ترقیاتی کاموں کا امتیاز شریف خاندان سے ہنوز کوئی نہیں چھین سکا۔

بھٹو کی گاڑی سے ہمیشہ دانشور برآمد ہوتے تھے پراپرٹی ڈیلر نہیں، ان کا جاہ و جلال لاہور کے ایک ہوٹل کا کمرہ نمبر 104 ہی تھا کسی ”لاہور بلاول ہاؤس“ کی ضرورت نہیں پڑی، اور نہ کسی ایک میڈیا سنٹر کے مالک کی جوڑ توڑ، مناپلی، یا دانشوروں کو ملنے کے این او سی کی ذمہ داری سونپی جو آصف علی زرداری نے سونپ رکھی ہے۔ جب آصف علی زرداری روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے اور منشور کو تقویت نہ بخش سکے اور شریف برادران سبز خوشحال پاکستان کی بنیاد نہ رکھ سکے، تو عمران کا ”تبدیلی“ کی خشت اول رکھنے کا جادو عوام کے سر چڑھ کر بولا۔

اس میں اپنی جگہ کوئی شک نہیں کہ زرداری صاحب کا سی پیک، این ایف سی ایوارڈ، 18 ویں ترمیم اور مجموعی طور پر پیپلز پارٹی کا عمدہ خارجہ پالیسی، ملازمین ویلفیئر، میثاق جمہوریت اور آئین سازی میں کوئی دور دور تک مقابل نہیں۔ مگر کچھ تو غلطیاں سرزد ہوئیں جو پیپلز پارٹی پر اسٹیبلشمنٹ کا جادو چلا یا چاروں صوبوں کی زنجیر کا تاثر اور ثبوت پاش پاش ہو گیا!

پیپلز پارٹی، نون لیگ اور پی ٹی آئی میں سیاسی جنگ ایک فطری معاملہ ہے، اگر آج پیپلز پارٹی اور نون لیگ میں نزدیکیاں ہیں تو کل دوریاں بھی ہوں گی، عین ممکن ہے کسی موقع پر پی ٹی آئی اور پی پی پی میں قربتیں پروان چڑھیں۔ آج جو مولانا فضل الرحمٰن کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کل انہی عمران خان نے مولانا کو وزارت عظمیٰ کے امیدوار بننے پر ووٹ بھی دیا تھا، ایک موقع پر مشرف کی ریفرنڈم مہم میں (جو صریحاً جعلی استصواب رائے تھا) میں خان پیش پیش تھے پھر مولانا، قاضی حسین اور پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی مشرف مخالفت میں کھڑے ہوئے۔

یہ سب سیاست کا حصہ، کبھی کسی نے سوچا بھی نہ تھا بھٹو کی پھانسی پر مٹھائی بانٹنے والا چوہدری ظہور الٰہی کا خاندان (پرویز الٰہی) بھٹو کی پارٹی کا ڈپٹی وزیر اعظم بھی بنے گا۔ یہ بھی کب کسی نے سوچا تھا کہ ضیائی لیڈر میاں نواز شریف اور بھٹو کی بیٹی بیٹھ کر میثاق جمہوریت پر بھی دستخط کر کے مشترکہ طور سے جمہوریت تراشیں گے۔

حیرانی تو یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان جو یورپ سے روس اور امریکہ تک کی سیاست کے متعلق ببانگ دہل دعویٰ کرتے ہیں کہ مجھ سے زیادہ انہیں کوئی نہیں جانتا، وہ پاکستانی سیاست اور تاریخ ہی سے نہیں جمہوریت و وزارت عظمیٰ کے آداب ہی سے ایسے نا آشنا نکلے، کہ رہے نام اللہ کا۔ جب 1973 کا آئین تشکیل پا رہا تھا تو زور زبردستی سے اپوزیشن کو کچل کر نہیں اپنے دور کے جید علماء و فقہاء، محدثین و مجتہدین، دانشوران و لیڈران کو اعتماد میں لیا گیا۔

اب، اگر ہم 74 سالوں بعد بھی اپنے ہم عصر اور ہم عمر ممالک سے معاشی طور سے بہت پیچھے ہیں تو وہ سیاسی قول و فعل کے تضاد، جمہوری روح کے برعکس اور سائنس و ٹیکنالوجی جیسے بنیادی اور لازمی معاملات سے سوتیلے پن کی بدولت۔ جس ملک نے بھی ریسرچ کے اطوار، ترقیاتی شاہکار اور جمہوری افکار کو پروٹوکول دینے کے بجائے محض سیاست کاروں اور سول سرونٹس کو پروٹوکول دیا ہے وہ کامیاب و کامران ہو یہ ممکن نہیں۔ چھوڑئیے ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھروں یا آئی ایم ایف کے منہ پر اربوں ڈالر مارنے کو بس یہی کوئی بتادے کہ اصلاحات ہی کا وعدہ کتنا دیانتدارانہ اور عمل انگیز تھا؟

عدم اعتماد ہونا یا نہ ہونا یہ ایک جمہوری عمل ہے، یہ چیزیں اقوام کی زندگی میں آتی جاتی رہتی ہیں، ہو جائیں تو بھلی نہ ہوں تو بھلی، ہر بناؤ بھلا مگر ہر بگاڑ موت۔ لیکن چیلنجوں کے اس عالم اور قومی ضرورتوں کے اس زمانے میں اگر عدم برداشت ”تحریک عدم برداشت“ کے طور سے کامران ہو، تو ”تحریک“ انصاف کہاں ہے؟

Facebook Comments HS