المیہ

کیسا المیہ ہے کہ وہ سب لوگ جنھیں بات کرنے کی تمیز نہیں، جن کے لیے اپنے مخالفین کو سر عام گالیاں دینا، ان کی عزت اچھالنا معمول کی بات ہے۔ وہ سب لوگ ہمارے سیاسی رہنما ہیں۔
کیا المیہ ہے کہ جن کے پاس دکھانے کو کام نہیں لیکن دینے کو بے شمار گالیاں موجود ہیں، ہم انھیں سر پہ اٹھائے پھر رہے ہیں۔ جن کی بازاری زبان سن کر شرم آنے لگتی ہے، جو ایک دوسرے کے گھر کی خواتین تک کی چادر کھینچنے میں لگے ہوتے ہیں، ہم ان کو فخر سے اپنا لیڈر کہہ رہے ہوتے ہیں۔
کیا المیہ ہے کہ وہ لوگ جنھیں دیکھ کر، سن کر گھن آنے لگتی ہے، انھیں میرے وطن کے باسی اپنا نمائندہ مانتے ہیں۔ ان کے لیے ایک دوسرے کی جان کے درپے ہوئے ہوتے ہیں۔
کیا المیہ ہے کہ ہم ان گھٹیا لوگوں کو نہ صرف ووٹ دیتے ہیں بلکہ ان کے لیے اپنی اخلاقیات کا جنازہ نکالنے کو بھی تیار پھر رہے ہوتے ہیں۔
کیا المیہ ہے کہ ہم اپنے من پسند سیاستدانوں سے ان کے دور حکومت میں کیے گئے کاموں سے متعلق سوال کرنے کے بجائے بس ان کے مخالفین کو نیچا دکھانے کی کوشش میں جتے رہتے ہیں۔
کیا المیہ ہے کہ ہمیں یہ بھی علم نہیں کہ ہمارا ووٹ لے کر اسمبلی میں جانے والے لوگوں پہ کیا کیا ذمہ داریاں آتی ہیں۔ ان کے ذمے کون کون سے فرائض ہوتے ہیں اور جب ہمیں یہی علم نہیں تو ہم کیسے جان سکیں گے کہ ہمیں اپنے حقوق حاصل بھی ہو رہے ہیں کہ نہیں
کیا المیہ ہے کہ بری طرح شخصیت پرستی کا شکار ہوئی ہماری قوم آنکھیں بند کیے اپنے اپنے بت کو پوجے جا رہی ہے۔ اس کی گندگی اور غلاظت کو مٹانے کے بجائے دوسرے بتوں کی گندگی اور غلاظت کو مزید واضح کرنے میں لگی رہتی ہے۔ اور سمجھتی ہے کہ اس طرح اس کے اپنے بت کی گندگی چھپ جائے گی اور اس سے کراہت آنا ختم ہو جائے گی۔
کیا المیہ ہے کہ یہ قوم میری قوم ہے اور مجھے اسی کے ساتھ جینا مرنا ہے۔ جس کی اخلاقیات اس حد تک گر چکی ہیں کہ اپنے لیڈران کے منہ سے نکلتا کوڑا کرکٹ انھیں بالکل درست اور جائز لگتا ہے۔ جن کی عقل اور سمجھ پہ اس حد تک پردے پڑ چکے ہیں کہ یہ مفاد پرستوں کے ٹولے کی انگلیوں پہ اندھا دھند ناچ رہے ہیں۔ جن میں شعور کی اتنی کمی ہے کہ اپنے سے کم تر اور کم ظرف لوگوں کو اپنا رہنما، اپنا مسیحا مانتے ہیں۔ جن کو ایک ہی سوراخ سے بار بار ڈسا جا رہا ہے اور وہ خوشی خوشی اپنا تن من پیش کیے جا رہے ہیں۔
کیا المیہ ہے کہ میں اس سب پہ کڑھنے کے علاوہ کچھ کر بھی نہیں سکتا۔

