نئی شادی کی تیاریاں


شادیوں کا موسم ہے اور خوب شادیاں ہو رہی ہیں، شادی ہالز بھرے ہیں، کوئی دن خالی نہیں، جن کو شادی ہالز میسر نہیں یا وہاں جانے کی سکت نہیں وہ گلی، محلوں اور سرکاری جگہوں کو اپنے باپ دادا کی جائیداد سمجھ کر پنڈال سجائے ہوتے ہیں۔ شادی کرنا اچھی بات ہے، ہر مذہب میں، ہر معاشرے میں اسے مقدس سمجھا جاتا ہے، خوشی کے خوبصورت لمحات سبھی کو ملیں، یہی ہر ایک کی دعا بھی ہونی چاہیے۔

شادیاں بھی مختلف قسم کی ہوتی ہیں، بے جوڑ شادیاں، بے رنگ شادیاں۔ پہلی، دوسری اور تیسری شادی۔ اس میں لو میرج اور ارینج میرج بھی شامل ہیں۔ سب سے تکلیف دہ وہ شادی ہوتی ہے جو کسی کی طلاق کروا کر کی جائے، یہ تکلیف شادی کرنے والے کو نہیں بلکہ جس کی طلاق کروائی جاتی ہے اس کو ہوتی ہے۔ اگر یہ شادی ”عدت“ میں ہی کرلی جائے تو حرام ہوجاتی ہے، اسے آپ غیر مناسب یا مکروہ بھی کہہ سکتے ہیں۔

محبت کی شادی کا معاملہ وقتی طور پر آسان اور پر لطف ہوتا ہے، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ عمل تکلیف دیتا ہے، کبھی کبھار تو میاں بیوی کو سرخ جوڑے کے بجائے سفید لباس میں لپٹنا پڑتا ہے، کئی افراد کی قربانی دینی پڑتی ہے۔

رہی بات ارینج میرج کی تو یہ بہت دلچسپ بھی ہوتی ہے اور تکلیف دہ بھی۔ جو شادی کروانے والے ہوتے ہیں وہ تو لطف اٹھاتے ہیں لیکن جن کی ہو رہی ہوتی ہے وہ اذیت میں ہوتے ہیں، ہر شادی میں ایسا نہیں ہوتا لیکن اکثر میں ایسا ہوتا ہے۔ ارینج میرج میں رشتہ والدین تلاش اور فائنل کرتے ہیں۔ جہیز میں کیا دینا کیا لینا ہے، کھانا کیا پکے گا، قاضی کون ہو گا، بارات کیسے اور کتنے بجے آئے گی، نکاح کب ہو گا، مہر کتنا طے ہو گا، لڑکی کا سر پکڑ کر تین بار کون ہلائے گا اور ’قبول ہے، قبول ہے‘ کہتے ہوئے ہوا میں چھوہارے کون اچھالے گا؟ یہ سب دلہن کے بڑے ہی طے کرتے ہیں۔ لڑکے اور لڑکی کو صرف دولھا دلہن کا کردار نبھانا ہوتا ہے۔ لڑکی رشتے سے انکار کرنے کا سوچے بھی تو اسے طرح طرح سے دھمکایا جاتا ہے۔

پاکستانی معاشرے میں یہ عام رواج ہے۔ کبھی غلطی سے عوام ’لو میرج‘ کر بھی بیٹھے تو سازشی اسے بہت جلد تڑوا دیتے ہیں۔ پچیس جولائی 2018 کی منگنی کے بعد 18 اگست کو ہونے والی ’ارینج میرج‘ تو سبھی کو یاد ہو گا۔ اس شادی نے ’کامیابی‘ سے ساڑھے تین سال پورے کر لئے ہیں۔ اس شادی کے حق میں جو لوگ تھے ان میں سے زیادہ تر نالاں نظر آتے ہیں، کچھ خاموش ہیں لیکن جو مخالف تھے وہ اب تک ماتم کناں ہیں۔

لیکن یہ شادی کتنی کامیاب رہی ہے اس کا اندازہ سسرالیوں اور میکے والوں کی چیخوں سے لگایا جاسکتا ہے۔ حق مہر میں طے پانے والی شرائط پر عمل سے جانچا جاسکتا ہے۔ اس شادی کو کامیاب بنانے کے لیے کیا کیا جتن نہیں کیے گئے۔ کس کس کو جیل میں نہیں ڈالا گیا۔ دولہے کو مہندی لگانے والے، شہ بالا تک کو نہیں بخشا گیا، بارات پر نوٹ لٹانے والے تک پریشان ہیں۔ پس پردہ نکاح میں ساتھ دینے والا کہتے ہیں کہ ’مجھے جیل والے بہت تنگ کرتے ہیں۔ ‘

دولہا بظاہر مطمئن نظر آتا ہے، لیکن اس کی چیخوں اور دھمکیوں سے لگتا ہے کہ یہ بندھن آگے نہیں چل پائے گا، اس کی بے چینی کی بڑی وجہ مخالفین میں اتحاد ہے یا گواہوں کی دلہن کے مسائل سے عدم دلچسپی ہے۔ زبانی طور پر بڑے بڑے دعوے کرنے والی اپوزیشن میں وقفے وقفے سے اختلاف نظر آتا رہتا ہے۔ چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک اعتماد میں ناکامی میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔

اب سارا ”شریکہ“ ہاتھ دھو کر اس بندھن کے پیچھے پڑ گیا ہے، وہ اس کو تڑوا کر نیا بندھ باندھنا چاہتا ہے، ایک عرصے سے سازشیں جاری ہیں، ایک عرصے سے یہ بندوبست کیا جا رہا ہے، بندھن تڑوانے کے لئے 172 بندے پورے کرنے ہیں لیکن ان کے پاس 163 ہیں۔ ابھی تک یہ بھی یقین نہیں کہ سب کے سب ساتھ رہیں گے یا نہیں۔ دوسری جانب 18 اگست کی شادی میں شامل ہونے والے باراتی نکھرے دکھا رہے ہیں۔ وہ ابھی تک خاموش ہیں کوئی بات واضح نہیں کر رہے ہیں۔ وہ ادھر ہیں یا ادھر، آر ہیں یا پار کچھ واضح نہیں۔

دولہا کے اپنے رشتہ داروں میں پھوٹ پڑ چکی ہے، کہتے ہیں کہ ”پلس“ کو ”مائنس“ کرو پھر ہم ساتھ دیں گے۔ دولہا بھی ضد ہے۔ کہتا ہے میں پلس کو اتنا پلس کروں گا کہ ”زیرہ پلس“ بنا دوں گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ناراض میکے والے نئی ڈش سے منہ میٹھا کرتے ہیں یا نہیں بس چند دنوں کی بات ہے۔

دوسری جانب ”شریکہ“ یعنی کے اپوزیشن اس بندے کا نام نہیں ظاہر کر رہی جس کو ”طلاق“ کے بعد بندھن میں جوڑا جائے گا، تیاریاں مکمل ہیں لیکن تاش کے پتوں کی طرح ابھی تک کارڈز اپنے سینوں سے لگا رکھے ہیں۔ مخبر کہتے ہیں کہ نیا دولہا چن لیا گیا ہے، یہ بندھن اگلے ڈیڑھ سال تک چلے گا۔

بنیادی فیصلہ لندن کے بڑے کا ہے سبھی نے ان کے فیصلے پر آمین کہا ہے، یہ ان کی مشاورت سے ہی ہوا ہے، گھر کے مسئلے حل ہوں گے یا نہیں۔ فوری تو یہ حل ہوتے مشکل نظر آرہے ہیں، کسی کو بھی موجودہ صورتحال سے نکلنا مشکل ہے۔ معاشی مشکلات ”دلہن“ کو جہیز میں ملے گا۔ جو بھی ہو اچھے کے لئے ہو۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments