بھارتی پنجاب میں عام آدمی پارٹی کی جیت


بھارت میں حالیہ ہونے والے ریاستی انتخابات میں بھارتی پنجاب میں عام آدمی پارٹی نے میدان مار لیا ہے۔ عام آدمی پارٹی ریاستی اسمبلی کی 117 میں سے 92 نشستیں جیت کر اکیلے حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ ان انتخابات میں بھارتی پنجاب کی سیاست کے بڑے بڑے برج الٹ گئے ہیں۔ ہمارے وزیراعظم کے دوست اور سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو جو کہ امرتسر سے کانگریسی اتحاد کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے تھے اپنی نشست ہار گئے۔ پنجاب کے موجودہ وزیر اعلی کو دونوں نشستوں سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

سب سے بری حالت بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہوئی جو کہ صرف دو نشستیں حاصل کر سکی۔ عام آدمی پارٹی وجود میں آنے کے بعد پہلی بار دہلی کے علاوہ کسی دوسری ریاست میں حکومت بنانے جا رہی ہے۔ بھارتی پنجاب کے عوام نے دونوں روایتی جماعتوں اور سیاستدانوں کو شکست سے دوچار کر دیا ہے۔ بھارتی جنتا پارٹی کی شکست کی بڑی وجہ وہ قانون سازی ہے جو کہ کسانوں کے استحصال کے لیے کی گئی۔ اسے ختم کروانے کے لیے کسان خواتین، بچے بوڑھے، جوان سب مرکزی حکومت کے خلاف احتجاج کرتے رہے یہاں تک کہ بھارتی جنتا پارٹی کو یہ قانون واپس لینا پڑا۔ اس کے باوجود بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کو عوام نے ووٹ دینا مناسب نہ سمجھا دوسری طرف حکمران جماعت جو کہ اگرچہ کسان کے استحصالی قانون کے خلاف عوام کے شانہ بشانہ تھی وہ بھی اپنی حکومت کو بچانے میں کامیاب نہ ہو سکی۔

عام آدمی پارٹی کی بنیاد اروند کجریوال نے اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ مل کر 2012 میں رکھی۔ اروند کجریوال ایک بیوروکریٹ تھے۔ انا ہزارے کی سماجی اصلاحات اور کرپشن کے خاتمے کی تحریک کے حامی تھے۔ تاہم انہوں نے انا ہزارے کے برعکس عملی سیاست میں حصہ لے کر عوامی خدمت کا فیصلہ کیا۔ عام آدمی پارٹی کو 2013 میں پہلی بار دہلی میں حکومت بنانے کا موقع ملا لیکن سادہ اکثریت نہ ہونے کے باعث یہ حکومت زیادہ عرصہ نہ چل سکی اور صرف 49 دن کے بعد اروند کجریوال نے خود حکومت چھوڑ دی اور دوبارہ عوام میں جانے کا فیصلہ کیا۔

انتخابات میں بھرپور مینڈیٹ حاصل کرنے کے بعد اروند کجریوال 2015 میں دہلی کے وزیراعلیٰ بنے۔ تب سے لگاتار اس عہدے پر براجمان ہیں۔ اپنی وزارت اعلی کے دوران کجریوال حکومت نے دہلی کے عوام کی زبردست خدمت کی۔ تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ، شہری آمدنی میں اضافہ، صاف پانی کی فراہمی، اور نظم و نسق سمیت ہر شعبے میں مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

دہلی کے ہر گھر کو 200 یونٹس تک بجلی مفت دی جاتی ہے۔ 200 سے 400 یونٹس تک پچاس فیصد قیمت پر بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ جس سے دلی کے تقریباً 14 لاکھ افراد مفت بجلی کی سہولت سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ صحت کا مثالی نظام بنایا۔ ہسپتال قائم کیے جہاں شہریوں کو مفت علاج معالجہ کی سہولت میسر ہے۔ سکولوں میں جدید سہولیات مہیا کیں۔ سینکڑوں نئے سکول بنائے۔ اساتذہ کی بیرون ملک تربیت کا اہتمام کیا۔ یہاں تک کہ دہلی کے کچھ سرکاری سکول بھارت کے ٹاپ سکولوں کی فہرست میں شامل ہو گئے۔

شہریوں کو مفت ٹرانسپورٹ، مفت وائی فائی ہاٹ سپاٹ سمیت بے شمار سہولتیں دی گئیں۔ صاف پانی کی فراہمی جو کہ آج کے دور کا خاص کر بڑے شہروں کا ایک اہم مسئلہ ہے، کو یقینی بنایا گیا۔ شہری سروسز جیسا کہ ڈرائیونگ لائسنس وغیرہ کی سہولت گھر کی دہلیز پر مہیا کی گئی۔ حادثے کا شکار لوگوں کو ہسپتال پہنچانے والے کے لیے دو ہزار روپے انعام مقرر کیا گیا، جس سے ہزاروں افراد حادثات میں زخمی ہونے کے باوجود بروقت طبی امداد کی فراہمی سے زندہ بچ گئے۔

عام شہریوں کی ماہانہ آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا۔ عوامی فلاح کے بے شمار منصوبے اور اقدامات کیے گئے ان اقدامات کو اقوام متحدہ کے اداروں سمیت کئی غیر ملکی اداروں نے بھی سراہا۔ عام آدمی پارٹی کے دور حکومت میں حکومت کا کوئی مالیاتی اسکینڈل سامنے نہیں آیا۔ کثیر تعداد میں مفت سہولیات دینے کے باوجود دہلی کی ریاستی آمدنی بھارت کی مرکزی جی ڈی پی کے برعکس لگاتار رہی ہے۔ حکومت کی ٹیکس وصولی میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے۔

دیگر سیاسی جماعتوں کے برعکس، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی جو کہ صرف مذہب، ہندو، مسلمان اور پاکستان کے کارڈ پر ہر الیکشن لڑتی ہے، عام آدمی پارٹی نے عوام کی خدمت کر کے لوگوں کے دل جیتے۔ دلی کی شہری سہولتوں کی فراہمی اور عام آدمی پارٹی کے نظم و نسق سے متاثر ہوتے ہوئے حالیہ انتخابات میں بھارتی پنجاب کے لوگوں نے اس پر بھرپور اعتماد کیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی نفرت کی سیاست کو پنجاب کے لوگوں نے اہمیت نہ دی، بلکہ عام آدمی پارٹی کے عوامی فلاح کے ماڈل کو چنا۔

اس انتخاب کے بعد عام آدمی پارٹی یقیناً قومی سطح کی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ اگر حکومت میں آنے کے بعد وہ پنجاب کے شہریوں کو بھی اسی طرح شہری سہولیات مہیا کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، جیسا کہ دہلی میں ہے، تو دیگر ریاستوں میں بھی اس کی مقبولیت میں اضافہ ہو گا۔ ہندوستان میں کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی جیسی بڑی اور روایتی سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں دہلی اور پنجاب میں عام آدمی پارٹی کی جیت میں ہماری سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں کے لئے بھی کئی سبق ہیں، اگر وہ انہیں حاصل کرنا چاہیں۔

ہمارے وزیر اعظم جناب عمران خان صاحب اور ان کی جماعت مرکز اور پنجاب میں پہلی بار جب کہ خیبرپختونخوا میں مسلسل دوسری بار حکومت میں ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی متعدد بار مرکز جبکہ پچھلے چودہ سال سے لگاتار سندھ پر حکمرانی کر رہی ہے۔ اسی طرح مسلم لیگ نواز مرکز اور پنجاب پر کئی بار حکمرانی کر چکی ہے۔ مولانا فضل الرحمان بھی ماضی میں کئی حکومتوں کا حصہ رہے۔ حالیہ خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں بھی انہیں خاطر خواہ کامیابی ملی ہے۔

ایم کیو ایم اور عوامی نیشنل پارٹی سمیت تقریباً تمام جماعتیں کسی نہ کسی دور میں حکومت کا لطف اٹھاتی رہی ہیں۔ لیکن پاکستان کے کسی علاقے، صوبے یا شہر کے لوگ ابھی ان سہولتوں کا سوچ بھی نہیں سکتے جو کہ دہلی کی ریاستی حکومت پچھلے کئی سال سے اپنے شہریوں کو دے رہی ہے۔ ہماری سیاست آج بھی عدم اعتماد اور سازشوں کے بیج پھنسی ہوئی ہے۔ عوامی نمائندوں کی بولیاں لگ رہی ہیں۔ غیر ملکی مداخلت کی دہائی دی جا رہی ہے۔ سیاستدان باہم دست و گریباں ہیں۔

اور عوام سیاستدانوں کی لڑائی کی وجہ سے کرپشن، بدانتظامی، مہنگائی اور عدم تحفظ جیسے بے شمار مسائل کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ہر سیاستدان دوسرے سیاستدان کی ٹانگیں کھینچنے میں مصروف ہے۔ ہر سطح پر جسے جو مینڈیٹ جتنے عرصے کے لیے ملا ہے اگر وہ اسے عوامی خدمت اور فلاح کے منصوبوں کے لیے وقف کر دے تو یقیناً ہمارے ملک کی کایا پلٹ سکتی ہے۔ سیاسی استحکام کے ساتھ موجود وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے عوامی فلاح کے کئی کام کیے جا سکتے ہیں۔

بھارت میں عام آدمی پارٹی نے ایک کے بعد دوسری ریاست میں جس طرح بڑی اور روایتی سیاسی جماعتوں کو شکست دی ہے اس سے ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں کو سبق سیکھنا چاہیے۔ جلد یا بدیر لوگ ان کے گھسے پٹے نعروں سے متاثر ہونا چھوڑ دیں گے۔ عوامی فلاح کے کاموں میں ہی سیاست اور جمہوریت کا مستقبل ہے۔ جو اسے اپنائے گا وہی مسند حکومت کا حق دار ٹھہرے گا۔

Facebook Comments HS